تماس با من
پروفایل من
آرشیو وبلاگ
      درواز Darwaaz (ویبلاگ آزاد- ناشرمطالب سیاسی، فرهنگی و تاريخی)
زبان فارسی ودشمنان آن نویسنده: - ۱۳۸٩/٩/۱

 

قــاضی حســین احمــد: بــا فــارســی ســتیزی افغــانســتان تجــزیه خــواهــد شــد.

   

قاضی حسین احمدنویسنده: قاضی حسین احمد
مترجم: محمد ناصح

حــزب قــومپــرست افغــان مــلت در تــلاش است تـا با آتــش زدن بـه خــرمــن زبانهــا زمینــۀ تجــزیۀ افغــانســتان و پــاکســتان را میســر ســازد.
یاد داشت مترجم: مقالۀ قاضی حسین احمد، رهبر حزب جماعت اسلامی پاکستان، زیر عنوان "سازشی برای تجزیۀ امت اسلامی بر بنیاد های زبانی" در روزنامۀ پر تیراژ "جنگ" پاکستان و نیز وبسایت "اسلام تایمز" دو روز پیش از عید قربان به نشر رسیده است.
قاضی صاحب که از پشتونهای پاکستان است رابطۀ چنان تنگاتنگی با گلبدین حکمتیار داشت که عدۀ از هوا دارانش در زمان راکت پرانی بالای کابل مظلوم در سنگر های حکمتیار صف کشیده بودند.

جالب اینکه مقالۀ دلسوزانۀ قاضی صاحب با پیام عیدی خیلی زنندۀ حکمتیار "برای ملت افغانستان" همزمان شده است (احتمالأ روی تصادف) در حالیکه در نیت خیر مقالۀ قاضی نمیتوان تردید کرد، دوست بیقرار و اصلاح ناپذیرش یعنی حکمتیار در پیام خود از اقوام ازبک، تاجک و هزاره نامگرفته به زشتی یاد کرده و شیعیان - یا بگفتۀ او "روافض" - را در قطار منافقین، یهود و نصارا قرار داده است

 

اینک ترجمۀ مقالۀ قاضی صاحب زیر عنوان "اُمت مسلمہ کو لسانی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی سازش"

پیش از آمدن انگیسها به سرزمین هند، فارسی زبان رسمی و علم و ادب در آن نیم قاره بود. عدۀ از شعرای نامور زبان فارسی نیز از آن خطه سر بلند کرده اند

فارسی اهمیت علمی و فرهگی اش را بعد از تسلط انگلیسها بر هند برای مدتهای طولانی همچنان حفظ کرد. علامه اقبال، فیلسوف و شاعر نامور که هفتاد یا هشتاد سال قبل در نیم قارۀ هند بدنیا آمده بود از فارسی بعنوان وسیلۀ برای پخش پیام هایش به سایر مسلمانان استفاده میکرد. اگرچه نسل جوان پاکستانی از اشعار فارسی اقبال آگاهی چندانی ندارند، پیامهای اقبال یکی از عوامل بیداری در کشور های افغانستان، ایران و آسیای میانه بوده است

برای پارچه پارچه نمودن مسلمانان، انگلیسها ابتدا دانشجویان مدارس رسمی را از فرا گرفتن زبان قرآن یعنی عربی محروم کردند و سپس انگلیسی را جایگزین فارسی نموده تا باشد رابطۀ مسلمانان هند را با دنیای وسیع فارسی زبان قطع نمایند

فارسی از زمانه های باستان زبان رسمی، علمی و فرهنگی سرزمین افغانستان بوده و اکثر پشتونها هم به حاکمیت آن ارج میگزاشته و فقط به تکلم به زبان پشتو در محلات شان اکتفاء میکرده اند

فارسی در صوبه سرحد (مناطق پشتون نشین پاکستان) نیز همیشه زبان علم و ادب بوده است. من تحصیلاتم را از خانه با زبان شیرین فارسی اغاز کردم. تمام نوشته ها و مکاتبات پدرم به فارسی بودند. اجداد من برای صد ها سال در قضاء کار میکردند و تمام اسناد باقیمانده از ایشان به زبان فارسی اند

اروپاییان امپریالست پس از زبان عربی، زبان فارسی را هدف قرار داده تا مسلمانان را پارچه پارچه کنند. روی این ملحوظ حرکات قومگرایانۀ پشتونی را حمایت کرده تا میان پشتونها و فارسی زبانان درز ایجاد کنند

برای حفظ وحدت افغانستان، نادرشاه و پسرش ظاهر شاه که خود پشتون بودند نه تنها فارسی را زبان خانواده گی خویش بلکه آنرا بحیث زبان رسمی و تعلیمی کشور نیز پزیرفتند. از خانوادۀ سلطنتی عدۀ انگشت شماری هم به زبان پشتو روان حرف زده نمیتواند. و اکثر قبایل پشتون در ادبیات از فارسی بهره میگیرند

قبل از هجموم روسها به خیوه و بخارا، فارسی زبان رسمی آن سرزمین ها بود. مردم ترکیه اکثرأ مسلط به زبان فارسی بودند. پیامهای مولانای روم بخاطری به فارسی بود که زبان رسمی آسیای مرکزی، ایران، خراسان (افغانستان) و هندوستان بود

بعد از اضمحلال حکومت های خیوه و بخارا، به بهانۀ موجودیت لهجه های مختلف ترکی، روسها آسیای مرکزی را به کشور های ازبکستان، قزاقستان، ترکمنستان، قیرغیزستان و آزربایجان تجزیه نموده و روسی را جایگزین زبان فارسی نمودند

اگر چه انشااله افغانستان تجزیه نخواهد شد ولی کوشش های فراوانی در جریان است تا تنش های زبانی را درین کشور تا حدی دامن زنند که همزیستی مسالمت آمیز میان فارسی زبانان و پشتونها ناممکن شود. حزب قومپرست افغان ملت در تلاش است تا با آتش زدن به خرمن زبانها زمینۀ تجزیۀ افغانستان و پاکستان را میسر سازد

برای خنثی نمودن چنین تحرکاتی ما جنبش ضد جدایی طلبی را در هردو کشور به راه انداخته بودیم. با وجود موفقیت های آن جنبش، ولی بخاطر بیخردی زمامداران پاکستان اکثر مردم افغانستان حالا پاکستان را دشمن و هند را دوست تلقی میکنند

حالا برای زمامدران پاکستانی لازم است تا در سیاست افغانی شان بازنگری جدی نموده تا نشود که این دو کشور با وجود اینهمه قربانیها بر بنیاد های زبانی تجزیه گردند. با داشتن دین، تاریخ و فرهنگ مشترک، مردمان ما میتوانند که یکدیگر را به آغوش کشیده و سد راه تجزیه شوند


                     درپایان هم اصل مقاله



اُمت مسلمہ کو لسانی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی سازش
اسلام ٹائمز:فارسی اور پشتو تعصب کی بنیاد پر اگرچہ افغانستان تو انشاء اللہ تقسیم نہیں ہو گا،لیکن پوری کوشش ہو رہی ہے کہ افغانستان میں یہ تعصب اس قدر شدت اختیار کر جائے کہ دونوں گروہوں کا محبت اور امن کے ساتھ جینا محال ہو جائے
اُمت مسلمہ کو لسانی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی سازش
تحریر:قاضی حسین احمد 
انگریزوں کی آمد سے قبل برصغیر ہندو پاک اور افغانستان کی علمی اور دفتری زبان فارسی تھی۔برصغیر میں بڑے بڑے فارسی شعراء پیدا ہوئے،انگریزوں کی آمد کے بعد بھی مدت تک فارسی کی علمی و ادبی حیثیت برقرار رہی۔اسی نوے سال قبل برصغیر میں علامہ محمداقبال رہ جیسا نابغہ روز گار فلسفی اور شاعر پیدا ہوا،جنہوں نے فارسی زبان کو اپنا پیغام امت مسلمہ تک پہنچانے کا ذریعہ بنایا۔یہ فارسی کی برکت ہے کہ اقبال کے فارسی کلام سے اگرچہ پاکستان کی نئی نسل نا آشنا ہے لیکن افغانستان،ایران اور وسط ایشیا میں ان کا پیغام بیداری کی لہر پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔
اُمت مسلمہ کو تقسیم کرنے کے لئے انگریزی استعمار نے ایک طرف تو عربی زبان سے سرکاری اداروں میں پڑھنے والے طلبہ کو محروم کر دیا،جو قرآن کی زبان ہے اور جس کے ذریعے عالم اسلام آپس میں مربوط تھا،تو دوسری طرف فارسی کی جگہ انگریزی زبان کو دفتری زبان بنا کر فارسی لکھنے اور سمجھنے والے وسیع علاقے سے برصغیر کے مسلمانوں کا رابطہ منقطع کر دیا۔انگریزوں کے بعد دوسری زبان کے طور پر اردو یا علاقائی زبانوں نے لے لی۔زبان کے مسئلہ کی وجہ سے مشر قی اور مغربی پاکستان اکٹھے نہ رہ سکے۔اُردو کو بھی جو کسی حد تک رابطے کی زبان کے طور پر مغربی پاکستان کو آپس میں جوڑے ہوئے ہے۔مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے اور تعلیمی اداروں میں اس کی جگہ انگریزی لے رہی ہے۔ 
علیحدگی کی سیکولر علاقائی تحریکوں کے ذریعے اُردو کے بارے میں مسلسل پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ ہم میں سے کسی کی زبان نہیں اور ایک اقلیتی طبقے کی زبان کو ملک کی اکثریت پر ٹھونسا جا رہا ہے۔اس کے نتیجے میں پنجابی،پشتو،سندھی اور بلوچی کی بجائے انگریزی کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔جسے سیکھنے میں ہماری عمریں گزر جاتی ہیںلیکن بہت کم لوگوں کو اس پر عبور حاصل ہو سکتا ہے۔ افغانستان میں بھی زمانہ قدیم سے فارسی علمی و ادبی اور دفتری زبان کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔پشتون اکثریت نے کبھی بھی اس پر اعتراض نہیں کیا تھا بلکہ پشتو کو مقامی بول چال کی زبان کے طور پر اختیار کرنے پر قانع تھے۔خود صوبہ سرحد یا خیبر پختونخوا میں علمی اور درسی زبان ہمیشہ فارسی رہی ہے۔
میں نے خود اپنی ابتدائی تعلیم اپنے گھر سے فارسی میں شروع کی۔میرے والد محترم خط و کتابت کے لئے فارسی زبان استعمال کرتے تھے۔ہمارے خاندان میں صدیوں سے قضا کا منصب چلا آیا ہے اور جتنا بھی پرانا ریکارڈ اس وقت ہمارے خاندان کے پاس موجود ہے وہ فارسی زبان میں ہے۔سید احمد شہید رحمتہ اللہ علیہ کے مجاہدین کا قافلہ جو ہندوستان سے قندھار پہنچا اور قندھاری مجاہدین کو ساتھ ملا کر پشاور پہنچا اور کئی سال تک پشاور میں حکومت کی۔انہوں نے فارسی ہی کو مقامی آبادی کے ساتھ رابطے کا ذریعہ بنایا۔
یورپین استعماری طاقتوں نے عربی کے بعد فارسی زبان کو ہدف بنایا تاکہ اُمت مسلمہ کو چھوٹی چھوٹی اکائیوں میں تقسیم کر دیا جائے،اس مقصد کے لئے افغانستان میں پختون نیشنلزم کی تحریک کو ہوا دے کر پشتو اور فارسی کی لڑائی شروع کر دی گئی،حالانکہ محمد ظاہر شاہ اور ان کے والد گرامی محمد نادر خان نے پشتون ہونے کے باوجود فارسی زبان ہی کو دفتری اور علمی زبان کے طور پر اختیار کیا اور افغانستان کو ایک رکھنے کی خاطر فارسی زبان کو اپنی گھریلو زبان بنا دیا اور اس وقت شاہی خاندان میں سے بہت کم لوگ روانی کے ساتھ پشتو بولنے کے قابل ہیں۔افغانستان کے اکثر پشتون قبائل نے فارسی زبان ہی کو اظہار خیال کا ذریعہ بنایا ہے۔
روسی استعمار سے قبل بخارا اور خیوا کی امارتوں کی دفتری زبان بھی فارسی تھی،خود ترکی میں اکثر لوگ فارسی جانتے تھے،مولانا جلال الدین رومی نے اپنا پیغام فارسی زبان میں اس لئے دیا کہ وسط ایشیا،ایران،افغانستان اور برصغیر ہندو پاک کی علمی زبان فارسی تھی۔روسی استعمار نے بخارا اور خیوا کی امارتوں کو توڑ کر پورے وسط ایشیا کو لہجوں کے تھوڑے بہت اختلاف کو بہانہ بنا کر ازبکستان،قازقستان،ترکمانستان،کرغیستان اور آذربائیجان میں تقسیم کر دیا۔حالانکہ یہ سب لوگ ترکی زبان کے مختلف لہجے بولنے والے لوگ ہیں۔روسیوں نے ان کے رسم الخط کو بھی تبدیل کر کے عربی کی بجائے روسی رسم الخط رائج کر دیا۔اب اس پورے علاقے کی رابطے کی زبان فارسی کی بجائے روسی ہے۔
فارسی اور پشتو تعصب کی بنیاد پر اگرچہ افغانستان تو انشاء اللہ تقسیم نہیں ہو گا،لیکن پوری کوشش ہو رہی ہے کہ افغانستان میں یہ تعصب اس قدر شدت اختیار کر جائے کہ دونوں گروہوں کا محبت اور امن کے ساتھ جینا محال ہو جائے۔بلکہ افغانستان کی ایک پختون نیشنلسٹ سیاسی جماعت ”افغان ملت “ کی تو کوشش یہ ہے کہ پختون نیشنلزم اس حد تک زور پکڑ جائے کہ پاکستان اور افغانستان دونوں لسانی بنیادوں پر تقسیم ہو جائیں۔لسانی بنیادوں پر دونوں ممالک کو تقسیم کرنے کی اس تحریک کا راستہ روکنے کے لئے ہم نے افغانستان کی اسلامی تحریک سے مل کر روسی استعمار اور دونوں ممالک کے علیحدگی پسندوں کے خلاف مل کر تحریک کا آغاز کیا تھا۔پاکستانی حکمرانوں کی بے تدبیری کی وجہ سے اتنی کامیاب تحریک کے بعد اب یہ صورت حال ہے کہ افغانستان کے لوگوں کی اکثریت بھارت کو دوست اور پاکستان کو دشمن کی نظر سے دیکھ رہی ہے۔ 
ہم نے امریکی رضا مندی حاصل کرنے کے لئے افغانستان میں اپنے دوستوں کو بھی ناراض کر دیا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ افغانستان کے حالات کا بغور جائزہ لے کر پالیسی میں مناسب تبدیلی کی جائے تاکہ پوری قوم کی سالہا سال کی قربانی رائیگاں نہ جائے اور دونوں ممالک کو لسانی بنیادوں پر تقسیم کرنے کا راستہ روک کر مشترک دین،مشترک تاریخ اور مشترک ثقافت کی بنیاد پر دونوں ممالک کو باہم شیر و شکر اور یک جان دو قالب بنا دیا جائے۔
"روزنامہ جنگ"

                                                                             خاوران
  نظرات ()
مطالب اخیر بررسی تهاجمات سروده از قدیره واسوخت مزدک:حزب دموکراتیک خلق افغانستان، دموکراتیک نبود من کاملا متأسف و شرمنده هست کبروغرور رهبران جبهه ملی به انتقادهای خود از حامد کرزی شدت بخشیده اند. دری بخشی از هویت ماست و پارسی کلیت آن سیلی‌هایی که از برادران بزرگ خوردیم شناسنامه ( تذکره برقی )باهویت قوم اوغان (مدرک عقده و کدورت) آقای اندیشمند! نباید زبان فارسی را توهین کرد پدرام شهروندتاجیکستان شد
دوستان من رستاخیزملی فراترازمرزها جامرچ پایان تاجیکم تاجیک میدیا استادکریمی استالفی دختران اصلاح طلب باورسبز کشم زیبا دروازیان فدرال کام بخش نیکوی دهخدا خراسان ستاویز استاد راوش حافظ خانهء دل نگینه لعل بدخشان (بحری) سنگاب خواهان آزانس کوکچه پرس پژواک شورای متحدملی فرانسه افغانستان وطندار داکتر مهدی آریانا دختر آرزوها برگردان انگلیسی به فارسی حکایت نامه فال حافظ اشعار ماندګار احمدیاسین فرخاری شیوای شرق خاهان حزب پان ایرانیست شغنان بدخشان افغانستان تارگاه اصلاح طلبان افغامستان رادیو رنگین کمان بی بی سی خاوران جاودان کوفی حماسه زن عزال دربند انجمن اندیشمندان بدخشان جمهوری سکوت برگردان فارسی به فارسی برگردان متون فارسی به انگلیسی رهروان سی ونه نامه تیلویزیونهای فارسی اخبار فناوری اطلاعات کلوب مدیران و متخصصان شبکه اجتماعی بهشت من