تماس با من
پروفایل من
آرشیو وبلاگ
      درواز Darwaaz (ویبلاگ آزاد- ناشرمطالب سیاسی، فرهنگی و تاريخی)
زبان فارسی ودشمنان آن نویسنده: م.و.ر - ۱۳۸٩/٩/۱

 

قــاضی حســین احمــد: بــا فــارســی ســتیزی افغــانســتان تجــزیه خــواهــد شــد.

   

قاضی حسین احمدنویسنده: قاضی حسین احمد
مترجم: محمد ناصح

حــزب قــومپــرست افغــان مــلت در تــلاش است تـا با آتــش زدن بـه خــرمــن زبانهــا زمینــۀ تجــزیۀ افغــانســتان و پــاکســتان را میســر ســازد.
یاد داشت مترجم: مقالۀ قاضی حسین احمد، رهبر حزب جماعت اسلامی پاکستان، زیر عنوان "سازشی برای تجزیۀ امت اسلامی بر بنیاد های زبانی" در روزنامۀ پر تیراژ "جنگ" پاکستان و نیز وبسایت "اسلام تایمز" دو روز پیش از عید قربان به نشر رسیده است.
قاضی صاحب که از پشتونهای پاکستان است رابطۀ چنان تنگاتنگی با گلبدین حکمتیار داشت که عدۀ از هوا دارانش در زمان راکت پرانی بالای کابل مظلوم در سنگر های حکمتیار صف کشیده بودند.

جالب اینکه مقالۀ دلسوزانۀ قاضی صاحب با پیام عیدی خیلی زنندۀ حکمتیار "برای ملت افغانستان" همزمان شده است (احتمالأ روی تصادف) در حالیکه در نیت خیر مقالۀ قاضی نمیتوان تردید کرد، دوست بیقرار و اصلاح ناپذیرش یعنی حکمتیار در پیام خود از اقوام ازبک، تاجک و هزاره نامگرفته به زشتی یاد کرده و شیعیان - یا بگفتۀ او "روافض" - را در قطار منافقین، یهود و نصارا قرار داده است

 

اینک ترجمۀ مقالۀ قاضی صاحب زیر عنوان "اُمت مسلمہ کو لسانی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی سازش"

پیش از آمدن انگیسها به سرزمین هند، فارسی زبان رسمی و علم و ادب در آن نیم قاره بود. عدۀ از شعرای نامور زبان فارسی نیز از آن خطه سر بلند کرده اند

فارسی اهمیت علمی و فرهگی اش را بعد از تسلط انگلیسها بر هند برای مدتهای طولانی همچنان حفظ کرد. علامه اقبال، فیلسوف و شاعر نامور که هفتاد یا هشتاد سال قبل در نیم قارۀ هند بدنیا آمده بود از فارسی بعنوان وسیلۀ برای پخش پیام هایش به سایر مسلمانان استفاده میکرد. اگرچه نسل جوان پاکستانی از اشعار فارسی اقبال آگاهی چندانی ندارند، پیامهای اقبال یکی از عوامل بیداری در کشور های افغانستان، ایران و آسیای میانه بوده است

برای پارچه پارچه نمودن مسلمانان، انگلیسها ابتدا دانشجویان مدارس رسمی را از فرا گرفتن زبان قرآن یعنی عربی محروم کردند و سپس انگلیسی را جایگزین فارسی نموده تا باشد رابطۀ مسلمانان هند را با دنیای وسیع فارسی زبان قطع نمایند

فارسی از زمانه های باستان زبان رسمی، علمی و فرهنگی سرزمین افغانستان بوده و اکثر پشتونها هم به حاکمیت آن ارج میگزاشته و فقط به تکلم به زبان پشتو در محلات شان اکتفاء میکرده اند

فارسی در صوبه سرحد (مناطق پشتون نشین پاکستان) نیز همیشه زبان علم و ادب بوده است. من تحصیلاتم را از خانه با زبان شیرین فارسی اغاز کردم. تمام نوشته ها و مکاتبات پدرم به فارسی بودند. اجداد من برای صد ها سال در قضاء کار میکردند و تمام اسناد باقیمانده از ایشان به زبان فارسی اند

اروپاییان امپریالست پس از زبان عربی، زبان فارسی را هدف قرار داده تا مسلمانان را پارچه پارچه کنند. روی این ملحوظ حرکات قومگرایانۀ پشتونی را حمایت کرده تا میان پشتونها و فارسی زبانان درز ایجاد کنند

برای حفظ وحدت افغانستان، نادرشاه و پسرش ظاهر شاه که خود پشتون بودند نه تنها فارسی را زبان خانواده گی خویش بلکه آنرا بحیث زبان رسمی و تعلیمی کشور نیز پزیرفتند. از خانوادۀ سلطنتی عدۀ انگشت شماری هم به زبان پشتو روان حرف زده نمیتواند. و اکثر قبایل پشتون در ادبیات از فارسی بهره میگیرند

قبل از هجموم روسها به خیوه و بخارا، فارسی زبان رسمی آن سرزمین ها بود. مردم ترکیه اکثرأ مسلط به زبان فارسی بودند. پیامهای مولانای روم بخاطری به فارسی بود که زبان رسمی آسیای مرکزی، ایران، خراسان (افغانستان) و هندوستان بود

بعد از اضمحلال حکومت های خیوه و بخارا، به بهانۀ موجودیت لهجه های مختلف ترکی، روسها آسیای مرکزی را به کشور های ازبکستان، قزاقستان، ترکمنستان، قیرغیزستان و آزربایجان تجزیه نموده و روسی را جایگزین زبان فارسی نمودند

اگر چه انشااله افغانستان تجزیه نخواهد شد ولی کوشش های فراوانی در جریان است تا تنش های زبانی را درین کشور تا حدی دامن زنند که همزیستی مسالمت آمیز میان فارسی زبانان و پشتونها ناممکن شود. حزب قومپرست افغان ملت در تلاش است تا با آتش زدن به خرمن زبانها زمینۀ تجزیۀ افغانستان و پاکستان را میسر سازد

برای خنثی نمودن چنین تحرکاتی ما جنبش ضد جدایی طلبی را در هردو کشور به راه انداخته بودیم. با وجود موفقیت های آن جنبش، ولی بخاطر بیخردی زمامداران پاکستان اکثر مردم افغانستان حالا پاکستان را دشمن و هند را دوست تلقی میکنند

حالا برای زمامدران پاکستانی لازم است تا در سیاست افغانی شان بازنگری جدی نموده تا نشود که این دو کشور با وجود اینهمه قربانیها بر بنیاد های زبانی تجزیه گردند. با داشتن دین، تاریخ و فرهنگ مشترک، مردمان ما میتوانند که یکدیگر را به آغوش کشیده و سد راه تجزیه شوند


                     درپایان هم اصل مقاله



اُمت مسلمہ کو لسانی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی سازش
اسلام ٹائمز:فارسی اور پشتو تعصب کی بنیاد پر اگرچہ افغانستان تو انشاء اللہ تقسیم نہیں ہو گا،لیکن پوری کوشش ہو رہی ہے کہ افغانستان میں یہ تعصب اس قدر شدت اختیار کر جائے کہ دونوں گروہوں کا محبت اور امن کے ساتھ جینا محال ہو جائے
اُمت مسلمہ کو لسانی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی سازش
تحریر:قاضی حسین احمد 
انگریزوں کی آمد سے قبل برصغیر ہندو پاک اور افغانستان کی علمی اور دفتری زبان فارسی تھی۔برصغیر میں بڑے بڑے فارسی شعراء پیدا ہوئے،انگریزوں کی آمد کے بعد بھی مدت تک فارسی کی علمی و ادبی حیثیت برقرار رہی۔اسی نوے سال قبل برصغیر میں علامہ محمداقبال رہ جیسا نابغہ روز گار فلسفی اور شاعر پیدا ہوا،جنہوں نے فارسی زبان کو اپنا پیغام امت مسلمہ تک پہنچانے کا ذریعہ بنایا۔یہ فارسی کی برکت ہے کہ اقبال کے فارسی کلام سے اگرچہ پاکستان کی نئی نسل نا آشنا ہے لیکن افغانستان،ایران اور وسط ایشیا میں ان کا پیغام بیداری کی لہر پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔
اُمت مسلمہ کو تقسیم کرنے کے لئے انگریزی استعمار نے ایک طرف تو عربی زبان سے سرکاری اداروں میں پڑھنے والے طلبہ کو محروم کر دیا،جو قرآن کی زبان ہے اور جس کے ذریعے عالم اسلام آپس میں مربوط تھا،تو دوسری طرف فارسی کی جگہ انگریزی زبان کو دفتری زبان بنا کر فارسی لکھنے اور سمجھنے والے وسیع علاقے سے برصغیر کے مسلمانوں کا رابطہ منقطع کر دیا۔انگریزوں کے بعد دوسری زبان کے طور پر اردو یا علاقائی زبانوں نے لے لی۔زبان کے مسئلہ کی وجہ سے مشر قی اور مغربی پاکستان اکٹھے نہ رہ سکے۔اُردو کو بھی جو کسی حد تک رابطے کی زبان کے طور پر مغربی پاکستان کو آپس میں جوڑے ہوئے ہے۔مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے اور تعلیمی اداروں میں اس کی جگہ انگریزی لے رہی ہے۔ 
علیحدگی کی سیکولر علاقائی تحریکوں کے ذریعے اُردو کے بارے میں مسلسل پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ ہم میں سے کسی کی زبان نہیں اور ایک اقلیتی طبقے کی زبان کو ملک کی اکثریت پر ٹھونسا جا رہا ہے۔اس کے نتیجے میں پنجابی،پشتو،سندھی اور بلوچی کی بجائے انگریزی کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔جسے سیکھنے میں ہماری عمریں گزر جاتی ہیںلیکن بہت کم لوگوں کو اس پر عبور حاصل ہو سکتا ہے۔ افغانستان میں بھی زمانہ قدیم سے فارسی علمی و ادبی اور دفتری زبان کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔پشتون اکثریت نے کبھی بھی اس پر اعتراض نہیں کیا تھا بلکہ پشتو کو مقامی بول چال کی زبان کے طور پر اختیار کرنے پر قانع تھے۔خود صوبہ سرحد یا خیبر پختونخوا میں علمی اور درسی زبان ہمیشہ فارسی رہی ہے۔
میں نے خود اپنی ابتدائی تعلیم اپنے گھر سے فارسی میں شروع کی۔میرے والد محترم خط و کتابت کے لئے فارسی زبان استعمال کرتے تھے۔ہمارے خاندان میں صدیوں سے قضا کا منصب چلا آیا ہے اور جتنا بھی پرانا ریکارڈ اس وقت ہمارے خاندان کے پاس موجود ہے وہ فارسی زبان میں ہے۔سید احمد شہید رحمتہ اللہ علیہ کے مجاہدین کا قافلہ جو ہندوستان سے قندھار پہنچا اور قندھاری مجاہدین کو ساتھ ملا کر پشاور پہنچا اور کئی سال تک پشاور میں حکومت کی۔انہوں نے فارسی ہی کو مقامی آبادی کے ساتھ رابطے کا ذریعہ بنایا۔
یورپین استعماری طاقتوں نے عربی کے بعد فارسی زبان کو ہدف بنایا تاکہ اُمت مسلمہ کو چھوٹی چھوٹی اکائیوں میں تقسیم کر دیا جائے،اس مقصد کے لئے افغانستان میں پختون نیشنلزم کی تحریک کو ہوا دے کر پشتو اور فارسی کی لڑائی شروع کر دی گئی،حالانکہ محمد ظاہر شاہ اور ان کے والد گرامی محمد نادر خان نے پشتون ہونے کے باوجود فارسی زبان ہی کو دفتری اور علمی زبان کے طور پر اختیار کیا اور افغانستان کو ایک رکھنے کی خاطر فارسی زبان کو اپنی گھریلو زبان بنا دیا اور اس وقت شاہی خاندان میں سے بہت کم لوگ روانی کے ساتھ پشتو بولنے کے قابل ہیں۔افغانستان کے اکثر پشتون قبائل نے فارسی زبان ہی کو اظہار خیال کا ذریعہ بنایا ہے۔
روسی استعمار سے قبل بخارا اور خیوا کی امارتوں کی دفتری زبان بھی فارسی تھی،خود ترکی میں اکثر لوگ فارسی جانتے تھے،مولانا جلال الدین رومی نے اپنا پیغام فارسی زبان میں اس لئے دیا کہ وسط ایشیا،ایران،افغانستان اور برصغیر ہندو پاک کی علمی زبان فارسی تھی۔روسی استعمار نے بخارا اور خیوا کی امارتوں کو توڑ کر پورے وسط ایشیا کو لہجوں کے تھوڑے بہت اختلاف کو بہانہ بنا کر ازبکستان،قازقستان،ترکمانستان،کرغیستان اور آذربائیجان میں تقسیم کر دیا۔حالانکہ یہ سب لوگ ترکی زبان کے مختلف لہجے بولنے والے لوگ ہیں۔روسیوں نے ان کے رسم الخط کو بھی تبدیل کر کے عربی کی بجائے روسی رسم الخط رائج کر دیا۔اب اس پورے علاقے کی رابطے کی زبان فارسی کی بجائے روسی ہے۔
فارسی اور پشتو تعصب کی بنیاد پر اگرچہ افغانستان تو انشاء اللہ تقسیم نہیں ہو گا،لیکن پوری کوشش ہو رہی ہے کہ افغانستان میں یہ تعصب اس قدر شدت اختیار کر جائے کہ دونوں گروہوں کا محبت اور امن کے ساتھ جینا محال ہو جائے۔بلکہ افغانستان کی ایک پختون نیشنلسٹ سیاسی جماعت ”افغان ملت “ کی تو کوشش یہ ہے کہ پختون نیشنلزم اس حد تک زور پکڑ جائے کہ پاکستان اور افغانستان دونوں لسانی بنیادوں پر تقسیم ہو جائیں۔لسانی بنیادوں پر دونوں ممالک کو تقسیم کرنے کی اس تحریک کا راستہ روکنے کے لئے ہم نے افغانستان کی اسلامی تحریک سے مل کر روسی استعمار اور دونوں ممالک کے علیحدگی پسندوں کے خلاف مل کر تحریک کا آغاز کیا تھا۔پاکستانی حکمرانوں کی بے تدبیری کی وجہ سے اتنی کامیاب تحریک کے بعد اب یہ صورت حال ہے کہ افغانستان کے لوگوں کی اکثریت بھارت کو دوست اور پاکستان کو دشمن کی نظر سے دیکھ رہی ہے۔ 
ہم نے امریکی رضا مندی حاصل کرنے کے لئے افغانستان میں اپنے دوستوں کو بھی ناراض کر دیا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ افغانستان کے حالات کا بغور جائزہ لے کر پالیسی میں مناسب تبدیلی کی جائے تاکہ پوری قوم کی سالہا سال کی قربانی رائیگاں نہ جائے اور دونوں ممالک کو لسانی بنیادوں پر تقسیم کرنے کا راستہ روک کر مشترک دین،مشترک تاریخ اور مشترک ثقافت کی بنیاد پر دونوں ممالک کو باہم شیر و شکر اور یک جان دو قالب بنا دیا جائے۔
"روزنامہ جنگ"

                                                                             خاوران
لینک      نظرات ()      

سخنان استاد سیحون و نهضت روشنگری نویسنده: م.و.ر - ۱۳۸٩/۸/٢۸

تجلیل از نهضت روشن گری در افغانستان

دویچه ویله : همه ساله در سومین روز عید قربان شماری از استادان دانشگاه ها و روشنفکران زیر شعار از "غبار تا بلخی" از مزار سید اسماعیل بلخی، میرغلام محمد غبار و عبدالرحمان محمودی بازدید نموده و در رابطه شخصیت آنها سخنرانی می کنند.

امسال نیز شماری  از استادان دانشگاه ها و فرهنگیان مانند دوکتور سید عسکر موسوی مشاور فرهنگی وزارت تحصیلات عالی، سیف الدین سیحون استاد اقتصاد در دانشگاه کابل و شماری دیگر از روشنفکران با حضور بر سر مزار این سه شخصیت از کارکردها و مبارزات آنها یاد بود به عمل آوردند.

آقای سیحون در سخنرانی اش بر مزار دوکتور عبدالرحمان محمودی گفت که این سه شخصیت در تمام زندگی برای اعاده عدالت مبارزه کردند:"این ها اساسا برای گذار از بحران، برای برپایی عدالت و قانونیت و نظام مدنی و سیاسی سعی خود شان را کردند و تفکری را ایجاد کردند که حالا ما در پی آن هستیم."

سیحون گفت که هر سه شخصیت ضد استبداد بودند و برای عدالت مبارزه کرده اند:"هرسه چهره ای که به تجلیل از آنها نشسته ایم، صد درصد چهره های سیاسی هستند. ضد استبداد بودند و برای عدالت مبارزه کردند."

سعی برای عقب گشت

آقای سیحون در سخنرانی خود گفت که مردم افغانستان با آنکه سالها برضد استبداد مبارزه کرده اند اما همیشه پس از پایان مبارزه در برپایی نظام مبتنی برعدالت و جامعه مدنی آگاه، ناکام مانده اند.

سیحون افزود مردم افغانستان پس از سی سال مبارزه حالا یک بار دیگر شاهد سعی و تلاش برای عقب گشت سیاسی هستند و با و جود تلاش ها برای ایجاد نظام مردم سالار، مردم افغانستان در حال باختن چنین نظامی هستند:"بالاخره پس از هزاران غسل خون، مردم ما در برپایی نظام سیاسی و مدنی آگاه عقب می مانند و امروز تقلاها و سعی به عقب گشت را در جامعه ما به وضاحت و روشنی می بینیم."

نهضت روشن فکری

برنامه بازدید از مزار شخصیت های مبارز افغانستان در سال های اخیر همیشه تکرار می شود و روشنفکران در سخنرانی های شان از تلاش های نهضت روشنفکری افغانستان تجلیل می کنند.

سید عالم امینی تحلیلگر مسایل سیاسی می گوید، دوکتور محمودی اولین مبارزی بود که دست به تظاهرات جاده ای زد. او سپس سالهای سال در زندان به سر برد. آقای امینی در رابطه به مبارزه میر غلام محمد غبار چنین می گوید:"علامه مرحوم غبار، مورخ آزادی خواهی افغانستان و موسس حزب وطن است سالهای سال تبعید بوده، زندانی بوده و کتاب وزینی را که در تاریخ افغانستان بی نظیر است  نوشته کرده است."

به گفته آقای امینی اگر شهید بلخی مبارزات غلام محمد غبار و داکتر محمودی را ادامه نمی داد، آرمان های نهضت روشن گری افغانستان خاموش می شد:"علامه سید اسماعیل بلخی که پس از این دوچهره بزرگ تقریبا می رفت که نهضت منقطع شود و علامه شهید بلخی رهبر نهضت روشنفکری افغانستان بود و 14 سال زندان را بخاطر نهضت روشن فکری سپری کرد." 

بازدید از مزار شخصیت هایی که برای روشنگری درافغانستان مبارزه کرده اند درحالی صورت می گیرد که تجلیل از این شخصیت ها درمحافل سیاسی جایی ندارد ودرحال حاضر مزار میرغلام محمد غبار و دوکتور عبدالرحمن محمودی حالت زاری دارد.

                                                                          آریایی

لینک      نظرات ()      

جناب وزیر صاحب نویسنده: م.و.ر - ۱۳۸٩/۸/٢٧


 

ل . کریمی استالفی: 26 عقرب 1389

اگر من جای جلالتمأب « رهین » بودم !

خواندم و تأسف کردم که ، جناب تیمور شاه اسحاق زی ، معین وزارت اطلاعات و فرهنگ کشور گفته : ( افغان یو ، مسلمان یو بیا انسان یو ) .

جلالتمأب ، جناب آقای « رهین » ! .

دریک برسی تحلیلی ، موافق به اسلوب علمی و منطقی ، مبنی بر بینش نا بالغ آقای اسحاق زی معین شما ، که بیانگر واقعیت استعمار فرهنگی ، تطمیع دیگران و ایجاد خصومت و بدبینی مردم به مقابل همدیگر می باشد ، باید عکس العمل جدی انجام یابد و درین برسی مقدماتی ، باید به سوالاتی ، هم در بُعد سیاسی و هم در بُعد جامعه شناسی ، پاسخ همه جانبه ارائه شود . چون پایۀ و اساس این چنین حالت ها ، بیانیه ها بر حفظ امتیازات تک قومی استوار میگردد .  

جناب وزیر صاحب ! .

 ازین دغدغه ، که چه کنم و چه نکنم ، خود را برهانید و به اندرز های هراسناک و دروغین « وحدت ملی خراب می شود » برخلاف واقعیت ها ی موجود در کشور گوش فرأ ندهید . ما نمیدانیم بکدام سو میرویم ، بسوی یک نظام کاملاً بنیادگرایی اسلامی ، یا بسوی افغانیزه شدن کشور و یا بسوی یک نظام دموکرات ، فارغ از هر نوع ستم و تحقیر طبقاتی ، یا بسوی یک هرج و مرج تجزیه طلبانه !! .

در آغاز باید تعریفی از افغان ؛ مسلمان و انسان داشته باشیم .

1ـ  انسان : آدمی مردم و بشر .

2 ـ افغان : فغان ، فریاد ، زاری  و نام یک طایفۀ اوغان ساکن در افغان{ستان}.

3 ـ مسلمان : پیرو دین اسلام ، کسی که متدین بدین اسلام باشد.

آدم یا ابولبشر : اسم خاص ، که در قرآن ذکر شده و ما به تمامی نسل آدم و حوا ، آدم میگویم ، آدم از خاک است ، خاکی که ما روی آن پا میگذاریم و خروار ها مواد فضله را می اندازیم . این خاک سیاه و بوینده چگونه باعظمت شد ؟ برای اینکه روح شایسته و بزرگ خداوندی در وی دمید و گفت : من قرار دهندۀ خلیفه ای در زمین هستم » و فرشتگان آسمانی  دستور یافتند تا آدم را سجده کنند .

از آنجائیکه آدم و انسان را مترادف ذکر کرده اند ، اما انسان نسبت به آدم ویژه گیهایی دارد . آدم کامل ، انسان می شود ، به کسی باید انسان گفت ، که واجد تمام کمالات انسانی باشد ؛ یعنی دارای عاطفه ، تربیت ، ادب ، اخلاق نیکو ، « گفتار نیک ، پندار نیک ، کردار نیک »، دارای کرامت ، مکارم اخلاقی ، نگرش مثبت ، مسوولیت پذیر ، متعهد ، دارای قوه خیال و تعقل . انسان را حیوان ناطق و انس گیرنده هم تعریف کرده اند ، این یک اشتباه است ، حیوانات از قبیل سگ و گربه هم اُنس میگیرند و بسیاری از پرنده گان هم ناطق اند . اما انسان برعلاوۀ این همه صفات ، مسوولیت پذیر است ، حس مسوولیت پذیری در بسیاری آدمیان منجمد است ، که من به آنها کلمۀ انسان را نمیتوانم اطلاق کنم .

افغان : افغان در فرهنگ لغت ، فغان و داد و فریاد است ، اوغان یکی از طوائفی است که در افغان {ستان} سکونت دارند ، اگر ما بپذیریم که اول افغان هستیم بعد مسلمان و بعد انسان ، بدین معنیست که ، افغان بودن ، مقدم تر ، اصالتمند تر ، باارزش تر ، مقدس تر ، و بالاخره والاتر از اسلام و انسان است ، که من مخالف این طرز نگرش هستم . زیرا عظمت و جلال انسان والاتر از هر دو است ، ملائک به آدم سجده کرد ، قرآن نزد انسان آمد ، اشرف المخلوقات ذکر شد ، روح خدا در وی دمید ... وووو.

اگر این پارگراف را معکوس سازیم ، یعنی ملائک به افغان سجده کرده ، قرآن نزد افغان آمده ، روح خدا فقط در جسم خاکی افغان دمیده شده و افغان اشرف المخلوقات است . آیا شما این معادله چندین مجهوله را می پذیرید ؟؟!.

جناب اسحاق زی این شعار کاذبانه را با وقاحت و شعوری اظهار داشته ، زیرا میحط قبیلوی ، تعین کنندۀ شعور قبیلوی است ، او برای اینکه اطلاق و پذیرش کلمۀ افغان را بدون چون چرا بالای سایر اقوام تحمیل کرده باشد ، حتا به انسانیت و اسلامیت خود نیز خط بطلان کشید . پس ما چگونه خاموش و بیکار بنشینیم و ببینیم که عده ای با شعور قبیلوی ، که قرینۀ عینی برای تائید آن موجود نیست ، کلمۀ افغان را با فشار و زور گویی بالای دیگران تحمیل بدارد .

بدیهیست که یکی از موانع همگرایی فرهنگ ها ، نگرش قوم گرایانه است ، این نگرش غلط ، که تمام مسائل جامعه را از پشت عینکهای دودی فرهنگ عقب ماندۀ قبیلوی می بیند ، مسبب قوم گرایی ، رشد نژاد پرستی ، تبعیض نژادی و تفوق طلبی می شود ، در جامعۀ کثیرالملیتی چون افغانستان ، به ایجاد تفرقه و هرج ومرج می انجامد . 

اصطلاح کلمۀ افغان ، با وجود جبری بودن و واهی بودن آن ، تا هنوز در کشور مان وقار و حیثیت ملی را بخود نگرفته . هرگاه از همین آقای اسحاق زی بپرسیم که از کدام قوم هستی ، میگوید ، پشتون ، اگر پشتون است پس افغان چیست . اگر هر دو یکیست ، پس نباید دیگران را با این نام دو وجهی ، که در مجالس رسمی سیاسی و در مجالس قومی یعنی مترادف با پختون است ، فریب داد .

آقای آدم خان یوسف زی یکی از نویسندگان پشتون پاکستانی می نویسد : این حقیقت روشن میگردد که افغان یک نام مستعار قبیلوی بوده و ظرفیت رسانیدن هویت ملی را ندارد . درینصورت غیر از پشتونها ، سایر اقوام ضرورت و مجبوریت ندارند ، تا هویت بسیار قدیمی خود را فدای یک نام خالص قبیلوی کرده ، خود را افغان بنامند .

سوالی دیگری که از آقای اسحاق زی داریم اینست : لطفاً کلمۀ افغان و افغانستان را تعریف و بگویند ، زائیده چیست ؟ کنه ، مفهوم ، مقصود و معنی آنرا با افتخاراتیکه در آن نهفته است روشن سازند ؟ اگر معنی حقیقی و حقوقی را که مورد پذیرش عام قرار گیرد و ارزشمندی آنرا داشته باشد تا از دیدگاه فلسفی و حقوقی ارجحیت بر سایر کلمات گیرد خوب ، وگرنه اعتراف کنند که ، هرگاه جوهر معنی وجود نداشته باشد کلمه نیز وجود ندارد .

بهتر است شما به  این مُبهمه ، بدون جانبداری و تعصب نگری ، مبنی بر وجه تسمیۀ ثبت سجل کشور به اسم بی مسمآ ، که در برگیرندۀ تمام اقشار جامعه نبوده و یکی از بحث بر انگیز ترین مسائل کشور شده و روی انگیزه های سلطه جویی ، غیر منطقی ،غیرعلمی وغیر فلسفی جایگزین اصل قرار گرفته است ، پاسخ بدهید .

مسلمان : در مورد مسلمان فقط با یک فرد شعر حافظ اکتفأ میکنم و عاقلان خود دانند !! .

گر مسلمانی همین است که « ما داریم » ـــ وای اگر از پس امروز بود فردایی .

 جناب وزیر صاحب ! .

شما شاهد عملکرد های تنگنظرانه و متعصبانۀ کریم خرم وزیر قبلی بودید ، که کلمۀ دانشگاه را غیر اسلامی گفت و اکنون شاهد گفتار بی مسوولانۀ معین این وزارت هستیم ، که افغان را مقدس تر از اسلام و انسان میداند ، آن سبو بشکست و این پیمانه ریخت .

بالیدن به نام افغان ومدعی برتری بر دیگران بودن ، ذاتاً و ماهیتاً سیاست های فاشیستی و الیگارشی است ، که برخی میخواهند با وارد کردن تاریخ تصنعی همچون « پته خزانه » مردم را با وحشت و بربریت وادار به بعیت سازند .

بزرگمردی میفرماید : مقدم بر همه چیز ، باید به انسان پرداخت ، با انحطاط او زیبایی تمدن و عظمت جهان و ستاره گان از بین میرود .

دانشمند گرامی آقای « رهین » صاحب ! .

میخواستم درد دل بیشتری را بنویسم ، اما مقاله ای را تحت عنوان ( جناب الکو ! استفاده از قانون جرم است ) بقلم جناب حاجی اخگر در سایت وزین فراتر از مرز ها خواندم ، در مقالۀ یاد شده درد دل من و توده های ملیونی افغانستانی ها انعکاس یافته بود ، به این لحاظ این مقال را کوتاه ساختم . کوتاه سخن اینکه ، اگر من جای شما بودم ، هئیت رهبری وزارت را با تنی چند از بزرگان علم و ادب دعوت و کشف بزرگ معین صاحب را با حضور داشت وی در میان می گذاشتم ، تا در باره گفته هایش پاسخ میداد ، اگراعتراف کند ، که این در فشانی را فقط به قوم و تبار خویش استعمال کرده ، آنگاه ما اعتراضی نداریم ، در غیر آن ، در صورت عدم احترام به هویتهای ملی و سیاسی دیگران ، با نپذیرفتن تحقیر ها و تا اعاده نشدن عدالت اجتماعی و تا برآورده نشدن حقوق شهروندی ، ناگزیریم در جهت رفع این خود سازی ها و ویران سازیهای دیگران ، از طریق لازم ، مبارزۀ حق ، علیه باطل ، را ادامه خواهیم داد . باحترام

 

لینک      نظرات ()      

شاه شجاع وامیر دوستمحمد نویسنده: م.و.ر - ۱۳۸٩/۸/٢٦

متوسطۀ امیر دوست محمد خان

 وضرورت اعمار مجسمه شاه شجاع

 احمد شکیب حمیدی

هالند

 در جامعه ما هستند کسانی که هنوز هم بدلایل مختلف با حقایق جدی و مهم اجتماعی , سیاسی و تاریخی کشور دشمنی می ورزند و با دیده درایی تمام حقایق  را وارونه جلوه می دهند. با آشفته بازاری  از کتمان گری ,جعل کاری , تحریف و تصرف حقایق سیاه را سفید و دشمن را دوست جا می زنند. ظاهرا در سیاست اینها کتمان حقیقت امری است واجب و ضروری  و تحریف و تصرف حقایق  برای  ایجاد (وحدت ملی؟)امری است حتمی و جزء از برنامه های (ملی؟)

در حالیکه برعکس فقط در روشنایی انوار حقایق  تاریخی دیروز و امروز می توان آزادگی ,بالندگی و بقای سرزمین مان را تضمین و از فروپاشی , اسارت و نابودی مجدد کشوردر آینده جلوگیری کرد.

البته فقدان اطلاعات تاریخی و سیاسی همگانی و وجود شخصیت های که یا به دلایل محافظه کاری و یا از دست دادن موقعیت های اجتماعی و شغلی و یا هم ترس از خطر جانی حاضرند به اشاره ای از بیان حقیقت طفره  روند و یا آن را نادیده انگارند باعث گردیده تا کار پا دو های سرکاری بالا گیرد چنانچه آنها توانسته اند بدون هیچگونه ممانعت و محدودیتی  به اعمال وحشیانه و غیر انسانی زمامداران زورگودر گذشته و حال  روپوشی از تقوا , ترقی خواهی و از خود گذری بزنند.

به طور نمونه ( دهشت,اختناق و کشتارهای دسته جمعی ) را در دوران ثلاثه خبیثه امیر عبدالرحمن خان ,برادران نادری  و دستار سیاهان جذام آور " تطبیق شریعت اسلامی " و در دوران کمونیستی " عمل انقلابی " و در دوره داودی "عمل ضروری "نامیدند.

(انقیاد و وابستگی ) را در رابطه به شاهان گذشته افغانستان"مجبوریت" و در رابطه به دوره فعلی آقای کرزی "اقتضای زمان " تلقی می نمایند.

(سازش,توطیه و تبانی ) را  در ادوار مختلف گاهی "عمل تاکتیکی " و گاهی هم "مصلحت ملی " جا می زنند. حتی در بجای  واژه (وطن فروشی ) از انترناسیونالیسم , پان اسلامیسم, جهان وطنی  و گلوبلایزم کار می گیرند.

آنها در پی شخصیت سازی نیزبه هیچگونه دلایل منطقی و علمی نیاز ندارند بلکه با افسانه و افتراء از آدم های معمولی ابر مردان تاریخ , باباها, نیکه ها , اناها , نابغه شرق و چنان بت های افسانه ای و استثنایی می تراشند که همگان بدون شک به قدسیت و معصومیت آنها اعتقاد راسخ پیدا می کنند حتی تا سی  سال قبل حقایق و وقایع تاریخی به طور مسخ شده و تحریف شده آن در جامعه ما امری بود پذیرفته شده!

اما با پراگنده شدن افغانستانیها به اطراف و اکناف دنیا در جریان سه دهه اخیر  امکان دستیابی و استفاده همگانی ازکتابخانه ها ,  آرشیف ها و اسناد معتبر تاریخی دنیا در مورد افغانستان میسر گردیده  بدینوسیله شیفتگان حقیقت و علاقمندان مسایل تاریخی و سیاسی با استفاده از منابع دست نخورده  و دست اول جهانی  با کمال امانت داری به پخش و اشاعه حقایق تاریخی و سیاسی از طریق چاپ کتب, مجلات و نشرات بیرون مرزی پرداختند. این نشرات در فضای باز و آزاد سیاسی توانستند از یکسو در بلند بردن سطح آگاهی های تاریخی و شعور سیاسی همگانی نقش بسزایی را ایفا نماید و از  سوی دیگر چلو صاف  جعل کاری های گذشته را از آب بدر آورد طوری که دیگر کسی نمیتوانست بالای نشریات سرکاری گذشته کشور استناد کند.

اما با تاسف مثل که درگیری همیشگی و در آویختگی بلا انقطاع جامعه ما با حقایق تلخ سیاسی , اجتماعی و تاریخی پایانی ندارد. چنانچه دیدیم  پس از سقوط حکومت طالبی با وصف آنکه برای آزادی ,دموکراسی , انتخابات آزاد و صدها گل وا ژه  و مفاهیم فلسفی دیگر گلو پاره می شد بار دیگر با چه مهارتی برای ما از آدم معمولی و ناشناخته ای بت افسانوی تراشیدند و رهبر ملی و خردمند گماریدند! و گزیدند!. واژه های اعلحضرت, سردار, بابای قوم را چگونه در مطبوعات جا دادند؟ نامهای نادریه و غازی را در جبین مکاتب کابل دوباره نوشتند و به منظور کتمان حقیقت مرده ریگی  از تبلیغات زهرآگین از قبیل جنگ سالار و شایسته سالار ,تفنگ سالار و تکنو کرات,اقلیت و اکثریت, ملی و غیر ملی , اصیل و غیر اصیل را در مطبوعات دولتی با دهل و سرنا به صدا در آورند.

جالبتر از همه اینکه این تاریخ ناخوانده های متملق با پوشیدن چپن قوم کراسی تا آن حد ره افراط برگزیدند که 

در  جبین مکتبی در منطقه نوآباد دهمزنگ به خط درشت نوشته اند

"متوسطه امیر دوست محمد خان"

تلخ بختانه کتمان گران حقیقت می خواهند اینگونه بر چشم مردم خاک زنند. غافل از اینکه این نامگذاریها علاوه بر اینکه نمیتواند چهره سیاه این امیر مزدور را حد اقل به خاکستری بکشاند بلکه همچون سوهان روح, روان هر آدم پاک سرشت را می آزارد و همچون اژدها بر دل و دیدگان آدم نیش می زنند.

طوری که این لوحه به طور عجیبی پوتنسیل ذهنی نگفتن و نهفتن را به یکبارگی در وجودم بر هم زد و بهانه ای شد برای نگارش  این نوشتار تا با استناد به کتب و اسناد معتبر تاریخی نگاهی به گوشه ای از زندگی ننگین این امیر مزدور بیفگنم تا باشد در روشنی این حقایق تاریخی خواننده گرامی بتواند در پی ارزش یابی مجدد این چهره ماست مالی شده به اصطلاح ملی خود به داوری بنشیند.

دوست محمد خان با جاه طلبی مفرطی که داشت توانست با حیله گری و مکر برای  تقریب نیم قرن خود را در صحنه سیاسی افغانستان تحمیل و با اشاره اجانب ملت ما را از پشت خنجر زند .متاسفانه دوره امارت او نگارگر پر رنجترین و شوم ترین لحظات تاریخی کشور ما است.به طوری که محمد صدیق فرهنگ او را به اصطلاح امروز یک نفر ماکیاولی تمام عیار می خواند که به هیچ اصول و مبداء پابندی نداشت و برای رسیدن به مقصد هر وسیله ای را جایز می شمرد(جلد اول افغانستان در پنج قرن اخیر)

باوجود آنکه عملا وی از ولایات پیشاور,سند و کشمیر به نفع انگلیس چشم چوشید خود زمینه ساز لشکر کشی انگلیس به افغانستان گردید. در همین مورد استاد اصغر حسن بلگرامی مورخ و استاد دانشگاه علینگر می نویسد:( امیر دوست محمد خان ضمن نامه ای تقرر لاردآکلند را در کمپنی هند شرقی تبریک گفته و بعد از تعارفات معمول چنین نوشت:" لطفا نظریات تان را طوری که لازم می دانید برای بهبود اجرای امورات این مملکت برای من توضیح دهید تا از آن منحیث رهنما و قانون استفاده کنم من آرزومندم که جناب عالی  مرا و کشور مرا از خود بداند"

طوری که دیدیم سه سال بعد آکلند همین کار را کرد و ضمن از خود شمردن کشورش جای او را نیز به شاه شجاع سپرد) افغانستان و هند بریتانوی صفحه 85.

بدینوسیله امیر مذکور زنجیر غلامی انگلیس را داوطلبانه ,مفتخرانه و عاجزانه به گردن می اندازد و قباله کشور را هم مفت و رایگان به انگلیس پیش کش می کند.

بعد از تجاوز انگلیس به افغانستان به جای اینکه وی با تکیه  به ملت و مردمش شجاعانه به روی دشمن شمشیر بکشد جبونانه از راه میدان و بامیان به بخارا پناهنده می شود و زمانی که جهاد و مقاومت ملت ما در مقابل قشون انگلیس جان می گیرد وی دوباره از بخارا به کشور باز می گردد و به دعوت رهبران ملی جهاد وارد پروان و کاپیسا می شود تارهبری عملیات ضد انگلیس را بدست گیرد اما اینبار باز هم به جای تکیه بر بازوی ملت به انگلیس تسلیم می شود .غبار در این مورد می نویسد " روز چهارم ماه  می 1840 نبرد شدیدی میان نیروهای جهاد مبارزین ملی افغانستان با قوای انگلیس در پروان در جریان بود, امیردوست محمد خان میدان جنگ را رها نموده با سه نفر از خاصان خود به سوی کابل فرار کرد. این فرار آنقدر مخفیانه بود که حتی پسر خود محمد افضل خان را که سرگرم جنگ با انگلیس بود مطلح نساخت, زمانی که در دشت حاجی رسید دو نفر از همراهان خود را به بهانه تهیه  وسایل برای سفر پکتیا به داخل شهر فرستاد و خودش با سلطان محمد نام راهی بالاحصار شد. تصادفا در این وقت مکناتن به سواری اسب که از هواخوری برمی گشت پیدا شد. دوست محمد خان سلطان محمد را هدایت داد تا ورود او را  به اطلاع مکناتن برساند. وقتی شخص مذکور به مکناتن گفت امیر دوست محمد خان رسید, برای مکناتن آنقدر غیر مترقبه بود که پرسید با لشکر؟ سلطان محمد خان گفت که نه! در این وقت دوست محمد خان خود را آشکار کرد و از اسب پیاده شد و شمشیر خود را دو دسته تسلیم مکناتن کرد. این خود به معنانی تسلیم افغانستان و فروختن استقلال کشور و مردم بود. مکناتن با تعجب از او پرسید امیر صاحب به هند می روید؟ دوست محمدخان جواب داد حالا که نزد شما آمده ام هر چه بگویید می پذیرم مکناتن گفت سردار محمد افضل خان (پسر امیر) با قوای ما در جنگ است بنویسید که دست از جنگ کشیده نزد شما بیاید امیر چاقو و عینک خود را به قسم نشانی ذریعه سواری نزد سردار فرستاد و او از جنگ دست کشیده نزد پدر آمد"

افغانستان در مسیر تاریخ صفحه 542

بدین ترتیب امیر به حیث یک محبوس به هند فرستاده می شود و در عوض تسلیمی بدون قید و شرط سالانه 300 هزار روپیه  جیره می گیرد.

اما مردم افغانستان با قهرمانی و رشادت قوای انگلیس را تارو مار نموده طوری که انگلیسها در محاصره شدید قرار گرفتند و برای اینکه قوای خود را  صحیح و سلامت از محاصره نجات دهند خواستند از امیر دوست محمد خان استمداد جویند و کپتان نکلسن مامور شد تا از امیر بخواهد که به فرزند دیگر خود وزیراکبرخان هدایت دهد تا تمام قوای افغانی را آنطرف هندوکش عقب کشد. وی می گوید زمانی که این موضوع را به امیر دوست محمد خان گفتم وی در جواب گفت:" زمانی که من تسلیم شما شدم روحا و قلبا طرفدار شما هستم بذات خدا قسم است از زما ن تسلیمی ام تا به امروز با کابل مکاتبه نداشته ام جز به وسیله مامورین شما,شاید بعضی اطلاعات از برادرانم  به خواهرم که در لودهیانه زندگی می کند رسیده باشد. ولی من که مهمان شما و یا محبوس شما هرکدام که شما فرض می کنید بوده ام با دیگرکسی مکاتبه نداشته ام وقتی که من به طرف شما آمدم با این امید بودم که روزی شما از وجود من استفاده کنید اینک آنچه که حقیقت است من به شما می گویم وانکار نخواهم کرد من حاضر هستم جان خود را در راه خدمت به انگلیس فدا کنم" جلد سوم تاریخ جنگهای افغانستان جان ویلیام کی صفحه 383

چنانچه امیر دوست محمد خان دوباره بوسیله ی ارسال عینک و چاقوی خود توانست رهبران ملی و در راس وزیر اکبر خان را قانع سازد تا قوای فاتح افغان قدم به قدم عقب بنشیند و قوای انگلیس قدم به قدم به پیش روی به سوی کابل آغاز کند و بدینوسیله افغانها جنگ برده را باختند.

این است گوشه ای از زندگی این امیر جفا کار که  همچون غده سرطانی  با ریشه های قوی برای مدت چهل سال گلوی ملت ما را فشرد و کشور را نابود کرد. نقل همه موضوعات از حوصله این نوشتار خارج است شایقین می توانند به کتب نامبرده  فوق مراجعه کنند. اما معلوم نیست که به کدام دلیل مسوولین محترم  وزارت آموزش و پرورش  نام یک چنین شخصی را با این همه خیانت و جنایت  بر جبین پاک یک مکتب در پایتخت کشور می زند مگر آنها نمیدانند که د ر این زمان و زمین و در این حال و احوال دیگرجعل کاری و شخصیت سازی امریست محال.

پس  بادر نظر داشت حقایق تاریخی فوق با پابندی به اسلوب و روشهای انسانی , من حیث یک داور منصف می توان با جرات حکم ایجاد مجسمه شاه شجاع را بدلایل زیرین صادر کرد:

به شهادت تاریخ شاه شجاع در اواخر سلطنت خود طی اعلامیه هایی عملا مردم را به قیام و جهاد علیه انگلیس تشویق و ترغیب می کرد. این عمل او که او دیگر شاه نیست و آله دست انگلیس می باشد خود اعترافی است که در تاریخ پیشین و پسین زمامداران افغانستان نظیر ندارد. در حالیکه دوست محمد خان پس از تکیه زدن مجدد بر سریر امارت افغانستان دوست دوستان و دشمن دشمنان انگلیس بود و در این راه تمام مبارزان ملی را از نایب امین الله خان لوگری گرفته تا پسرش وزیر محمد اکبر خان در راه خدمت به انگلیس قلع و قمع و نابود کرد.

آنچه ما افغانها در شرایط فعلی تقریبا در مجموع بالای آن اتفاق نظر داریم پذیرش حضور غربی ها و در راس انگلیس و آمریکا در افغانستان است بعضی از ماها حضور انها را برای مبارزه با تروریزم و قطع مداخله پاکستان ضروری می دانیم  بعضی ها از حضور آنها را به عنوان تازیانه تخویف و تهدید علیه خویشتن مهم می دانند و عده ای دیگر برای آوردن دموکراسی و جامعه مدنی  بازسازی از حضور انگلیس و آمریکا حمایت می نمایند. پس اگر جسور و بدون ریا قضاوت کنیم نمی توانیم بگوییم که مرحبا به شاه شجاع ! حبذا به شاه شجاع!

زیرا او دوصد سال قبل از امروز به آنچه ما اکنون به آن پی برده ایم پی برده بود.

در خاتمه باید به تبار گرایان شخصیت ساز تفهیم کنم که دیگر مرداب را نمی توان حتی به زور سر به بالا برد. چه بهتر اگر برای ارضای غرایز خودخواهانه و انحصارگرانه ات سرحدی تعیین کنی زیرا در ماتمکده ای به اسم افغانستان اکنون ماتم زده ها لااقل حق گریستن را پیدا کرده اند. شاید دیگر نتوانی به جرم تخریب (افتخارات تاریخی و شخصیت های ملی ؟) واقعیت گویان را به دادگاه قومی بکشانی  و یا آماج هزاران دشنام ناروا قرار دهی .

 والسلام
                                                                           خاواک
لینک      نظرات ()      

یا انتخابات ابطال یا مهدی پدرام بهزاد بیرون نویسنده: م.و.ر - ۱۳۸٩/۸/٢٦

عمال فشارها بر کمیسیون‏های انتخاباتی برای تغییر مسیر انتخابات

یک روز پس از اعلام نتایج ابتدایی انتخابات، رئیس دولت در نشستی مشترک با رئیس‏جمهور تاجیکستان، از عدم رعایت وحدت ملی در نتیجه این انتخابات انتقاد کرد. وی به خصور مشخص به ولایت غزنی اشاره کرد که وحدت ملی در انتخابات این ولایت رعایت نشده، زیرا تمام 11 کرسی این ولایت در مجلس نمایندگان را نامزدانی از یک قوم و مذهب مشخص، به دست آورده‏اند.
رئیس دولت در این سخنان، به صورت مشخص به مقامات کمیسیون مستقل انتخابات هدایت داد تا زمینه‏ای را فراهم کنند که وحدت ملی در انتخابات پارلمانی تأمین شود.
به نظر می‏رسد حامد کرزی، که حال بیشتر چهره رئیس دولت یک قوم خاص را به خود گرفته و حلقات اطراف ایشان، از کاهش چشم‏گیر تعداد نمایندگان قوم پشتون در مجلس نمایندگان به شدت برآشفته و خشمگین هستند و به هر طریقی در صدد برهم زدن این نتایج می‏باشند.
بر اساس گزارش‏هایی که از کمیسیون انتخابات به پیام مجاهد رسیده است، بر اساس نتایج ابتدایی، 107 نفر از قوم پشتون، 52 نفر از قوم هزاره، 50 نفر از قوم تاجیک و مابقی از سایر اقوام توانسته‏اند به مجلس نمایندگان راه یابند و این میزان برای تیم حاکم پذیرفتنی نیست.
پس از این سخنان، رئیس دولت از نزدیک با مسئولین کمیسیون انتخابات در ارگ ریاست جمهوری صحبت کرده و نگرانی‏های خود را مطرح نموده است، اما فضل احمد معنوی که با شعار شفافیت به کمیسیون انتخابات آمده، با رد درخواست غیرقانونی حامد کرزی، بیان داشته که تنها رأی مردم است که سرنوشت انتخابات را مشخص خواهد کرد، نه خواسته‏های غیرقانونی!
از سوی دیگر، رئیس دولت و حلقات اطراف وی، خواستار حذف نام‏های حداقل 4 تن از چهره‏های سرشناس اپوزیسیون دولت از لیست نامزدان پیروز انتخابات و جایگزین شدن چهره‏های دیگر به جای آن‏ها شده‏اند. عبدالطیف پدرام از بدخشان، احمد بهزاد از هرات، محی الدین مهدی از بغلان و عبدالحفیظ منصور از کابل. گفته می‏شود رئیس دولت پر و پاگندهای بسیاری را علیه این چهار نفر در میان جامعه جهانی به خصوص در میان هیئتی که اخیرا از کنگره آمریکا به رهبری جان مک کین، سناتور جمهوری‏خواه به کابل آمده، به راه انداخته‏ است. کمیسیون انتخابات با حذف غیرقانونی این نام‏ها از لیست نامزدان پیروز نیز شدیدا مخالفت کرده است.
در نهایت، به دنبال نتیجه ندادن فشارهای مستقیم رئیس دولت بر کمیسیون‏های انتخاباتی و جدیت آن‏ها در پیش‏برد شفاف روند انتخابات، سناریوی جدیدی برای اعمال فشارهای بیشتر بر این کمیسیون‏ها طرح‏ریزی می‏شود.
در این سناریو، پای دادستانی کل (لوی سارنوالی) به ماجرا کشیده می‏شود. آقای رحمت‏الله نظری که فعلا سرپرستی دادستانی کل را به عهده دارد، از اقارب آقای فاروق وردک، وزیر معارف و همه کاره آقای کرزی است. رئیس دولت و حلقات پیرامونی آن، در این وضعیت از دادستانی کل می‏خواهند تا بر کمیسیون مستقل انتخابات و کمیسیون شکایات انتخاباتی فشار آورد و آن‏ها را وادار به کرنش در مقابل خواسته‏های غیرمشروع تیم حاکم سازد. اما خوش‏بختانه مقامات ارشد در کمیسیون‏های انتخاباتی، تا حال به این خواسته‏ها تن نداده و بر پیش‏برد عادلانه روند انتخابات تا اعلام نتایج نهایی تأکید کرده‏اند.
این در حالی است که دادستانی کل، هیچ اقدامی نسبت به بررسی تقلب‏های انتخاباتی در انتخابات گذشته ریاست جمهوری نکرده است. هم‏چنین این نهاد در مبارزه با فساد اداری در سطوح بالای حکومت، همواره انفعالی و مطابق با مصلحت‏اندیشی‏های ارگ ریاست جمهوری عمل کرده است و حال نیز با توجه به همین مصلحت‏اندیشی‏ها، در امور کمیسیون‏های انتخاباتی مداخله می‏‏کند.
ما در این شرایط و اعمال فشارهای روزافزون، با صحبت‏های مقامات کمیسیون‏های انتخاباتی با نمایندگی سازمان ملل در افغانستان، اتحادیه اروپا و سفارت‏خانه‏های خارجی، این نهادهای بین‏المللی از عمل‏کرد کمیسیون‏های انتخاباتی در انتخابات گذشته پارلمانی ابراز رضایت نموده و اطمینان داده‏اند که از فیصله‏های این کمیسیون‏ها، حمایت خواهند کرد.
به دنبال این اعلام حمایت، روز چهارشنبه گذشته، استیفن دی‏مستورا، نماینده ویژه سرمنشی سازمان ملل در دیداری دو ساعته با رئیس دولت، اعلام کرده که نهادهای بین‏المللی از فیصله کمیسیون‏های انتخاباتی حمایت می‏کنند و این نشست به نتیجه‏ای نرسیده است.
در آخرین تلاش‏ها رئیس دولت و حلقات همراه وی، چند روز پیش، رئیس دولت بار دیگر مقامات کمیسیون مستقل انتخابات را به ارگ ریاست جمهوری خواسته و مجددا خواسته‏های خود را مطرح کرده است. رئیس دولت در این نشست صریحا اعلام کرده که در انتخابات فعلی نسبت به انتخابات مجلس نمایندگان گذشته، 35 نامزد پشتون‌‏تبار کم‏تر وجود دارد و این مسئله باید رفع شود. اما در این نشست نیز، فضل احمد معنوی، رئیس کمیسیون مستقل انتخابات و عبدالله احمدزی، رئیس دارالانشای این کمیسیون، با قاطعیت خواسته‏های غیرقانونی رئیس دولت را رد کرده و بر پیش‏برد عادلانه روند انتخابات تأکید کرده‏اند.
به هر حال، هنوز سرانجام این جنجال‏ها که رئیس دولت و حامیان آن به پا کرده‏اند، این‏که چه تغییری در نتایج انتخابات وارد خواهد آمد و نتایج نهایی کی اعلام خواهد شد، مشخص نیست!
اما آن‏چه مشخص است، رئیس دولت دو سناریو را برای سرانجام انتخابات با مسئولین کمیسیون‏های انتخاباتی مطرح کرده است: اـ افراد مورد نظر به لیست نامزدان پیروز انتخابات اضافه شود و چهره‏های برجسته اپوزیسیون حذف شود و 2ـ انتخابات باطل اعلام شده و لغو شود.
این درحالی است که اشخاصی از جمله معاونین رئیس دولت، حاجی محمد محقق، محمد اسماعیل خان، عطا محمد نور و دکتر عبدالله، از نتایج انتخابات و فیصله‏های کمیسیون‏های انتخاباتی اعلام حمایت کرده‏اند و رئیس‏ دولت را برای عقب‏نشینی از خواسته‏های غیرقانونی خود تحت فشار قرار داده‏اند.

 

                                                      پیام مجاهد

لینک      نظرات ()      

lمفهوم ومعنی تاجیک نویسنده: م.و.ر - ۱۳۸٩/۸/٢٥

مفهوم واژه " تاچیک "

بسم الله الرحمن الرحیم
درمورد مفهوم واژه تاجیک احتمالات فراوانی داده شده و معانی متعدد، متفاوت و بعضاً متضادی نقل شده است . در این نوشتار بدون هیچ قضاوت و پیش داوری تنها تعدادی از این احتمالات و معانی نقل می گردد . امیدوارم در آینده نزدیک بارجوع به منابع و ماخذ دست اول و بهره  گیری از مستندات متقن و همکاری و مساعدت دوستانی که این مطلب را مطالعه می کنند، بتوانم این نوشتار را کامل نمایم.


1-در لغتنامهٔ انگلیسی آکسفورد تاجیک را «یک پارسی» و کسی که نه عرب و نه ترک باشد٬ تعریف شده‌است.

2-روان شاد پروفسور «مارکوارت» آلمانی واژه‌ی «تاجیک» را سرشته از دو بهر «تا»(= زیرست) و «چیک»(= ادات تصغیر ترکی) دانسته، آن را «زیردست کوچک» معنی کرده است و می‌گوید که ترکان مردم زیردست خود، به ویژه ایرانیان را با این نام خوانده‌اند و از این جا است که گروهی از ایران نژادان و پارسی زبانان ِ  ورارود (ماورالنهر) که اکنون بیرون از مرزهای سیاسی ایران به سر می‌برند، با همان نام «تاجیک» که از سوی همسایه‌های ترکشان به آن‌ها داده شده است، نامیده می‌شوند.

3-طبق داده های صدرالدین عینی و مجتبی مینوی ، تاجیک واژه ای است که فرهنگ و باورهای قدیمی مردم این سرزمین را بیان می کند .

4-علاوه بر اثار ایرانشناسان در فرهنگهای پیشین و امروز از جمله منتخب اللغات، دایرةالمعارف فارسی، برهان قاطع، سراج اللغات، نظام الاطباع، فرهنگ عمید، فرهنگ معین، لغت نامه دهخدا و... واژه تاجیک و مفهوم لغوی آن مورد بررسی قرار گرفته است. بیشتر پژوهشگران بر پایه اسناد و مدارک با ارزش ،تاجیک را قوم غیر عرب و ترک معرفی کرده و آنان را از نژاد ایرانی دانسته اند که در ایران بزرگ شده اند.

5-محیط طباطبائی (ص 104) تاجیک را صفتی برای ایرانیانِ فارسی زبان دانسته و نسبت داشتن آن را به قبیلة طی رد کرده است.

6-واژة تاجیک در دیوان اللغات ترک به صورت تَژِک ذکر شده است (کاشغری ، ذیل «تژک »).

7-«تازیک – غیر عرب و غیر ترک» (شرفنامه منیری)

8-«تازیک و تاژیک بر وزن و معنی تاجیک است که غیر عرب و ترک باشد» (برهان قاطع)؛

9-برخی تاجیک را برگرفته از واژة « تاج » ذکر کرده اند (عینی ، ص 41؛ شکوری ، 1996، همانجا؛ گدازاده ، ص 97ـ 98؛ جاوید، ص 204ـ 205؛ عمرزاده ، ص 268).

10-بعضی ، کلمة تاجیک را برگرفته از نام قبیلة «تاج » (داعی الاسلام ، همانجا؛ ذهنی ، ص 216) و برخی دیگر آن را برگفته از نام قبیلة عربی «طی » (سوندرمان ، ص 51؛ ماهیار نوابی ، همانجا؛ میراحمدی ، ص 237) و نیز برگرفته از نام قوم «جاط » (یا جَت / جط ) ــ که در ایران و پاکستان ساکن اند (سجادیه ، ص 177) ــ دانسته اند.

11-تاجیک به معنای قومی آریایی نژاد از ریشة « تات » است (ماهیار نوّابی ، ص 446). نام «دایتیا» (رودی مقدّس در ایران ویج ) در اوستا ، به احتمال قریب به یقین با واژة تات و تاجیک هم ریشه است .

12-تاجیکها را مانویانی دانسته است که به فارسی نو صحبت می کنند و از قرن سوم / نهم ادبیات مانویِ برجسته ای به فارسیِ نو آفریده اند. همچنین تازک مخفف تازیک یا تاجیک است که ترکان به ایرانیان اطلاق می کرده اند (بیهقی ، ج 2، ص 520، حواشی خطیب رهبر، ص 609؛ داعی الاسلام ، ذیل مادّه ).

13-تاجیک در لغات ترکی به معنی اهل فارس نوشته اند" (غیاث اللغات، آنندراج).

14-دربارة اصل ونسب قوم تاجیک نظرهای گوناگونی مطرح شده است ، از جمله : فرزندعرب که در عجم زاده و بزرگ شده است ، طایفة غیرعرب ــ که با مطلب قبلی تناقض دارد ــ و طایفة غیرترک (برهان ، ذیل «تاجِک »؛ شاد؛ غیاث الدین رامپوری ؛ علی اکبر نفیسی ، ذیل مادّه )، نام قومی از ترکها (سامی ، ذیل مادّه )، غلامِ آزادی که کشاورز باشد (علی اکبر نفیسی ، همانجا) و نسل ایرانی و فارسی زبان (داعی الاسلام ، ذیل مادّه ). محمد یوسف خان در تاریخ یوسفی ، تاجیکها را مغول دانسته است ، در حالی که مغولها غیرخود را تاجیک می گفته اند (آقه باش قاجار، ص 271).

15-آ. برنشتام پیدایش نام تاجیک را قبل از دوران عرب دانسته آن را به زبان تاجیکی کهن مردمان تخارستان به هزارساله قبل از میلاد نسبت می‌دهد و نام تاجیک را از ریشه «تژی» در زبان سکایی می‌داند.

16-تاجیک صفت منسوب است از نام قبیله عربی «طای».

17-تاجیک صورت دیگری از «تازیک» و «تاژیک» به معنای «عرب» است

18-عده‌ای از دانشمندان غرب و چند تن از دانشمندان روس بر اساس شکل فارسی میانه واژهٔ تاجیک یا تازیک به معنای «عرب» نام تاجیک را نیز به عرب نسبت داده‌اند. اما این همگونی یا شباهت آوایی در ربط دادن نام این دو مردم مختلف را گروه دیگر دانشمندان با آوردن دلیلها رد می‌کنند.

19-عرب ها ی مسلمان، تاجیک ها را (اوگانه) می نامیدند.

20-از قدیم الایام زینت " سر " در نزد مردم این سرزمین اهمیت فراوان داشته است و این زینت به صورت کلاه و یا کلاه آرایشی (تاج) بوده و اکنون نیز هست و اینان با داشتن چنین سنتی خودشان را تاجیک می گفته اند .

21-واژه تاجیک از سه بخش تشکیل شده است: بخش اول (تاج) که زینت بخش سر پادشاهان و نشانه پادشاهی انان بوده، بخش دوم (ی) نسبیت است مانند بخارایی، سمرقندی و بخش آخر(ک) را دستک گویند.

22- احتمال دارد که واژة تاجیک از ریشة داد به اضافة پسوند ایک ( دادیک به معنای بسیار دادگر) در فارسی تاجیکی باشد، مانند خَندانیک (کسی که بسیار می خندد).

23- ارتباط نام تاجیک با «تات» نیز از نگاه زبان شناسی و تاریخی رد گردیده‌است.

24-تاجیک از «تای» است و همریشه با کلمه یونانی «تگاس» به معنای پیشوا و «ددیک».

25-تاجیک از ریشه «تژی» در زبان سکایی است.

26-تاجیک نام قبایل «داها» بوده، پارت‌ها و اشکانیان «دئی»، «تاجیک» و «دجیک» خوانده می‌شدند.

27-تاجیک ها تا کنون به نام های: تاجیک، تازیک، تاژیک، تژیک، تاجک، اوگانه، پارسیوان، تاجیکی، تات، تجگی، سرت و ... خوانده شده اند.

28-تاجیک ها در افغانستان (پارسیوان) در جمهوری فدراتیو روسیه(تاجیکی) در زبان ترکی (قزلباش، کزلباش) در خاور ایران (تاجیک) و در باختر ایران (تات) و درسیستان به (تجگی) سر شناسند.

29-تاجیک همریشه‌است با نام مردم ایرانی «تات».

30-تاجیکان از کهن ترین مردم نژاد آریایی ایرانی الاصل و پارسی زبان هستند که از دیر باز در این سرزمین به سر می برند. از این رو سرزمینی که در آن سکونت گزیده اند به (تاجیکستان) معروف شده است.به بیان دیگر، نام کشور جمهوری تاجیکستان از نام قوم آزاده، رشید و پاک اندیش تاجیک گرفته شده و آن را تاجیکستان نامیدند.

31-در اوایل سده 20م واژه تاجیک در اتحاد جماهیر شوروی بابر با (سرت) به معنی جمعیت اسکان یافته آسیای مرکزی به کار می رفت.

32-در دورهٔ صفوی٬ «تاجیک» به مدیران و نجیب زادگان دربار اطلاق می‌شده که به جنبش قزلباش مرتبط بودند.

33-در زبان کردی «تاچیک» به معنی : خارجی، ‌بیگانه و بیابانی است

34-در سال ۱۸۲۳ م. کلاپروت در یک مقاله اش «در مورد مردم بخاراً با استناد به تحقیقات به چاپ نرسیده ژ. سن مارتن آورده که «تاجیک» (فارسی زبانان ساکن فارس، افغانستان، تخارستان و ماوراء النهر) همان نام قبایل «دئی» بوده، پارتها و اشکانیان که «دئی»، «تاجیک» و «دجیک» خوانده می‌شدند، با این نامها یاد می‌گردیدند. سه شکل آوایی این نام «دئی»، «تاجیک» و «دجیک» از نگاه آواشناسی قابل قبول است. از این جا چنین برمی آید که پارتها خود را تاجیک می‌نامیدند.

35-ریشهٔ نیاکانی تاجیک‌ها به ایرانیان شرقی یعنی باختری‌ها٬ سغدی‌ها٬ پرنی‌ها و داها می‌رسد٬ این بدین معناست که نیاکان تاجیک‌ها در عهد باستان به زبان پارسی کهن یعنی زبان کهن ایرانی جنوب غربی سخن نمی‌گفتند بلکه زبانهای شرقی ایرانی نظیر سغدی، باختری، خوارزمی، سکایی و دیگر رایج بودند.

36-کلمه تاجیک همردیف و هم معنای آزادگان و دهقانان می باشد . به زبان امروزی تاجیکی ، تاجیک به معنای تاجدار عالی تبار است . برگشت و تکیه به این کلمه در زمان تازش تازیان بیشتر بود .

37-گروهی دیگر از دانشمندان بر این باورند که «تاجیک» واژۀ ایرانی شرقی است٬ که شاید توسط باشندگان آسیای میانه بر عرب‌های فاتح منطقه اطلاق می‌شده و ریشۀ این واژه به طایفهٔ عربی «طای» (تازی) برمی گردد و این واژه از قرن یازدهم به بعد به مردم ایرانی مشرقی اطلاق می‌شده. این فرضیه با آوردن چندین دلیل قاطع در آغاز سالهای ۵۰ رد شد. یکی از دلیلهای استوار در مورد ارتباط نداشتن نام تاجیک با تازی (عرب)٬ نامیدن تاجیک بر ساکنان آسیای میانه (همسایگان مردم چین) و (حتی باشندگان داخل ایران) توسط تبتی‌ها می‌باشد که این دلیل قبلا نامعلوم بود.

38-واژه «تاجیک» در ادبیات کلاسیکی فارسی زیاد کاربرد شده و کاربرد آن غالبا در برابر ترک و عرب صورت گرفته‌است:

مثلاً سعدی می‌گوید:

شاید که به پادشاه بگویند، ترک تو بریخت خون تاجیک.

و یا جامی اشاره‌ای دارد در باره علیشیر نوایی که:

او که یک ترک بود و من تاجیک، هردو داشتیم خویشی نزدیک.

و باز سعدی در جای دیگر می‌گوید که:

نگار ترک و تاجیکم کند صد خانه ویرانه، به آن چشمان تاجیکانه و مژگان ترکانه.

همین طور، وقتی که ما به متون چه نثر و چه نظم فارسی مراجعه می‌کنیم، درمی یابیم که در تمامی این متنها، از روزگار سعدی به دوران ما، کلمه «تاجیک» جایگزین کلمه «پارسی» و «فارسی زبان» بوده‌است. نه کلمه «پارسی» یا «ایرانی» یا «فارسی زبان» بلکه محض کلمه «تاجیک کاربرد شده‌است.»

بر این اساس واژهٔ تاجیک می‌تواند مترادفی برای «پارسی» باشد و تاجیک‌ها زیرگروهی از اقوام ایرانی‌تبار و اقوام ایرانی‌زبان هستند

39-واژه تاجیکستان از دو بخش "تاجیک" و "ستان" تشکیل شده است که به معنای «سرزمین تاجیکها» است
.

لینک      نظرات ()      

دز نظام های فاسد سخن گویان دروغ گوی می شوند نویسنده: م.و.ر - ۱۳۸٩/۸/٢٤

سخنگو یا دروغگو

عصر دولتشاهی

قربانیان ارگ- سخنگو یا دروغگو؟

ارگ کابل را استاد خلیل الله خلیلی به دامان قصاب تشبیه کرده بود که با خون انسان های زیادی- از بیگناه تا با گناه، رنگین بوده است. استاد خلیلی از قربانی شدن جسم انسان ها سخن می گفت، درحالی که حالا شخصیت انسان ها نیز درین ارگ قربانی خودسری ها و خودکامگی ها می شود.

سخن از رسوایی ییست که سبب قربانی شدن شخصیت کاری یک خبرنگار خوشنام و به راستی متعهد گردید:  قربانی شدن نام و شهرت حامد علمی، خبرنگاری که اینک در ردیف سخنگویان حامد کرزی جا خوش کرده است.  ی

قضیه از آنجا آغاز یافت که خبر پول گرفتن دفتر ریاست جمهوری از سوی ایران در نیویارک تایمز به نشر رسید.  پس از نشر خبر، آقای حامد علمی، سخنگوی رییس جمهور کشور،  این خبر را "به شدت" رد کرد و آنرا "واهی" خواند. آقای فدا حسین ملکی سفیر جمهوری اسلامی ایران در کابل نیز این اخبار را رد کرده، طبق معمول، تبلیغات غربی ها قلمداد کرد. اما فردای آن جناب حامد کرزی در محضر خبرنگاران با اعتراف به گرفتن پول از ایران روی ملکی و حامد علمی را سپید کرد؟!

شاید حامد کرزی در یک حرکت "جوانمردانه" از رییس دفتر خود دفاع و اعتراف کرده باشد که گویا رییس دفترش "به امر"  وی این پول را می گرفته است. اما این جوانمردی به قیمت آبروی حامد علمی تمام شد. چرا که آقای علمی یک روز پیشتر خبر نشرشده در نیویارک تایمز را بی اساس و واهی خوانده بود.

چرا حامد علمی خبر را به "شدت" رد کرد و آنرا "واهی" خواند؟ دلیل انکار حامد علمی چه می تواند باشد جز این که او با معیار های پذیرفته شدهء جهانی و ملی، گرفتن پول را بدان شیوه از یک کشور خارجی ننگین و شرم آور دانسته است و نمی توانست بپذیرد که همچو چیزی می تواند اتفاق بیفتد. ازینرو بدون مشوره با آقای کرزی جابجا خبر را رد مردود شمرد. بیچاره حامد علمی خبرنداشت که در قاموس آقای کرزی هرکاری مجاز است، به شرطی که "شفاف" باشد.

 ازینرو جناب حامد کرزی به گرفتن این پول و پول های دیگری به همین شیوه اعتراف کرد و "دلیل" ارائه فرمودند که این پول به گونهء "شفاف" گرفته شده و این سلسله ادامه دارد. اما به خلایق معلوم نشد که چگونه شفاف بودن یک عمل قبیح می تواند قباحت  آنرا بزداید. شاید کلمهء شفاف نزد حامد کرزی معنی نیک و معنی مجاز بودن را داشته باشد. چرا که ایشان به گونهء شفاف در انتخابات ریاست جمهوری تقلب می فرمایند و بازهم کسی نمی گوید روی چشم تان ابروست. با شفافیت در قانون اساسی کشور دست میزند و آنرا تحریف می کند، کسی نمی تواند ایشان را مواخذه کند. و با شفافیت در انتخابات پارلمانی دست می زند و کسی گفته نمی تواند چرا. پس راز این موفقیت در همین واژهء معجزه گر "شفاف" نهفته است. در سوی دیگر نیز، طالبان با "شفافیت" تمام مردم را سر می برند، اطفال مکتب را به قتل می رسانند، در مساجد بم می گذارند در هرماه صد ها فرد ملکی را قربانی بم های انتحاری می کنند، برای حامد کرزی هنوز هم جنایتکاران تقبیح شونده نیستند. شاید به خاطری که کار طالبان شفاف است. همه میدانند که طالب چه می کند. وانگهی وقتی طالبان با آنهمه جنایات شفاف بازهم مورد پذیرش جامعهء جهانی قرار بگیرد و کسی آنها را جنایتکار نخواند پس حامد کرزی را چرا کسی بتواند به خاطر حقوق بگیر بودن به دربار تهران و واشنگتن و کشور های دیگر کسی ملامت کرده بتواند؛ کافیست که عمل خویش را "شفاف" معرفی بکند تا از جنجال وارهد. یگانه چیزی که حامد کرزی از برادران طالبش کمبود داشت، اعتراف به اعمال شفاف بود و "گرفتن مسوولیت". اینک جناب شان اعتراف را هم یاد گرفته و مسوولیت  کار های خود را نیز می پذیرند. مگر ایشان از طالب چه کم دارند؟ اگر طالب از جنایت شرم نمی کند و با شفافیت اعتراف می کند و مسوولیت جنایات خود را می گیرد، آقای کرزی نیز هرخلاف کاری یی کند اعتراف می کند و مسوولیت می گیرد. نتیجه یکسان است. هم طالب پیروز است هم کرزی. طالب در سنگر جنایت و کرزی در سنگر غصب و حقوق مردم و فروش آبروی کشور.  

واما برای آقای حامد علمی مسا له به این سادگی نیست. چرا که حامد علمی نه چگونگی به کار گیری "شفاف" را به گونه یی که بتواند آبرویش را بخرد و لکهء دروغگویی را از دامن شخصیت کاری اش بزداید، می داند و نه اعتراف کردن و مسوولیت گرفتن می تواند برایش پیروزی بیاورد. اعتراف کردن به جنایت و خیانت و مسوولیت ستمگاری و جفاکاری را گرفتن چشم و ابروی خاصی می خواهد که تصور نمی شود حامد علمی داشته باشد.  

 

حامد علمی خبرنگاری را از آوان جوانی و از رویداد های جهاد مردم افغانستان علیه اشغالگران شوروی و دولت دست نشاندهء آنها آغاز کرد. او فرزند یکی از فرهنگیان و مطبوعاتیان شناخته شده و برجستهء کشور، مرحوم  یوسف علمی است. حامد علمی خبرنگاری را در کنار آنهایی آغاز کرد که برای آزادی کشور خویش به قربانگاه های جهاد می شتافتند. گزارش های او از سنگر های جهاد از اسناد دست اول تاریخی و بس معتبر و ارزشمندیست که ارزش ملی دارند. حامد علمی دران اسناد نشان می دهد که مردم افغانستان نه به خاطر خدمت به امپریالزم امریکا جهاد کرده بودند و نه هم جهاد را آی اس آی به راه انداخته بود. بلکه آرمان جهاد در برابر روس و مزدوران آن از قلب تک تک مردم ما سرچشمه گرفته بود و مردم با جان و مال و سر بدون تکیه به کمک بیگانگان به جهاد می پرداختند. بلی حامد علمی گزارشگر راستین کارنامه های مردمش بود.

 اما وقتی همین شخصیت برازنده  به دربار حامد کرزی و به ارگ می رسد و در قطار "سخنگویان" قرار می گیرد، مجبور می شود دروغ بگوید و به چشم مردمش خاک بپاشد تا آبروی یک شخص خودکامه  را بخرد.  آنجا، در خدمت مردم و جهاد نام و کمال بدست می آورد و اینجا در خدمت ارگ شخصیتش قربانی می شود.

حالا جناب حامد علمی تنها دو راه در پیش دارد؛ یا این که معنی خاص کلمات را یاد بگیرد و بیاموزد که چگونه کلمات را به معانی خاصی به کار ببرد، فرهنگ "اعتراف "را یاد بگیرد و به چشم مردم درآید و پله های خدمتگذاری به دربار را بپیماید و یا این که این "فن شریف" را رها کند و به دنبال کار هایی برود که دران واژه ها حقیقی اند و دست ارگ نشینان به آنها نمی رسد تا لباس دروغین به آنها بپوشانند و اعتراف به جرم و جنایت خجالت در پی دارد و در آنجا نمی توان هم جنایتکار و کجرفتار بود وهم بر فرق مردم جا گرفت.  

      

                                                         گرد راه

لینک      نظرات ()      

آرمان شهر نویسنده: م.و.ر - ۱۳۸٩/۸/٢٤

 


1 نوامبر 2010

آگهی نشر

 Armanshahr's Newsletter Now Available

PUBLICATION ANNOUNCEMENT
  

خبرنامه جدید آرمان شهر منتشر شد

10 عقرب1389

چرا پارلمان را باید نقد کنیم؟ گزارش فشرده‌ی از ده برنامه‌ی روبرو: شهروندان و نامزد‌های انتخابات پارلمانی در (کابل وهرات)‌، کارگاه معرفی و بحث پیرامون صلاحیت قضایی جهانی با سخنرانی آقای خلیل رستم خانی؛ پیرامون چیستی صلاحیت قضایی جهانی، پی گرد قانونی، صلاحیت قضایی جهانی در حقوق بین الملل، چگونگی اعمال و موانع بر سر صلاحیت قضایی جهانی.

 مقاله‌ی دیگر به قلم محقق عبد‌الحمید رزاق زیر عنوان «نگاهی به کنوانسیون حذف تمام اشکال تبعیض علیه زنان» به نشر رسیده که در این مقاله آقای رزاق با توجه به کنوانسیون رفع تبعیض علیه زنان وضعیت زنان افغانستان را مورد بررسی قرار داده‌اند.

شصت و چهارمین برنامه‌ی بنیاد آرمان شهر با همکاری بنیاد فرهنگ و جامعه‌ی مدنی زیر عنوان یک دهه حضور بین المللی در افغانستان نتایج و دورنما؟ از آقایان داوود مرادیان از مرکز مطالعات استراتیژیک وزارت امور خارجه، کبیر رنجبر عضو پارلمان سابق و لطیف پدرام ، عضو پارلمان دوم و رهبر حزب کنگره‌ی ملی افغانستان دعوت شده بود که در این شماره فشرده‌ی از بحث‌های هر سه سخنران محترم را مطالعه خواهید کرد.

سیمرغ در قاف صلح ویژه برنامه‌یی بود که به مناسبت روز جهانی صلح به ابتکار بنیاد آرمان شهر با همکاری مرکز فرهنگی فرانسه در کابل برگزار شده بود. به همین ترتیب برنامه‌ی دیگر به مناسبت وفات استاد سعادت الملوک تابش در هرات زیر عنوان: با هیچ کس حدیث نگفتن نگفته‌ام توسط بنیاد آرمان شهر با همکاری ریاست اطلاعات و فرهنگ ولایت هرات و انتشارات فدایی هروی بر گزار شده بود. هدف این برنامه احترام گذاشتن به مردی بود که عمر خود را وقف تدریس، تحقیق و نوشتن کرده است.

 گزارش از بی‌سوادی تا جنگ، از جنگ تا بی‌سوادی سیمینار یک نیم روزه‌ی است که توسط بنیاد آرمان شهر با همکاری معینیت سواد آموزی و موسسه‌ی سواد آموزی برای بزرگ سالان برگزار شده بود.

همین طور گزارشی کوتاهی  را زیر عنوان دور دوم انتخابات پارلمانی و مشروعیت آن؟ مطالعه خواهید کرد.

در ادامه گزارشی از افزایش اعتیاد به مواد مخدر، گزارشی از افزایش 31درصدی تلفات غیر نظامیان در افغانستان را نیز مطالعه خواهید کرد.

اعلامیه کمپاین 50% زنان در رابطه به تشکیل شورای عالی صلح و مذاکره با مخالفان مسلح دولت نیز از جمله مطالب این شماره خبرنامه است.

بیانیه مطبوعاتی فدراسیون بین المللی جامعه های حقوق بشر با عنوان افغانستان: انتخابات آزاد و عادلانه و شفاف، گام ضروری برای دموکراسی هم در این شماره خبرنامه گنجانیده شده است.

نامه سرگشاده کمپاین 50% زنان به رییس جمهوری افغانستان  در این شماره به نشر رسیده است.و در ادامه مصاحبه یی با آقای نجیب فهیم استاد دانشکده حقوق و علوم سیاسی دانشگاه کابل را در رابطه به انتخابات پارلمانی مطالعه خواهید فرمود.

 و معرفی سه کتاب در باره‌ی مجاهدین، اسلام و سیاست و لیست انتشارات بنیاد آرمان شهر مطالب اخیر این شماره می‌باشد

تا دو ماه بعد...

 


 

----------------------------------------------------------------------------------------------------------

 

بنیاد آرمان شهر یک نهاد مستقل و غیر انتفاعی شهروندی مستقر در کابل است است که به هیچ دسته ی اقتصادی، سیاسی، مذهبی‌، قومی و هیچ دولتی وابستگی‌ ندارد. آرمان این نهاد ایجاد بستر‌ها ی مناسب برای تامین خواست‌های اجتماعی برای دمکراسی، حقوق بشر، عدالت و قانون مداری است و نیز دست زدن به ابتکارات فرهنگی‌ و نشر کتاب در خدمت به شکل گیری آگاهی‌ جمعی‌ شهروندان.  بنیاد آرمان شهر در راستای تبادل اندیشه و گفتگو در داخل کشور و در منطقه با هدف ایجاد همبستگی‌، پیشرفت و صلح، می‌کوشد.


 

برای اطلاعات بیشتر با ما تماس بگیرید

 

 

Tel: +93 (0) 775-32-16-97 armanshahrfoundation.openasia@gmail.com

و یا در یکی از گروههای آرمان شهر عضو شوید

 http://groups.google.com/group/armanshahrfoundationopenasia?hl=en

FACEBOOK GROUPS: Armanshahr Foundation/OPEN ASIA









لینک      نظرات ()      

کوکچه پرس سایت که در ابعاد گوناگون حقیت هارا بدون تعصب آشکار می کند نویسنده: م.و.ر - ۱۳۸٩/۸/٢۱

www.kokchapress.com

آژانس خبری بین المللی کوکچه 
عنصر آگاهی بخشی به مردم ، جریان شفاف و آزاد اطلاعات ، مهمترین هدف ماست ! ملزومات این اهداف ، شجاعت ، صداقت ، پایبندی به اصول اخلاقی انسانی و نیز اخلاق حرفه ای اطلاع رسانی همواره مدنظر ماست

 با توکل بر خداوند رحمن و رحیم و نیز همراهی مخاطبین محترم و همکاری اهالی علم و ادب ، این حرکت انشاء الله موثر را در سایتی بنام « کوکچه پریس » آغاز میکنیم.

 قصد ما صرفا راه اندازی یک پایگاه نبوده و در این حد متوقف نخواهیم شد بلکه رسالت خود را فراتر از آن میدانیم و به جنبه های فکری و تحلیلی و تحقیقی مسائل مختلف در ابعاد فرهنگی ، اجتماعی ، اقتصادی ، هنری و علمی ، توجه خاصی را مبذول می داریم .

ازجناب محترم آرزومیکنیم تاسایت مارا به هموطنان و وخواننده گان معرفی فرمایید
بااحترام
خلیل الرحمن سلحشور مدیر سایت

لینک      نظرات ()      

طرح تروراین سه وکیل خارج از ذهن نیست نویسنده: م.و.ر - ۱۳۸٩/۸/٢٠

 

 

 لطیف پدرام، محیی الدین مهدی و احمد بهزاد خار چشم فاشیسم شده اند

لطیف پدرام، محیی الدین مهدی و احمد بهزاد خار چشم فاشیسم شده اند

طرح ترور این سه وکیل خارج از ذهن نبوده و آنها باید مراقب امنیت خود بیشتر از قبل باشند

فرید سمیع


آقای کرزی برنامه دارد تا پروسه ء جذب طالبان را سرعت دهد. ایشان طبق برنامه ای اس ای پاکستان و کار گروهی طالبان، حزب اسلامی گلبدین حکمتیار، افغان ملت و احزاب پاکستانی پشتون تبارعمل کرده و تا بهار سال آینده زمینه سازی لازم برای تغییر فضای سیاسی و نظامی را آماده میکند. وارد نمودن تغییرات در ساحه ء نظامی شمال و مرکز و کشاندن ناامنی به این مناطق جزو اولویت های گروه مشترک طالبان، حزب اسلامی گلبدین حکمتیار، افغان ملت و احزاب پاکستانی پشتون تبار است. وارد کردن صد ها نفر از افراد وابسته به القاعده و طالبان تحت عنوان کوچی در بهار سال آینده ازمسیر راههای ولایات دایکندی، غور، میدان، غزنی، پروان و نورستان، لغمان و پنجشیر داخل مناطق صفحات شمال و مناطق هزاره نشین مرکزی کشور یکی از این پلانها است. بهانه تسلیمی تعداد قابل توجه افراد طالبان به دولت و مسلح سازی دوباره آنها در قالب اردو و پولیس ملی پلان دیگری است که این گروپ کاری دنبال میکند. مشروعیت دادن به طرح مذاکره با طالبان از طریق ایجاد شورای صلح با عضویت رهبران غیر پشتون و پیشبرد این طرح از مجراهایی غیر از آن پلان دیگر این گروه کاری است.

در طی پانزده روز گذشته صد نفر از طالبان در ولایت بادغیس و صد نفر دیگرشان در شمال افغانستان با بهانه پیوستن به پروسه ء صلح شامل دولت شده تا برای مرحله بعد برنامه ای اس ای و گروه کاری آقای کرزی، طالبان، حزب اسلامی، افغان ملت و پشتون های پاکستانی در قالب نیروهای دولتی مسلح سازی شوند. پروسه ء جذب طالبان و مسلح سازی در قالب دولت تا بهار سال آینده با سرعت ادامه پیدا کرده و صد ها تن از تروریستان پوشش دولتی بخود میگیرند.

در طی ماههای گذشته جلسات مشترک و مخفیانه مابین ای اس ای و عوامل آنها در افغانستان به نتایج خود رسیده و کار عملی در استقامت های مختلف آغاز شده است. آقای کرزی بخاصر اینکه به سرنوشت داکتر نجیب الله دچار نشود با برنامه ای اس ای و عوامل آنان در داخل کاملا همراهی میکند.

یکدست کردن پارلمان افغانستان به نفع قوم خاص از کوششهای آقای کرزی بود که تااکنون با شکست مواجه شد و ایشان همه ء توان خود را به خرچ داده تا مانع از ورود برخی وکلای موفق شود. پارلمان یکدست و مطیع در پیشبرد طرحها و پلانهای ای اس ای خیلی ها مفید بوده میباشد.

آقایان داکتر محیی الدین مهدی از ولایت بغلان، عبدالطیف پدرام از ولایت بدخشان و آقای احمد بهزاد از ولایت هرات وکلای موفق هستند که به پارلمان دوم راه پیدا کرده و هماهنگی آنان با سائر وکلای مخالف سیاستهای قبیلوی دولت و استعمارگرانه ای اس ای، این سیاستها را با ناکامی برابر میکند. دولت همه ء کوشش خود را بکار برده تا مانع از ورود این سه وکیل به پارلمان دوم شود. در روزهای آینده آنها هدف حملات تبلیغاتی بیشتر شده و مزدوران قلم بدست قبیله در تلویزیونها، رادیوها، روزنامه ها و سایتهای اینترنتی آنان را آماج قرار میدهند. پرونده سازی و اتهامهای ناروا و فشار آوردن از طرف دادستانی شکل گرفته و آنان تحت فشار روزافزون برای انصراف دادن از پارلمان قرار میگیرند. طرح ترور این سه وکیل خارج از ذهن نبوده و آنها باید مراقب امنیت خود بیشتر از قبل باشند.

برای آگاهی یافتن از نظرات این سه وکیل پارلمان دوم فراز هایی از نظرات آنان را درباره حوادث جاری متذکر میشوم.

لطیف پدرام

در چند سال اخیر می بینیم که یک کلمه جدید وضع شده است به نام افغانستانی ها. اگر شما از یک تاجیک یا هزاره بپرسید که کجایی هستی؟ می گوید افغانستانی هستم، نمی گوید که من افغان هستم. دلیلش این است که این بحث تغییر نام و رسیدن به نامی که دربرگیرنده همه اقوام در افغانستان باشد از مدت ها پیش در بین نیروهای سیاسی مطرح بوده است. در جریان مبارزات انتخاباتی مطرح بود، قبل از آن مطرح بود و الان هم به شدت جریان دارد. اگر شما به نشریات افغانستان نگاه کنید، بسیار روشن به این موضوع پرداخته می شود. در بعضی نشریات، یا گروه ها و سازمان ها، وقتی گفته می شود افغان، جلو آن پرانتز باز می کنند و می نویسند پشتون. این بحث وجود دارد. این بحث هم مطرح شده است که نام دیگری برای کشور انتخاب شود حالا یا باختران یا خاوران یا آریانا که دیگر این مشکل حل شود.

***

فدرالی که ما داریم مطرح می کنیم فدرال قومی نیست. ما می خواهیم ایالت های مختلف در شمال افغانستان تقسیم بشود و اینها بتوانند در داخل خودشان حاکمشان را انتخاب بکنند، بتوانند ریس استانشان را انتخاب بکنند، والیشان را انتخاب کنند، شهردارشان را انتخاب بکنند و در عین حال صلاحیت قانونگذاری داشته باشند یعنی این طوری نباشد که شما فقط یک والی را انتخاب کنید در یک استان به عنوان والی منتخب ولی صلاحیت کاری نداشته باشد، صلاحیت قانونگذای نداشته باشد، یعنی این باید همراه باشد با یکسری قانونگذاری های محدود. مساله ای که الان ما در رابطه با طالبان داریم همین است. می گوییم ما می خواهیم با طالبان گفت و گو کنیم، خوب کجا می شود با طالبان گفت و گو کرد؟ خوب باید یک جایی به آنها امتیاز داده شود یک جایی را باید گذاشت که برای خودشان قانونگذاری کنند، در غیر این صورت می گویند کل نظام باید منتفی بشود و کل قانون اساسی باید منتفی بشود خوب شما حالا چه جوری مساله طالبان را حل می کنید؟ حالا اگر طالبان در مناطق تحت کنترل خودشان و در حد خودشان بتوانند قوانینشان را اجرا بکنند مبتنی بر خواست مردم، یعنی اگر مردم در جنوب افغانستان اینها را قبول می کنند و حمایت می کنند و ....

داکتر محیی الدین مهدی:

میدانیم پشتونها در مجموع و قبایل آزاد بطور خاص، سنتی ترین و مذهبی ترین اقشار اقوام ساکن در افغانستان را تشکیل می دهند. درصد اعظم دانشجویان و مدرسین موسسات دینی پاکستان را، طالب العلمان متعلق به اقوام پشتون تشکیل می دهد. این طالب العلمان کم دانش و کم سن، بیشتر از سایر اقشار جامعه، در برابر تبلیغات و تحریکات دینی و قومی، آسیب پذیر هستند. اینجاست که اولین موجه های جنگجویان طالب، از میان همین جوانان و نوجوانان قبایل انتخاب شدند. قبایلی که آخرین سنگر مبارزه برای آزادی پشتونستان بحساب می آمدند، بطور ناخود آگاه و از روی احساسات دینی و قومی، به مبارزه ی- در حقیقت علیه هستی و استقلال خود کشانیده شدند؛ و از این به بعد، برای دسترسی به اسلحه و شرکت در برنامه ی جهاد! ناگزیر حضور بیشتر دولت پاکستان را تحمل کنند و بتدریج در آن نظام حل شوند.

***

نظام های توتالیتر حزب دموکراتیک و طالبان نیز به امر توزیع قدرت و وجود صدر اعظم در رأس امور اجرایی، معتقد بودند. نظام سیاسی موجود، تقلید ناقص و قیاس مع الفارقی از نظام امریکا است. در حالیکه بهترین برهه ی نظام سیاسی امریکا، همین «عدم تمرکز قدرت» در آن است، که اولاً توسط توزیع آن در سطح افقی- میان نهادهای پارلمان و ریاست جمهوری- به نمایش در آمده؛ ثانیاً با اعطای اختیارات و صلاحیت ها به ولایات- در سطح عمودی- آنرا مرعی داشته اند.

در افغانستان نیز، اندکی پیشتر از دهه ی دموکراسی، اداره ی ملکی کشور به هفت ایالت بزرگ، زیر نام «ریاستهای تنظیمه» سپرده شده بود که هر ریاست یک شورای ولایتی به نام «مجلس مشوره» داشت. حال می توان همان تجربه را بصورت ابتدایی آن از سر گرفت. هر چند رؤسای تنطیمه انتخابی نبودند، و در مواردی مستبدانه و خودکامه عمل می کردند؛ ولی دارای صلاحیت های لازم در امور اداری و مالی بودند.

برای بازگردانیدن نظام به مجرای اصلاحات، و ایجاد یک حکومت جوابده، ممکن است پیشنهادات آتی مفید واقع شود:

شخصی با دانش و در تجربه با سمت صدر اعظم، از جانب رئیس جمهور موظف به تشکیل کابینه گردد:

1- صدراعظم و اعضای کابینه اش، از ولسی جرگه رأی اعتماد گیرد.

2- کسب رأی اعتماد، می تواند تیمی (گروهی= Package) و یا انفرادی باشد.

3- عزل صدر اعظم به پیشنهاد ثلث اعضای ولسی جرگه و تائید رئیس جمهور، یا با رأی دو ثلث اعضای ولسی جرگه اجرا گردد.

احمد بهزاد:

البته خود من از همراه شدن با کار سیاسی اهداف مشخصی را تعقیب می کردم و در اثر مطالعاتی که داشتم به نتایجی رسیدم که افغانستان از زمانی که شکل گرفت و کشوری به نام افغانستان در جغرافیای سیاسی جهان عرض اندام کرد، از یک درد تاریخی و یک درد مزمن رنج برده است و آن آفت استبداد زدگی است.

متاسفانه ریشه تمام نابسامانی های سه دهه اخیر، هم کودتای 7 ثور و هم جنجال های عصر مجاهدین و بعدا ناملایمات عصر طالبانی همه به نوعی ریشه در تاریخ استبداد زده 250 ساله افغانستان دارد. مردم افغانستان عمدتا نقشی در تعیین سرنوشت کشور خود نداشتند و این خاندان های حاکم بودند که همه چیز در تحت قدرت آنها بود و آنها تعیین می کردند که افغانستان چگونه باشد و مردم افغانستان حق چه نوع زندگی را داشته باشند. بدیهی است که در سایه حکومت استبدادی، ملت و مردم رنج های بیشماری را متحمل می شوند و یکی از آن رنج ها تبعیض است.

متاسفانه ما درافغانستان یک پیشینه سیاه بنام تبعیض قومی، نژادی، مذهبی، سمتی و لسانی داریم، اینها به هم تنیده شده است. یکی از دلایل فقر و عقب ماندگی افغانستان خصوصا در 130 سال گذشته یا در 5/1 قرن گذشته مساله، اعمال سیاست های سیستماتیک تبعیض آمیز بوده است.

حاکمیتی که با امارت امیرعبدالرحمن خان در افغانستان شکل می گیرد، برای اولین بار مرزهای افغانستان ترسیم می شود، مرزهای کنونی افغانستان یک حاکمیت قوی در افغانستان بوجود می آورد که همزمان با قتل عام های گسترده در افغانستان است. یک بخش وسیعی از مردم افغانستان در اثر اعمال سیاست های تبعیض آمیز، استبدادی و ظالمانه قتل عام می شوند. بعضی از اقوام 63% از جامعه خود را از دست می دهند. یک قسمت وسیع دیگری از مردم افغانستان آواره می شوند. شما امروز می توانید که آواره های افغانستان را در ایران، پاکستان و حتی در ترکمنستان مشاهده کنید. این گونه هست که هدف من از همراهی با سیاست آن بوده که ما در افغانستان قبل از هر اقدام دیگری باید تلاش کنیم تا سیاست را انسانی سازیم. آنچه به عنوان سیاست های شیطانی در افغانستان مطرح است، آمیخته با تبعیض، ظلم و ستم است. ما باید آن را به شکل یک شاهراه سالم در آوریم که آن سیاست انسانی است. هدف کلی من این است ولی باز در جزییات وارد می شوم که باید چه راهکارها و چه مکانیزم هایی را ارایه کنم؟

منابع:

1: مصاحبه لطیف پدرام با بی بی سی

http://www.bbc.co.uk/persian/iran/2...

1: سایت داکتر مهدی

http://www.doctormahdi.com

2: مصاحبه آقای بهزاد با خبرگزاری پامیر

http://www.pamirpress.com

                             برگیرفته از کابل ّرس

لینک      نظرات ()      

استاد استالفی کریمی نویسنده: م.و.ر - ۱۳۸٩/۸/۱٩

به نشانۀ سپاسگزاری از آقای ولی متولی رحمکیان گرامی ! .

کریمی استالفی .

رحمکیان عزیز ! .

ما این واقعیت را پذیرفته ایم که ، با گذشت هر دهه  ، در آسمان بیکرانۀ ادبیات ، جای شاعران افسانه سراء عشقی را ، نسلی جوان ، با خصوصیات روحی متفاوت و سلیقه های خاص ، پـُر می سازد .

     نسلی که دانسته اند ، در چه مقطعی از زمان و مکان زنده گی می کنند ، نسل پر تحرکی که میکوشند تا راز ها ، واقعیتها و نا مکشوف ها را شاعرانه به تصویر بکشند و بر خواننده گان منتقل کنند .

یکی از ویژه گی های غزل « پندار تو » اینست که ، واقعیتها ، خیال و احساس با هم آمیخته و پرده از روی بسیاری راز ها بر میدارد .

                                       «  پندار تو »

 شعرتر تو زمزمه ای آبشار ماست

                                   هرواژه اش تبلوردشت ودیارماست

   پیوند ، فردهای تو دراعتقاد ما

                                  درسطرهای شعرتودستوریارماست

   ما را قریحه ی توبیاد آورنده است

                                  تشبیه تو مشابه این روزگارماست

   مضمون شعرتو مداوای درد هاست

                                  درهرپیام شعرتو، ده ها شعارماست

   هرفرد فرد شعرتوتشریح مدعاست

                                 تا خم رویم برتری جویان سوارماست

   نبض سروده های توکردار آدمهاست

                               پندارتو، نوشته ی سنگ مزار ماست

   مضمون نثرهای تولشکر شکن شوند

                                  سیلابه های نغزتو را اختیار ماست

   گـفتارتـو حقیقت دنیای دون ما

                                هربیت تو شگوفه ی از ابتکار ماست

   بنوشته ی توزنده کند یاد رفته ها (1)

                                 بسیارها شهید وهمین یادگار ماست (2)

یزدان را سپاس ، دهد عمر جاودان

                               با یک جهش، دشمن دیرین شکارماست .

سر انجام ، خدا را سپاسگزارم ، علیرغم مشغله های مشکل آفرینکه در دیار غربت ، دامنگیر جوانان ماست و هر چند تند باد های فاجعه بار ، فراوان قلمها را شکست و صد ها داعیه های نامورعلم و ادب و خرد را یا جبراً به نا کجا آباد ها مهجور و یا بدیار نیستی فرستاد ، اما جای شکر آن باقیست که ،  این توفان های هولناک نتوانسته ، با تمام قوت اهریمنی خویش ریشه های فرهنگ خراسان زمین را از بیخ و بن بر کند و ما شاهد جوانه زدن ریشه هایی هستیم که درغربت سراء قامت برافراشته و پرچم پر بار ادبیات کهن دیار ما را در سرزمین های دور به اهتزاز در آورده اند ،  تا آنهایی که کتاب را در رود خانه ها غرق و خواب سلطۀ دوبارۀ فرهنگ قبیله را می بینند ، بدانند که در برابر تهاجم کتاب سوزان ، قلم شکنان و فرهنگ ستیزان کهنه گراء ، هنوز هم کشور ما فاقد نیروی روشنفکران و فرهیختگان علم و ادب نبوده ونخواهد بود ، گرچه کار های ابتدایی این نسل ، با کمبودی ها و کاستی هایی تؤام است ، اما آرزو میرود ایفای این تلاشها ی دلسوزانه راه کشاء و هموار کنندۀ  برای نسل جوان مان بوده بتواند . بااحترام

(1) شهیدان زمان امین پلچرخی

(2) لطیف پدرام

                                                   برګیرفته از غزال دربند

لینک      نظرات ()      

اعلامیه شورای متحد ملی علیه دست درازی حکومت در نتایج انتخابات دور دوم نویسنده: م.و.ر - ۱۳۸٩/۸/۱۸


اعلامیه ی شورای متحد ملی افغانستان
در پیوند به نکوهش دست درازی حکومت در مسأله ی انتخابات

کابل-افغانستان
18 سنبله 1389خورشیدی




دومین انتخابات پارلمانی همراه با کاستی ها، تخلف ها، تخطی ها، تقلب ها و تهدید های امنیتی، در 27 سلنبه ی سال روان برگزار گردید. اما نتایج نهایی آن خلاف انتظار تا کنون اعلان نشده است.
بربنیاد گزارش های رسیده کار کمیسیون انتخابات، اسباب قناعت حکومت را فراهم ننموده و از آن فراتر باعث پریشانی و خشم تیم حاکم نیز گردیده است؛ به گونه یی که یکروز پس از انتشار نتایج ابتدایی انتخابات رییس جمهور از مصلحت بینی در گزینش نمایندگان در ولایت غزنی سخن راند. طبق تازه ترین گزارشها فرمایش های در سایر ولایت ها نیز داشته است که بر اساس آن می باید نامزد های برنده جای خود را به نامزدهای بازنده تعویض دارند، تا برنامه های تمامیت خواهانه حکومت زمینه ی تحقق پیدا نماید.
زمانی که خواسته های حکومت با مانع روبرو می گردد، دادستانی کل (لوی سارنوالی) بربنیاد یک سناریوی تنظیم شده از سوی حلقات معیین در دستگاه حاکم، به دست درازی آشکار می پردازد و کمیسیون انتخابات را زیر فشار قرار می دهد.
دادستانی کل کشور بعنوان اداره ی حراست از تطبیق قانون طبعاً حق دارد تا در صورت قانون شکنی ها مواردی را که جرم پنداشته شده اند به بررسی گیرد؛ اما به دو دلیل نحوه ی برخورد آن بمثابه ی اعمال فشار غیر قانونی به کمیسیون مستقل انتخابات برای تامین مقاصد معیین سیاسی حکومت تلقی می شود:
نخست اینکه تثبیت و تشخیص موارد دارای وصف جرمی در روند انتخابات، از صلاحیتهای کمیسیون بررسی شکایت های انتخاباتی است و هر گونه تلاش برای نقض و سلب این صلاحیتها قانون شکنی آشکار می باشد و دو دیگر آنکه چون به حکم قانون انتخابات، بررسی تمام شکایت های شخصیت ها و نهاد های حقیقی و حقوقی از روند انتخابات صریحاً از وظایف کمیسیون بررسی شکایات است، پس باید بررسی های دادستانی نیز از مجرای این کمیسیون صورت پذیرد.
ازین بابت است که ما حق داریم این نگرانی را مطرح کنیم که اعمال فشار مستقیم به کمیسیون انتخابات و تعیین ضرب الاجل میتواند به منظور مداخله در روند انتخابات، بخاطر اهداف معیین سیاسی تیم حاکم برنامه ریزی شده باشد.
بنابرین نحوه ی دخالت دادستانی کل از چند رهگذر خلاف قانون پنداشته می شود:
1- کمیسیون مستقل انتخابات، مطابق مفاد قانون اساسی افغانستان، نهاد مستقلی است که هیچ نهاد حکومتی نمی تواند، در مسایل مربوط به آن مداخله نماید. هر گونه دست درازی در امور کمیسیون مستقل انتخابات، استقلالیت کمیسیون را صدمه زده و انتخابات را زیر سوال می برد.
2- رسیدگی به کلیه شکایات وکاستی های انتخابات طبق قانون به کمیسیون بررسی شکایات تعلق می پذیرد و شناسایی مواردیکه وصف جرمی دارند نیز به کار کمیسیون بررسی شکایات پیوند دارد و داستانی کل تنها ازمجرای این کمیسیون صلاحیت انجام بررسی را دارد.
3- وقتی دادستانی کل ( لوی سارنوالی) عرایض شاکیان انتخابات را می پذیرد، در واقع خلاف قانون عمل می دارد و در کار کمیسیون بررسی شکایات مداخله می نماید. از سوی دیگر آن گاهیکه می پرسد، چرا کمیسیون انتخابات در فلان محل آرایی را بی اعتبار شناخته است، در یک موضوع مدنی پرداخته است که خارج از حوزه ی صلاحیتهای خود گام برمیدارد.
4- هر گاه دادستانی کل ( لوی سارنوالی) دست از مداخله برندارد و اعلان نتایج انتخابات را به تاخیر اندازد، در واقع با یک برنامه ی کلان ملی مخالفت ورزیده و آسیب های زیادی را متوجه کشورنموده است.
شورای متحد ملی افغانستان با توجه به مطالبی که ذکرش گذشت، خواستار آن است تا کمیسیون بررسی شکایات بیش ازاین نباید از مسؤلیت های خویش شانه خالی نماید و اختیار خود را به دست دیگران دهد. تامین فضای باز عاری از هر گونه فشار برای کمیسیون انتخابات وظیفه مهم نهاد های ملی و بین المللی است، تا هرچه زود ترزمینه ی اعلام نتایج انتخابات پارلمانی فراهم گردد.

ومن الله التوفیق
کمیته ی اجرائی
شورای متحد ملی افغانستان

لینک      نظرات ()      

نظام پارلمانی راه حل مناسب برای مشکلات افغانستان کثیر القومی است نویسنده: م.و.ر - ۱۳۸٩/۸/۱٧

 

 

گفت و گو از حمیدالله حبیبی با

دکترمهدی

گفت و گو با دکتر محی الدین مهدی، نامزد انتخابات پارلمانی 1389

بر اساس نتایج ابتدایی، شماری از هم اندیشان شما در ولایات مختلف افغانستان برنده شده اند، آیا شما برنامه خاصی برای پارلمان آینده دارید؟

 

من نسبت به آینده انتخابات و پارلمان افغانستان بعدی خوشبین هستم. به دلیل این که در سرتاسر افغانستان وقتی که به فهرست برنده ها نگاه می کنیم چهرهای تابناک را می بنیم که خوشبختانه مردم افغانستان از روی بصیرت به آن ها رای دادند تا نمایندگان خوبی را وارد پارلمان نمایند.

 

در ضمن پارلمان گذشته دوره ی اول بود و یک تجربه اول لااقل در نسل ما بود. بدون شک ما در پارلمان گذشته کمی و کاستی های زیادی را مشاهده کردیم، بیشتر این کمی و کاستی ها، در هیئت رهبری پارلمان و چگونگې رهبری آن بود. در بسیار موارد ما می بنیم که همین نهاد قانون گذار با کمال تاسف در کنار دولت و حکومت قانون شکنې می کند.

 

ما امیدواریم که پارلمان بعدی با توجه با این درس، تجربه چنین کاری را نه تنها مرتکب نشود؛ بلکه برای افزودن به اقتدار پارلمان و در واقع  برای به نمایش گذاشتن صلاحیت و حضور مردم افغانستان در حاکمیت، بیش از پیش توجه  جدی داشته باشد.

 

مردم از کارهای پارلمان حاضر راضی نیستند. به نظر شما اولویت های کاری پارلمان آینده کدام موارد باید باشد؟

 

به نظر من مواردی که مردم از پارلمان حاضر راضی نیستند، یک قسمت اش آن گونه که  اشاره کردم به چگونگی رهبری پارلمان حاضر بر می گردد و قسمت دیگر اش، به آیین نامه ی داخلی پارلمان مربوط می باشد.

 

من باور دارم هر باری که  رسانه ها خصوصا رسانه های تصویری، تصویری از داخل پارلمان را منعکس می سازند و مردم افغانستان کرسی های پارلمان را خالی می بینند، این کار به حیثیت پارلمان صدمه می زند. همچنان نمایندگان ملت به جای وظایف اصلی شان که نظارت به قانون و نظارت بر اعمال حکومت است، پشت دروازه های هر مامور حکومت، انتظار می کشند که این هم به اعتبار و وقار پارلمان، صدمه ی بزرگ و جدی وارد کرده است.

در کنار این، حکومت متاسفانه خوی کرده است که در صلاحیت های پارلمان مداخله کند و پارلمان را وسیله دست خود بسازد. حکومت تلاش دارد که  در مواضع حتا غیر قانونی خود،  پارلمان را پشت سر خود بکشاند. من خواهان این هستم که پارلمان آینده در حدود صلاحیت خود، مستقل باشد.

باید پارلمان  در حدود صلاحیت های قانونی که قانون اساسی برایش در نظر گرفته است استقلال عمل داشته باشد تا به این ترتیب بتواند به عنوان نهادی ممثل اراده ی مردم، عزت و آبروی مردم افغانستان را حفظ کند.

 

مسایل دیگری هم هست که باید پارلمان آینده به آن بپردازد. ما در طول پنج سال گذشته نواقص بسیار جدی را در جریان کار پارلمان مشاهده نمودیم.

در قانون اساسی کوتاهی های جدی است که هر بار ما را در تنگنا قرار می دهد. به گونه ی نمونه، هنگامی که اعلام شد اول جوزای سال پنجم، پایان کار یک دور ریاست جمهوری است؛ اما بنا بر دلایلی انتخابات برگزار نشد، در آن زمان  ما در یک خلا قانونی قدرت قرار گرفتیم.  قانون اساسی هم در این مورد، هیچ روشنی در اختیار مردم قرار نداده است که مطابق آن عمل می شد.

 

به همین ترتیب، قوانین دیگر نارسایی های  جدی دارند، که باید برای رفع این نارسایی ها پارلمان رسیدگی می کرد. همین گونه در بسیاری قانون شکنی های حکومت، متأسفانه پارلمان هم همراه آن شد و باید  پارلمان، پیش رو رسیدگی به قانون و نظارت جدی از اعمال حکومت را به درستی و استقلال عمل انجام دهد.

به باور ناظران، پارلمان کنونی به ویژه در سال اخیر به شدت به حاشیه رانده شده است، طوری که حتی در مورد مسایلی چون صلح با طالبان، کمترین توجه به نظر پارلمان صورت نگرفته است. از دید شما، پارلمان آینده چگونه می تواند با این چالش "به انزوا کشانیده شدن" مبارزه کند؟

 

تصور من این است که یکی از اهداف حکومت از ساختن شورای عالی صلح، کاستن صلاحیت پارلمان است. خصوصا پارلمان آینده را به عنوان یک رقیب و مانع در برابر خود تصور می کند. از این رو حکومت خواست بخشی از صلاحیتش را به طور غیر قانونی به شورای عالی صلح بسپارد. به گمان من تصمیم در مورد صلح یا جنگ، یکی از صلاحیت های پارلمان افغانستان است. هنگامی که نمایندگان منتخب مردم افغانستان، نتواند در مورد صلح  با طالبان تصمیم بگیرند، افراد منتصب توسط حکومت هرگز نمی توانند در این مورد تصمیم بگیرند و قادربه آوردن صلح شوند؛ چون هم کار شان مبنای قانونی ندارد و هم صلاحیت اجرایی ندارند.

 

آن گونه که در بالا اشاره نمودم، یکی از مواردی که رهبری پارلمان در قانون شکنی با حکومت هم سویی کرده است، همین مورد است.

 

وقتی ما می بینیم که حکومت جرگه ی صلح را با صلاحیت های غیر قانونی برای تصمیم گیری بر یک مسئله ی بس مهم، ایجاد می کند و رهبری پارلمان در صف اول آن می نشیند، این کار خود به اعتماد پارلمان صدمه شدید وارد می کند. من امیدوارم که مجلس دوم، برای کسب دوباره ی این اقتدار و صلاحیت های که بطورغیرقانونی از دست داده است، جد و جهد لازم به خرچ دهد.

در پارلمان کنونی جنجال های زیادی بر سر برخی از قوانین به میان آمد؛ مثلاً قانون انتخابات و قانون تحصیلات عالی، پارلمان را بارها به تشنج کشاند و حتی یک بار باعث اعتصاب بیشتر از نیمی از اعضای پارلمان شد. تصویب این قوانین معلق مانده است، آیا به نظر شما در پارلمان پیش رو بار دیگر روی تصویب این قوانین کار صورت گیرد؟

 

قطعا ما نمی توانیم از روی این مسایل بگذریم. هم قانون انتخابات و هم قانون تحصیلات عالی نواقصی دارند، قطعا فراگیر بودن و بی نقص بودن این قوانین یک امر حیاتی است. وقتی ما نهاد های مستقل دولت را داریم و هر کدام وظیفه ی خود را دارا هستند، پس قوانین باید پس از تصویب پارلمان به اجرا گذاشته شوند، نه این که از تشنج پارلمان استفاده شده، حکومت به خواست و سلیقه ی خود فرمان تقنینی صادر نماید.

 

در مواردی که پارلمان را به تشنج کشانید، پیشنهاد من این است که همچو موارد در بحث کمیته ی رؤسای پارلمان قرار بگیرد. یعنی مسایلی که به همبستگی ملی افغانستان صدمه می زند و وسیله ی می شود برای شماری که منافع شان را در تفرقه می بینند، باید این گونه مسایل در کمیته ی رؤسا مورد بحث قرار گرفته و پس از توافق، آورده شود به جلسه ی عمومی.

اشتباهی که در مورد این دو قانون، در پارلمان گذشته صورت گرفت، همین بود که قبل از این که در جلسه رؤسا مورد بحث قرار گیرد، آورده شد به جلسه ی عمومی که  در قانون انتخابات مسئله ی سهم کوچی ها  در انتخابات معضل خلق نمود.

به گمان من، یک بخش از مشکلات مخصوصا مشکل شفافیت و نبود شفافیت در انتخابات بر می گردد به این که با تاسف دولت موجود، از اول وعده سپرد که یک آمار همگانی پس از سرشماری سرتاسری در افغانستان تهیه می کنیم؛ ولی به چنین امر موادرت نورزید، درحالی که یک مسئله حیاتی و ضروری هم بر شناخت و هم برای حل معضله های اجتماعی موجود در افغانستان می باشد. من امیدوارم که پارلمان آینده  با جلب حمایت ی بین المللی احصاییه را تر تیب کند، وقتی که ما احصاییه ی دقیق را در دست داشته باشیم مشکل از نوع تعداد کوچی ها در پارلمان افغانستان خود به خود، توسط احصاییه حل میشود.

موضع گیری های اعضای پارلمان کنونی در مواردی متعددی به شدت پراکنده بود؛ در برخی موارد اگر اتحاد نظری هم وجود داشت، این اتحاد بیشتر قومی بود. در پارلمان پیش رو چگونه می توان بر این مشکل فایق آمد؟

 

با تآسف بگویم که حکومت، همواره روی غیر حزبی بودن انتخابات تاکید می ورزد؛ البته باید گفت که حکومت از تشکل احزاب سیاسی فرا قومی و افغانستان شمول نگران است و این کار را یک چالش بسیار جدی دربرابر خود فکر می کند و همواره بهانه می آورد که ما انتخابات را بخاطر این حزبی نمی سازیم که حزب های فراگیر و افغانستان شمول وجود ندارد؛ ولی از جانب  دیگر ما می بینم که در سال های گذشته بر احزاب خانوادگې هم اجازه فعالیت داده شده، در حالی که این امر خود مانع تشکل احزاب افغانستان شمول می شود.

 

خوشبختانه تغییرات و اصلاحاتی که در قانون احزاب به وجود آمد، شرایط سخت تری را برای تشکل احزاب پیشنهاد کردند که من خود شخصا از این شرایط استقبال می کنم و این زمینه را مساعد ساخته که احزاب افغانستان شمول به وجود بیاید.

می خواهم بگویم تا زمانی که ما پارلمان را حزبی نسازیم، پارلمان قطعا موضوع گیری قومی خواهد داشت، حزب است که فراتر از قوم افراد را جمع می کند و منافع افغانستان شمول را مطرح می کند و افراد روی این منافع و خطوط مشترکی در کنار همدیگر از اقوام مختلف می آیند؛ اما وقتی که پارلمان حزبی نبود، طبعا گرایش های قومی شدید می شود و موضوع گیری با اساس قومی صورت می گیرد.

 

پیشنهادم این است که بر تشکل احزاب سیاسی در آینده از درون پارلمان کوشش شود. لاقل اگر چنین امری مقدور نباشد، کوشش شود که گروهای پارلمانی ساخته شوند، یعنی در درون پارلمان گروهایی فراتر از گروه های قومی ایجاد شوند که روی خطوط مشترک مسایل سیاسی و بین المللی فکر و عمل کنند که این امر مانع موضوع گیری های قومی خواهد شد.

 

آن گونه که  شما هم اشاره کرده اید، یکی از مهمترین عوامل این مشکل را هم غیر حزبی بودن پارلمان است؛ آیا راهکاری برای زمینه سازی حضور احزاب در انتخابات بعدی در نظر دارید؟

طوری که در دنیای معاصر ما می بینیم، دولت ها در قبال اجرای سایر مسؤولیت های خود، ایجاد زمینه های درست برای ایجاد و تشکل احزاب سیاسی را خیلی مهم می انگارند. احزاب سیاسی در دنیای معاصر نه تنها دشمن دولت ها نیستند؛ بلکه متمم و همکار خوب دولت ها به شمار می آیند. حتا دولت ها مکلف اند که بودجه ی معین در اختیار احزاب سیاسی قرار دهند و احزاب سیاسی هم مکلف اند که از چگونگی مصارف خود برای دولت گزارش بدهند.

 

شما به عنوان یکی از اعضای برجسته ائتلاف داکتر عبدالله، بارها بر روی برقراری نظام پارلمانی تاکید کرده اید، آیا پس از ورود به پارلمان نیز در این زمینه تلاش خواهید کرد؟

فکر می کنم که راه حل مشکل افغانستان همین است. بسیاری ها فکر می کنند که مشکل افغانستان مشکل طالبان است؛ اما باید توجه داشته باشیم که مشکل طالبان با نظام کنونی و جامعه ی جهانی از ۲۰۰۱ میلادی شروع می شود؛ اما مشکل مردم با نظام های غیر مردمی افغانستان، پیش  از ۲۰۰۱ میلادی وجود داشت، پس معلوم می شود  که ریشه های این مشکل خوب بر رسی نشده. ما در هر دو صورت ضرورت داریم که مشکل افغانستان را بررسی کنیم.

 

به نظر من تا زمانی که ما حل مشکل معضله افغانستان است را بررسی نکنیم، هر زمانی مشکل طالبان و مشکل مثل طالبان دوباره در افغانستان به میان خواهد آمد. برای حل این مشکل من نظام پارلمانی را پیشنهاد می کنم، نظام پارلمانی در یک کلام برجسته ساختن اقتدار مردم افغانستان است که صلاحیت را به جای این که به دست یک فرد بدهد، به دست نمایندگان واقعی مردم افغانستان واگذار می کند.

 

البته همان گونه که  پیشتر اشاره داشتم، توجه برای  اصلاح قانون انتخابات و برای برگزار شدن انتخابات شفاف باید صورت بگیرد تا این که پارلمان و نماینده های مردم واقعا ممثل اراده مردم افغانستان باشند.

 

من تا پایان روی این موضع گیری اصرار خواهم کردم که صلاحیت از یک فرد، از یک شخص، که نام اش را نظام ریاستی گذاشته اند، به پارلمان افغانستان که مظهر اراده ی  نمایندهای مردم افغانستان می باشد، انتقال نماید. من روی این اصل همواره اصرار خواهم کرد و این را به عنوان یکی از راه حل های مناسب، برای حل معضله ی افغانستان کثیرالقومی می دانم. من باور دارم که نظام پارلمانی برای افغانستان کثیرالقومی بهترین نظام است.

 

                                                              منبع تاجیکم

لینک      نظرات ()      

ناخود آگاه نویسنده: م.و.ر - ۱۳۸٩/۸/۱٧

 

نویسنده: دکتورصفی الله صفی

 

احساس ناخودآگاه


ازت متنفرم
ولی تنهاتورامیخواهم

تورادرخواب میبینم
وتودررویاهای منی

تونمیدانی
که دلت سنگ خاراست

ازنرمی قلبت خجیلم
ومن بامویه های خفیف دلم

تراموشگافی میکنم
ریشته های زنجیره ی

ازبرای تووازتواند
که برمن برگشته اند

این یک رشته ی احساس است
فقط احساس

من خموشم
درخموشیم تورامیجویم

در بیخودی خود
درخودپیچیده ام

ترادرخودمیبینم
وتوته های گوشه ی قلبم

روانه دیارتوست
امادیاری بیخودی!!!

ازخودبریده ام
وبرخود تنیده ام

ناله ی جانکاهی
ازمن و ازتورمیده است

گاهی بانوا، گاهی از بینوای
نوای ترابربینوای ام

ناخود آگاه افزوده ام


(٧-١١-٢٠١٠- المیلا)

لینک      نظرات ()      

مشکل سرزمین ما همین اندیشه های خرمی هاست نویسنده: م.و.ر - ۱۳۸٩/۸/۱٦


این جمله می تواند یک فرآیند مردم سالارانه که ملیون ها دالر خرچ برده است را تخریب کند. این جمله می تواند اقوامی که درافغانستان سال ها با هم زندگی پر از صفا داشته اند را به کشمکش و منازعه بکشاند. این جمله بیشتر به همان « جنگ ناخنک « می ماند که تنبل ترین شاگردان صنفی که تنبل ترین معلم در دوردهء ابتدایی آن را اداره می کند، انجام دهد.

افغانستان زیستگاه اقوام مختلف بوده و هرازگاه این اقوام در آنچه مربوط همهء کشور می شده است به عنوان یک مشت واحد عمل کرده اند.

همین مشت واحد همیشه نشانه یی بوده است از وحدت همه یا همانا وحدت ملی. زیرا افراد همیشه از گرایش فردی و قومی برون می شده اند و این گرایش ها را نگرش های کوچک از نبود و کمبود فرهنگ می دانسته اند.

میرمسجدی خان کوهستانی ، عبدالله خان اچکزی، میربچه خان کوهدامنی ، محمد جان خان وردک، ملک محمد اصغر خان کابلی و غازی محمد عثمان خان تگابی زمانی و... که همرزم در مقابل نیروهای متجاوز می جنگیندند، فقط وطن، دین و وظیفه را می دانستند و هر بهانه دیگر را به قول مرد سخن صوفی عشقری با سه سنگ طلاق کرده بودند.

نکونامی این بزرگ مردان هم همانا بزرگ اندیشی و راست اندیشی شان بود در کاری که انجام میدادند. اندیشه های فردی، قومی و زبانی در نزد اینان، کار فرومایه گان دون صفت را می ماند که مایهء ننگ بود.

این بزرگمردان همیشه به این گفته می اندیشیدند که « اندیشه های دون و فرومایه از ذهن کسانی برون می زند که خود دون و فرومایه اند.»

اما در کشور ما به خصوص در دههء اخیر فردگرایی و قوم گرایی، که زمانی مایهء شرم بود ، به یک افتخار مبدل شده است.

فردی ملی گرا حساب می شود که پیرو پست ترین اندیشه های هزارهء سوم است، اندیشه های گرایش به فرد، قوم و زبان.

این معضل هراز گاهی این طرف و آن طرف سو سو می زد؛ اما دراین اواخر و به خصوص بعد از انتخابات دوم مجلس نمایندگان بیشتر محسوس است.

باری رئیس جمهور رسمأ اعلان داشت که وحدت ملی در خطر است؛ زیرا نتایج ابتدائی انتخابات دوم مجلس نمایندگان نشان می دهد که از مردم به صورت درست نمایندگی نشده است. اگر به این گفتهء جناب رییس جمهور دقت شود، می توان به دو تا مشکل عمده دراین گفته پیدا کرد.

اول. اینکه نتایج ابتدائی آن طور که از نامش پیداست، آخر کار نیست که ابتدای کار است و قضاوت درمورد این برآیند، کاری دور از ذهنیت زعیمانهء مقامات بلند پایهء حکومت است.

دوم. فرآیند انتخابات و برآیند آن و قبول این برآیند به عنوان پدیدهء برون شده از یک راه دور و دراز قانونی، یکی از وجایب هر شهروند است و هرکس این را نپذیرد، گویا قانون اساسی را نپذیرفته است و آنکه قانون اساسی را نپذیرد .......

از سوی دیگر ریاست جمهوری نباید وقت گران بهای شان را دراین سپری کنند که رابطهء یک فرآیند شفاف را چگونه می شود با وحدت ملی تعریف کرد و این فرآیند را وارونه جلوه داد.

ملت افغانستان از ریاست جمهوری خود نظرات به مراتب بالاتر و والاتر را توقع و نیاز دارند.

این ملت هیچگاهی خواهان غرق شدن ریاست جمهوری شان در گرداب مسایل قومی و زبانی و ...... نیست. اما پایان کاروان این نیست و این باغ بر دیگری نیز دارد؛ آقای عبدالکریم خرم وزیر پیشین اطلاعات و فرهنگ نیز دراین اواخر مواردی را دراین زمینه ارائه نموده اند.

آقای خرم در گفتگو با یک صفحهء انترتنی گفته است که برخی مناطق پشتون نشین در روز انتخابات دوم ولسی جرگه به صورت عمدی ناامن شده بودند. به گفتهء آقای خرم تعدادی خارجیان می خواهند که با پارلمان جدید افغانستان را از هم جدا کنند؛ اما واضح نشده است که چگونه.

از همه مهم تر اینکه آقای خرم گفته است که « سالمیت افغانستان زمانی متوجه تهدید می شود که پشتون ها خود شان را در نظام نبینند و از آن روگردان شوند»

این جملهء اخیر آقای خرم بیشتر به یک متن املائی می ماند که یک معلم ناشی و بی سواد به شاگرد خود در ابتدیی ترین صنف دورهء ابتدائیه گفته باشد. به این معنا که خود قید اختراع کرده است و خود نوع جدیدی از جمله را به کار برده است و خود دکترین جدیدی داده است.

اما در پشت این جمله، می شود به یک نکتهء تاریک دیگر پی برد و آن اینکه این جمله می تواند یک فرآیند مردم سالارانه که ملیون ها دالر خرچ برده است؛ را تخریب کند.

این جمله می تواند اقوامی که درافغانستان سال ها با هم زندگی پر از صفا داشته اند را به کشمکش و منازعه بکشاند. این جمله بیشتر به همان « جنگ ناخنک» می ماند که تنبل ترین شاگردان صنفی که تنبل ترین معلم در دوردهء ابتدایی آن را اداره می کند، انجام دهد.

از سوی دیگر زمانی از نظام تعریف می نمائیم، نظام تنها پارلمان نیست، هرچند نظام مردم سالار بدون پارلمان نمیتواند نظام باشد.

آقای خرم باید شرح دهد که هدف ایشان از « در نظام ندیدن « چیست؟ اما پیش ازاینکه جناب شان دست به این کاربزنند باید با یک چوت یا ماشین حساب، تعداد مسوولین بلند پایهء این نظام را بشمارند و بگویند که هرکدام مربوط به کدام قوم اند و اگر ممکن باشد بشمارند که چه تعدادی از قومی که جناب خرم می گویند « در نظام خود را نمی بینند» وجود دارد.

من از قومی نام نبردم؛ زیرا می شرمم که ملتم را به قوم ها تجزیه نمایم، حد اقل پیش خودم.شهریار آسیون 

 شهریار آسیون

روزنامه ماندگار 

                                            برگیرفته از کوکچه پرس

 

لینک      نظرات ()      

برای دریافت جایزه سیمرغ 246 تن رقابت می کنند نویسنده: م.و.ر - ۱۳۸٩/۸/۱٤

با درود بر همه و سپاس از دوستانی که لطف کردند و آثارشان را به دبیرخانه جایزه ادبی سیمرغ ارسال نمودند. بالاخره بعد از ماه‌ها مدت ارسال آثار به دبیرخانه‌ی جشنواره به پایان رسید و 246 تن از دوستان شاعر و نویسنده حدود هفتصد اثرشان را به دبیرخانه جایزه ادبی سیمرغ فرستاده اند.

از این تعداد 70 نفر از افغانستان، 178 نفر از ایران و  2 نفر از تاجیکستان شرکت کننده داریم.

تا چند روز دیگر اسامی داوران جشنواره نیز از طریق همین پایگاه منتشر خواهد شد.

از علاقه‌مندان و بازدید کنندگان این پایگاه خواهش می‌کنیم با انتشار این لیست در سایت ها وبلاگ‌های‌شان، در اطلاع‌رسانی بهتر به علاقه‌مندان ادبیات ما را یاری رسانند.  موفق و سربلند باشید.

  شرکت کنندگان در جشنواره:

  افغانستان

اثر - اقبال، اکبری  - نیلا، اکبری سراج - محمد تقی، امینی - ابراهیم، اندرابی  - ثناو الله، ایرج - شهباز، بارز  - سید نقیب الله، باقری  - سید نور آغا، بزرگمهر - حبیب، پژمان - همایون، پژمان - نعمت الله، پگاهی  - انجیلا، پویامک - امان، تمیم حمید - دوست، جبلی - عبد اللطیف، جمالی  - سید شکیب الله، جویا - صلاح الدین، حسین زاده - زهرا، حکیمی - آثارالحق، حیدری - فریبا، حیران، خاکسار  - عبد الولی، خاور - سید جاوید، دهقان - سید عبد الکریم، دیبا - حلیمه، راعون - محمد هارون، رجایی - محمدسرور، زاهدی - زهرا، ساحل - الهه، سجادی - فاطمه، سرباز - مهدی، سعادت پنجشیری - عبدالاحد، سیرت - سهراب، شاعف - نجم الدین، شهابی - علاوالدین، صاعد - خیر الدین، عالم - زیبا، عباسی - بلقیس، عبیر  - نگهت الله، علوی - الیاس، علی پور - حکیم، غزالی - بشیراحمد، فاضل - ذکی، فایز  - محمد اسحاق، قاموس - محمد قاسم، کریمی استالفی - لطیف، کاظمی  - ذبیح الله، ماهر - عبد المحمود، مبتکر - شیده، مجیر - وهاب، محمدی - سکینه، محمدی - موسی، محمدی-محمد امین، منیب-امرالله، مهرداد-مجیب، موحید -عبد الباقی، موسوی-احمد، موسوی-سید علی، موسوی-معصومه، مونس-جواد، میزرایی-امان الله، نایل-نادیه، نبی زاده-لینا، نورالعین-نورالعین، واحدیار-افسانه، ولی متولی رحمکیان، مهرگان-ناهید، یمام-احمد مسعود

ایران

ابری-ماندنا (راضیه)، ابوحمزه-محمد حسن، احمدی پور-مژگان، احمدی پور-مژگان، اختصاری-فاطمه، اخوانی پارچه-فاطمه، ارتجایی-نسرین، ارشدی-مینا، اسد نوقابی-سمانه، اسماعیلی-فرشاد، اسماعیلی-عابد، انصاری پور-نازیلا، ایزدی فر-علی رضا، آتی-امید، آذرآیین-قباد، آرمند-سیامک، آرمین-محمود رضا، آزادی -زیبا، آسیابانی-محمد، بازیار-سیما، باستانی-صدیقه، باقرپور-مرضیه، باقری-ارسلان، بختیاری-سامان، برزکار-حمید رضا، برزگر-محمد، بهادری-بهزاد، بهرام بیگی-شیوا، بهرام زاده-سارا، بهرام زاده-سارا، بهرامی بیرگانی-حبیب الله، بهرامی بیرگانی-شبنم، بهزادی-ساناز، بهشتی-ساناز، بی باک-احمد، بیرانوند-احمد، بیک محمدی-عباس، پناهی-فرشته، پور عاطف-عبدالرزاق، پور علی زاده-آرش، پور قربان-زهرا، ترنج-مریم، توتنچی-شاهین، تورانی-یزدان، توفیقی-مصطفی، تیکنی-امیر حسین، جامی-مریم، جهاندار- مهدی، جدیدی نژاد-محمد حسن، جعفری-نسیم، جعفری -حمید، جعفری حسینی-سید محمد امین، جعفری قهفرخی-لیلا، جلوداریان-سارا، جوکار-مرضیه، چیت ساز-ایمان، حاجی کریمیان- رامین، حسین پناهی-صلاح الدین، حسینی-زینب، حسینی-سیده صدیقه، حسینی طباطبایی-راضیه، حسینی مقدم-اسما، حسینی مقدم-جاوید، حسینی مقدم-محمد، حقیقت -مریم، حقیقت -مریم، حکت نیا-لیلا، حکمت-فرشته، حیاتی-محمد، حیدری-الهام، خسروی مقدم-امیرخسرو، خسروی-امید ، خلیل مرکیه-حمیده، خیابانی-رسول، داراب-حامد، دهقان نیری-فاطمه، راضی-مهدی، رحمتی-حامد، رحمتی-حامد، رشنوی-خلیل، روئینا-خلیل، ریاحی-مرجان، زارع-احسان، زارع -احسان، زارع ثانی-ساناز، زاغ زیان-پروانه، زرهی-حسن، زهیری -مهسا، سادات علویان-ریحانه، سالاری-فرزانه، سامانه-زهرا، سبحانیان-اعظم، ستوده-مرضیه، سعدآبادی-مجید، سلحشور-مهدی، سلطانی-محسن، سلطانی سروستانی-محمد صالح، سلیمانی-علی، شجاعی سعدی-مونا، شریعت-ذوالفقار، شعبانی-محمد، شفاعت پناهی-علی، شفیع آبادی-علی، شکربیگی-حسین، شهریاری-فرخنده، شوشتری-مرضیه، شیبانی اصل-رضا، صابری-بانو، صادقی نصب-عمید، صفار-غلام رضا، ضحاکی-مژگان، طلعت-وحید، طلوعی-محمد، عابدینی-مژگان، عاصی-محسن، عباسی -عزیز، عباسی خودلان-خسرو، عباسی خودلان-مهدی، عبدی-مریم، عرفانی-مرتضی، عظیمی-اصغر، عظیمی مورچه خورتی-مهدی، علوی فرد-یحی، علی بیکی-اکبر، غزللو-اصلان، فردوسی-علی، فرزانه-مریم، فرقه-نیما، فرهودی-ویدا، فروغی-افسون، فریس آبادی-بنفشه، فلاح نیا-محمد، فولادی-زهرا، قاسمی-حمید، قبادی-مهدی، قطب-فاطمه، قنواتی-اسماعیل، قنواتی-الیاس، کاسبی-حیدر، کامرانی -شراره، کاوسی فر-ندا، کتف-سمیر، کرمی-علی، کرمی -فاطمه، کلهر-عزیز، کهنسال-نسیم، کیان تاکندی-نرگس، کیانپور-معصومه(الهام)، کیوانلو شهرستانکی-محمدرضا، کِلیدری-جواد، کیانی-جلال، گلی-محمد، گلی-ملیکا، گوهری-طیبه، لبش-علی رضا، محمدزاده-حبیب، محمدی-روح الله (مانی)، محمدی-مصطفی، محمدی- روح الله (مانی)، مرادی -غزل، مرتضی وند-اکرم، مزارعی-الهام، مصطفوی-خشایار، مظفری راد-مجتبی، مقدسی-زهرا، مهدوی -حسام الدین، مهرابی-عالیه، مهرانی-زینب، موذن-عارفه، موسوی-سید مهدی، میرزائی-نبی، میرآقایی-سید مهدی ، نیک سرشت-مجتبی، ولی زاده-میخوش، یاوری راد-مجتبی، یدالهی-علی محمد

تاجیکستان

طاهری-گلناز، نورزاد-نورعلی

لینک      نظرات ()      

نظرات صاحب نظران و پارلمان دوم نویسنده: م.و.ر - ۱۳۸٩/۸/۱۳

باید ها و نباید های پارلمان آینده

 

با توجه به زمان بندی کمیسیون مستقل انتخابات، چند روزی به اعلام نتایج نهایی انتخابات پارلمانی مانده است؛ اما نتایج ابتدایی نشان می دهد که 168 تن از میان 249 نماینده ی مجلس نمایندگان را، چهره های جدید که در دور پیش عضو مجلس نبودند، تشکیل می دهد.

این شمار، از جمع تحصیل یافته گان، خبرنگاران، فرماندهان محلی، بازرگانانان و افرادی وابسته به نهاد های قدرت در افغانستان می باشند.هرچند ترکیب پارلمان قبلی نیز، متشکل از همه طیف ها بود؛ اما چهره های متفاوت تری در این دور دیده می شوند که به مجلس راه یافته اند.
اکنون بحث اساسی بر سر کارایی پارلمان آینده مطرح است. شماری از ناظران بر این باور اند که با توجه به کم کاری های پارلمان حاضر و نارضایتی های مردم از دولت و حکومت، انتظار می رود اعضای مجلس پیش رو برای کسب رضایت و ساختن وجهه ی خوب به این نهاد، بهتر عمل کنند.

دکتر محی الدین مهدی از آگاهان سیاسی و از نامزدانی که در فهرست ابتدایی در میان برنده ها قرار دارد، به این باور است که در این دور پارلمان، در کنار افراد زورمند و تاجر، شماری زیادی از چهره های متفکر و صاحب اندیشه که معتقد به اصلاحات هستند، وارد شده اند. به باور وی، این مسئله خود بیانگر این است که مردم در انتخاب نمایندگانشان آگاه تر شده اند و نمایندگان نیز، برای کسب اعتماد مردم باید کارایی شان را در  نظارت از عملکرد حکومت، به خوبی به نمایش بگذارند.

آقای مهدی می گوید: "به هیچ عنوان نباید از پارلمان قوه ی مخالف و در تقابل با حکومت برداشت شود. افغانستان که فاقد حزب قدرت مندی هست، به جز نمایندگان انگشت شمار که از نشانی احزاب نامزد شده اند دیگر همه مستقل اند، پس لازمی به نظر می رسد که همه برای رشد و ترقی کشور و قانونمداری، صادقانه از کار حکومت نظارت نمایند و حکومت نیز مسوولیت دارد فیصله های قانونی مجلس را عملی نماید."

آقای مهدی باور دارد که نا کارآیی اعضای دور نخست مجلس نمایندگان باعث شد که مردم به بیشتر نمایندگان این دور رای ندهند؛ اما این موضوع در عین حال سبب شد که شماری از نمایندگان با کفایت دور نخست نیز از راهیابی به مجلس باز بمانند. با این وجود، بیشترینه اعتراض مردم به نمایندگانی بود که در معامله با حکومت از نقش نظارتی مجلس، کاسته بودند.

از سویی دیگر، شماری دیگر از آگاهان به کارایی مجلس پیش رو، بی باورند و استدلال می کنند که در این دور شماری زیادی از بازرگانان  و فرماندهان محلی، با مصرف پول های هنگفت به مجلس راه یافته اند که شمارشان بیشتر از نمایندگانی خواهد بود که با فکر اصلاح گرایی وارد مجلس می شوند. این ناظران نگران اند که  این شمار از نمایندگان، برای باز پس ستانی پول های مصرف نموده شان در جریان مبارزات انتخاباتی، به معامله های اقتصادی و سیاسی دست خواهند زد که اصل کار پارلمان و استقلال این قوه، زیر سوال خواهد رفت.

فیض الله جلال استاد حقوق و علوم سیاسی در دانشگاه کابل، به این باور است که عدم پیگیری نحوه ی عملکرد اداره ها در افغانستان و نبود مجازات و مکافات برای نهاد ها و افرادی که در ساختار دولت کار می کنند، در نزد شماری زیادی از مردم،  فکری را پدید آورده است که هر کس در پی به دست آوردن فرصت برای رشد منافع فردی و در نهایت گروهی خود باشد، تا آن که برای مردم و کشور کاری نماید. این مسئله خود باعث شده است که هر کس دستیابی به قدرت و کرسی نمایندگی مردم را، یک فرصت دانسته بیشتر در پی معامله براید؛ اینجاست که انتظار کار مثبت از مجلس آینده هم، سخت به نظر می رسد.

از سوی دیگر، به باور این استاد دانشگاه، مطلق گرایی رییس جمهور و وقع نگذاشتن به فیصله های پارلمان در دور پیش، خود زمینه ی کارایی پارلمان آینده را، کمرنگ ساخته است.

آقای جلال می گوید که پارلمان گذشته تلاش کرد که در مواردی، مطابق قانون عمل شود و نظارت خوب از حکومت صورت گیرد؛ اما شخص رییس جمهور با نپذیرفتن فیصله های پارلمان، این نهاد را به حاشیه راند. در این عملکرد، برخی از نماینده ها جداگانه تطمیع شدند و برخی هم، به صورت گروهی قانع ساخته شدند تا نمایندگانی که می خواستند اصلاحات بیاورند، در اقلیت قرار بگیرند. 

او می گوید: تضعیف مجلس نمایندگان، از رد فیصله ی پارلمان در مورد وزیر خارجه توسط رییس جمهورآغاز، (رنگین دادفر اسپنتا به خاطر عدم رسیدگی قضیه مهاجران  در ایران، از سوی پارلمان رد صلاحیت شد.) تا به این جا رسید که آقای کرزی خلاف قانون نصف کابینه را بدون رای مجلس توسط سرپرست اداره نمود. همین طور در مورد رد فرمان تقنینی رییس جمهور در مورد قانون انتخابات نیز، اعضای مجلس در انتخابات با قانونی که خود رد نموده بودند، وارد انتخابات شدند."

همچنان هارون میر، آگاه مسایل سیاسی و از نامزدان دور دوم که آرای لازم را به دست نیاورده، می گوید: "با توجه به نو بودن تجربه ی پارلمانی در افغانستان، ما شاهد بودیم که  اعضای مجلس در دور اول،  چند سال زمان سپری نمودند تا که بیشتر با فکر و اندیشه ی هم آشنا شوند. وقتی این شناخت ها حاصل شد، ما دیدیم که پارلمان کارایی بهتری کسب کرد و سال آخر کار پارلمان، نظارت جدی در مورد کابینه و قانون انتخابات را شاهد بودیم؛ اما در این دور بیشتر از دو سوم این نمایندگان که اکثرا منتقد بودند به مجلس راه نیافتند، از این رو من به کارایی مجلس دوم، امید زیادی ندارم. چهره های منتقدی هم که هستند، شمارشان اندک است."

در کنار این موارد، شماری دیگر از آگاهان نیز به کارایی پارلمان آینده خوشبین هستند. آنها کسب یک دور تجربه ی پارلمانی را برای مجلس دوم سودمند دانسته، باور دارند که زمینه ی فراوانی برای اعاده ی جایگاه پارلمان وجود دارد تا نمایندگان در این دور، با پیشینه ی یک دور پر تنش مجلس، بهتر عمل نمایند.

احمد بهزاد، از نمایندگان دور اول مجلس و از برندگان فهرست ابتدایی  این دور، می گوید که  دلیل کم کاری پارلمان در دور قبل، تسلیم شدن شماری زیادی از نمایندگان در برابر خواست های حکومت بود که متأسفانه این نمایندگان به جای عمل کردن به خواست های مردم و نظارت جدی از کار حکومت، در پارلمان با گرفتن پول و دیگر امتیاز ها، وکیل مدافع حکومت شدند.

بهزاد می گوید : "با آن که خیلی از چهره ها که در فهرست ابتدایی انتخابات برنده اعلام شده اند چهره های نا آشنا هستند، به همین دلیل نمی توانم در مورد موضع گیری سیاسی شان، تحلیلی داشته باشم؛ اما شماری از چهره های سرشناس و منتقد حکومت نیز در فهرست ابتدایی نسبت به دور پیش زیاد اند. از این رو، من امیدوارم که کارایی پارلمان در این دور نسبت به دور پیش بهتر باشد."

یکی از مواردی که در کم کاری مجلس اول، عامل دانسته می شد و مورد انتقاد آگاهان بود، چگونگی ایجاد مجلس از اعضایی مستقل بود. آگاهان سیاسی به این باور بودند که نبود گروه های حزبی در درون مجلس، خود سبب شده بود تا اعضای مجلس فردی باندیشند و کمتر بر سر منافع جمعی مردم، توافق کنند.

همچنان در مورد توزیع پول به شماری از نمایندگان، به گزارش روزنامه ی  نیویارک تایمز، عمر داوود زی رییس دفتر حامد کرزی از ایران پول دریافت می نموده و این پول ها در مواردی از جمله توزیع به نمایندگان مجلس، به مصرف می رسیده است. آقای کرزی شخصاً دریافت چنین پول هایی را تأیید نمود؛ اما موارد مصرفش را روشن نساخت.

مورد دیگری که برای کارایی پارلمان ضروری پنداشته می شود تغییر در ساختار انتخاباتی افغانستان است.

هارون میر، تغییر در قانون انتخابات را برای کارایی بهتر پارلمان از اصلاحات اساسی دانسته می گوید: "به باور من اگر ما احزاب قدرتمند نداریم تا انتخابات را حزبی بسازیم، باید حد اقل انتخابات مجلس در هر ولایت به شمار کرسی های آن ولایت، حوزه ایی شود تا هم مردم بدانند که نماینده ی مستقیم شان کی است و هم عضو مجلسی که انتخاب می شود،  خود را در برابر مردم یک محل مسوول و پاسخ گو بداند." 

در ساختار انتخابات افغانستان احزاب نقشی ندارند. در این ساختار، هر نماینده ی مجلس به صورت مستقل نامزد بوده و شمار برندگان به تناسب آرای ریخته شده در آن ولایت، گزینش می شوند. اینجاست که شمار آرا در ولایت ها متفاوت بوده و نمایندگانی که به مجلس راه میابند، از نظر کسب آرا تفاوت چشم گیری دارند. 

به گونه ی نمونه، بر اساس فهرست ابتدایی نماینده ی از ولایت هرات با کسب حدود 18000 و ولایت  ارزگان با کسب حدود 2250 رای، به مجلس راه خواهند یافت. 

اکثر آگاهان مشکلات پارلمان گذشته را در عدم حزبی بودن آن می دانند؛ مسئله ی که اتحاد نظر در مجلس نمایندگان را به مشکل جدا مواجه کرده بود؛ اما آن طوری که در فهرست نتایج ابتدایی اعلام شده است، به نظر می رسد که این بار شمار زیادی از اعضای همفکر و عمدتا از منتقدان حامد کرزی وارد مجلس خواهند شد.
                                ام اس ام
لینک      نظرات ()      

شکرخدارا که مارا اوغان آفرید... نویسنده: م.و.ر - ۱۳۸٩/۸/۱۳

 

محمد ناصح

وقتی افغان بودن مهمتر از انسان بودن باشد خدا عاقبت این ملک را خوب کند. ازینکه افغانستان را به شوخی "پشت به انکشاف" میخوانده اند میدانستم. ولی از پشت کردن زمامداران ما به انسانیت و آنهم به بخاطر قوم و قبیله زیاد باورم نمیشد

 

چند روز پیش تلویزون ملی محفلی ایرا که در بارۀ جوانان در کابل دایر شده بود به نشر سپرد. در پهلوی عدۀ از جوانان، وزیر صاحب فرهنگ و عدۀ از پیران فرهنگی و دولتی هم گرد هم آمده بودند

 

فوزیه کوفی، نمایندۀ بدخشان در پارلمان، جز از سخنرانان بود. حرفهای این خانم جوان و روشن ضمیر در مورد انسانیت، عدالت اجتماعی و حقوق شهروندی با کف زدنها همراه بود

 

در بخشی از حرفهایش در مورد حسنات یک جامعۀ متمدن گفت "ما خواهان جامعۀ هستیم که در آن شهروند درجه اول و دوم وجود نداشته.. و من ایکه از یک قریۀ دور افتادۀ بدخشان هستم با یک برادر هلمندی فرقی نداشته باشم"

و بلاخره سخنرانیش را با اصرار به اینکه همه "اول انسانیم، دوم مسلمان و بعد افغان" پایان بخشید

چند لحظه بعد تر، گرداننده از کسی بنام تیمور شاه اسحاق زی، معین وزارت فرهنگ در امور جوانان، خواست تا با ارشادات شان به محفل پایان بخشد

 

من که منتظر دیدن یک جوان ایکه از هر لحاظ برای جوانان ما الگو باشد بودم، دیدم که یک یکمرد نیمه سال، لاغری و عصا مانند پشت تربیون قرار گرفت 

 

معین صاحب که از جراب گرفته تا پتلون، کرتی و پیراهن یکسره سفید کشیده بود، فکر میشد که همان لحظه از اطاق عملیات گریخته و به استیژ آمده باشد

 

با خود گفتم که بد ذوق بودن مهم نیست، میگن گنج ده ویرانه اس و اینکه شاید چانتۀ فرهنگی این آغا پر باشد! وقتی حرفهایش را از چانته برون کشید، سر ذوقش  شکر کشیدم

 

معین صاحب کفن پوش که معلوم بود دلش سر خانم کوفی خیلی کوفت کرده بود، در حالیکه سه انگشتش را به علامت سه شرط ضروری برای شهروند بودن در افغانستان بالا گرفته بود، حرفهای خانم کوفی را چنین عالمانه رد فرمودند

"افغان یو، مسلمان یو، بیا انسان یو"

 

متوجه شدم که معین صاحب همانند سلفش، یعنی کریم خرم، بجای فرهنگ، "فر" کمتر و "هنگ" بیشتر داشته اند

 

تــاهـمیــن مـکتب اســت و ایــن مــلا...حــال طـفلان خــراب میبــنم

 

                                                               منبع تاجیکم

لینک      نظرات ()      

کرزای می خواهد با این عمل بر تابوت دموکراسی وعدالت حتی انسانیت آخرین میخ را بکوب نویسنده: م.و.ر - ۱۳۸٩/۸/۱٢

قرار اطلاعات رسیده روابط اقای کرزی با فضل احمد معنوی در این اواخر به تیره گی کشانیده شده است زیرا اقای کرزی خواهان حذف نام بعضی از برندگان انتخابات پارلمانی و انتصاب اشخاص دیگر گردیده است که قرار ذیل است:


1. حذف نام عبدالحفیظ منصور برنده از ولایت کابل
2. حذف نام داکتر مهدی برنده بغلان
3. حذف نام عبداللطیف پدرام برنده در بدخشان
4. حذف نام احمد بهزاد برنده در هرات
5. حذف نام شکیلا هاشمی برنده در کندهار
6. حذف هفت برنده هزاره تبار از غزنی و انتصاب هفت پشتون تبار به عوض انها
7. انتصاب گل رحمان همدرد در ولایت بلخ
8. انتصاب معین مرستیال در کندز

9. برنده اعلان کردن حوا علم نورستانی به عوض داکتر پروین نورستانی برنده فعلی در ولایت نورستان 10. انتصاب ملالی شینواری وعصمت الله قانع به عوض دو برنده فعلی (کبرا مصطفوی و حفیظ منصور)

گفته میشود که اقای معنوی در برابر این تقاضای اقای کرزی شدیدا مقاومت نشان داده وگفته است که هرگز نمیتواند کاندیدان برنده را ناکام اعلان کرده واشخاص مورد نظر اقای کرزی را برنده اعلان کند. تا حال چندین بار مذاکرات نماینده گان اقای کرزی با شخص معنوی صورت گرفته و یک پست کلیدی برای اقای معنوی هم پیشنهاد گردیده وبرای وی گوشزد گردیده است که با در نظر داشت تقلبات گسترده اقای معنوی نمیتواند بعداز اعلان نهایی نتایج انتخابات به کار خود ادامه بدهد بنا بهتر است که با اقای کرزی کنار امده وبعد از برکناری از این پست به پست جدید به کار اغاز کند. گفته میشود که برای اقای معنوی پست لوی حارنوالی, ولایت کابل, ویا مقام سفارت در یکی از کشور های دلخواه ایشان پیشنهاد گردیده است.

                                                                  برگیرفته   از    کوکچه پرس 

لینک      نظرات ()      

نعمت حیات ،حیات زبان پارسی در سمر قند نویسنده: م.و.ر - ۱۳۸٩/۸/۱٢

تنهاترین شاعر سمرقند: گفتوگو با حیات نعمت سمرقندی

شهزاده سمرقندی

حیات نعمت سمرقندی، شاعر و پژوهشگر، حدود سه دهه مسئولیت مرکز غیر دولتی فرهنگ تاجیک در سمرقند را بر عهده داشت و آن طور که خود او می‌گوید پنج سال پیش از جریان بسته شدن این مرکز حدود چهل روز در خانه زندان بود؛

 چهل روزی که برای او آسان نگذشت. این مرکز فرهنگی تاجیکان یکی از سه مرکز بود که در شهر سمرقند فعالیت می‌‌کردند و هرکدام با شیوه‌ها‌ی گوناگون برنامه‌های فرهنگی و گاهی سیاسی برگزار می کردند. حالا در سمرقند یک مرکز فرهنگی باقی مانده است که آن هم دولتی است.

حیات نعمت در یک گفت‌وگوی کوتاه، از مرکز فرهنگی‌ای که خود او ریاست آن را بر عهده داشت گفت؛ مرکزی که در بسته شدن درهای آن، گاهی خود مردم تاجیک‌زبان را هم مقصر می‌داند.

در بسیاری از اتفاق‌هایی که می‌افتد خود آدم‌ها نقش دارند. چون دو چیز را نفهمیده‌اند. مرکزی که تشکیل دادم، با حرکت جمال میرسعیدوف فرق داشت. حرکت جمال میرسعیدوف، حرکت اپوزیسیونی و سیاسی بود، اما مرکز ما یک مرکز کاملاً فرهنگی بود. دولتی‌ها می‌گفتند که سمرقند خود شهر تاجیک‌ها باشد. داشتن مرکز فرهنگ تاجیک برای چه لازم است؟ من در جواب‌شان می‌گفتم: پس چرا شما مرکز معنویت و معرفت ازبکان را در جمهوری ساخته‌اید؟ مرکز معنویت و معرفت ازبک در جمهوری ازبکستان برای چه لازم است؟ چون فهمیدید که مردم به فقر معنوی دچار شده‌اند اقدام به ساخت چنین جایی کردید. برای ما تاجیک‌ها نیز همین چیز لازم بود. چون مردم ما هم از معرفت دور شده‌اند.

 حالا این مرکز فرهنگی تخریب شده و مکان دیگری، با مسئولیت افراد دیگر و با رعایت قوانین دولتی، در زمینه‌های فرهنگی فعالیت می‌کند. مرکز فرهنگی جدید دیگر مثل قبل بین مردم شناخته‌شده نبوده و محلی برای رفت و آمد شاعر و نویسندگان تاجیک نیست.

 

حیات نعمت سمرقندی یکی از بهترین مترجمان شعرهای سعدی به زبان ازبکی است و به زبان‌های تاجیکی، روسی و ازبکی شعرهای زیادی سروده است که بسیاری از آنها تا به حال روی چاپ را ندیده‌اند. شعرهای حیات نعمت در بسیاری موارد اعتراضی است و او را به عنوان یکی از روشنفکران مبارز تاجیک در تمام آسیای میانه و روسیه می‌شناسند.

 

او حالا در خانه‌ی برادر خود به تنهایی به فعالیت خود ادامه می‌دهد. کار اخیر او تحقیقی در واژه‌های محلی سمرقندی در غزلیات مولانا است؛ کار چندساله‌ای که بر اساس آن نتیجه می‌گیرد که مولانا در سمرقند زاده شده است و نه در بلخ. در آثار تازه‌ی حیات نعمت درباره‌ی مولانا، تولد او در وخش تاجیکستان و سفر بعدی خانواده‌اش به سمرقند روشن شده است. حیات نعمت بر اساس زبان مولانا می‌گوید او باید در سمرقند رشد یافته و سپس به بلخ رفته باشد.

 

مولانا سمرقند را که برای او به دل و جانش وصل بود در یکی از رباعی‌هایش چنین توصیف کرده است:

 

عشقت صنما چه دلبری‌ها کردی

در کشتن بنده ساحری‌ها کردی

بخشی همه عشقت به سمرقند دلم

آگاه نه‌ای چه کافری‌ها کردی.

 

توجه فرمایید به «سمرقند دلم» گفتن مولانا که هیچ‌یک از شاعران حتی زاده‌ی سمرقند، این شهر فردوس‌مانند را به این درجه چون مولوی صمیمانه و با مهر و محبت سرشار ستایش نکرده است.

 

حیات نعمت، تحقیق خود را به پایان رسانده و دنبال ناشری می‌گردد که این کار باارزش را به چاپ برساند. ناشران سمرقندی و همین‌طور ازبکستانی، توانایی و جسارت انتشار کار کسی چون حیات نعمت را ندارند؛ شاعری که هیچ گاه شعرها و فعالیت‌هایش مورد پسند دولت ازبکستان قرار نگرفته است.

شعر دیگری برای‌تان می‌خوانم:

 

بارها گر خانه‌زندان گشته‌ام

گاه زیر پتک سندان گشته‌ام

از غضب لب زیر دندان گشته‌ام

مدعی بشنو ز دو گوشت، بدان!

من نترسم تا نترسد این جهان!

چشم چل دیوار به رویم گشته است

چل تفنگش ار به سویم گشته است

پایمال خسم کویم گشته است

مدعی بشنو ز دو گوشت، بدان!

من نلرزم تا نلرزد این جهان!

یار و دوستانم اگر بفروختند

آتش خشم‌ام زیاد افروختند

بعد از آن بر ورطه‌ای انداختند

مدعی بشنو ز دو گوشت، بدان!

من نرنجم تا نرنجد این جهان.

 

حیات نعمت، از دورانی می‌گوید که بازار محفل‌های ادبی شهر دوشنبه، پایتخت تاجیکستان گرم بود. او هم‌چنین شعری را می‌خواند که در تاجیکستان از آن استقبال شده است: «تا تماماً مردنم وقت کم است

 

این شعر را گوش بدهید:

 

باز اندر دید‌گانم شبنم است

سیل اشک دل چو آب «درغم» است

فرد ملت نزد ملت سرخم است

این نشان مرگ ملت، ماتم است

تا تماماً مردنم وقت کم است

در دل ملت خدا و دین نماند

مرد سالم، عقل روشن‌بین نماند

نه ادیب، نه شاعر، آن و این نماند

این نشان مرگ ملت، ماتم است

تا تماماً مردنم وقت کم است

مرده‌دل‌ها را به دل مطلب نماند

نه شجاعت، زور و تاب و تب نماند

مهر فرد ملت‌ام، یا رب، نماند

این نشان مرگ ملت، ماتم است

تا تماماً مردن‌ام وقت کم است

بر برون‌مرزی مرا نام داده‌اند

زندگیم یائس و ابهام داده‌اند

هستیم ‌را گویی انجام داده‌اند

این نشان مرگ ملت، ماتم است

تا تماماً مردنم وقت کم است

در وطن چون بی‌وطن گشتم کنون

از وطن بیرون کند ابنای دون

بیخ ملت کنده شد از بیخ و بن

این نشان مرگ ملت، ماتم است

تا تماماً مردنم وقت کم است

در سمرقندم سمر، قندم مپرس!

در بخارا دانش و پندم مپرس!

چشم امیدم چرا کندم مپرس!

این نشان مرگ ملت، ماتم است

تا تماماً مردنم وقت کم است

بعد از این تنها به نام مانم، دریغ!

گمره بی‌دین، عوام مانم، دریغ!

غوره و چون سیب خام مانم، دریغ!

این نشان مرگ ملت، ماتم است

تا تماماً مردنم وقت کم است

کرده‌ام در حال مایوسی ندا

تا به روز تیره‌ام بخشی صفا

نشنوی گر آه و فریادم، خدا!

این نشان مرگ ملت، ماتم است

تا تماماً مردنم وقت کم است

حیات نعمت نسبت به آینده‌ی زبان تاجیکی در سمرقند چندان خوشبین نیست و می‌گوید تقصیر خود مردم هم هست؛ مردمی که به خاطر به دست آوردن شغل فرزندان خود را در مدارس ازبکی و یا روسی ثبت نام می‌کنند، باعث از بین رفتن مدارس تاجیک‌زبان در شهر سمرقند می‌شوند. حیات نعمت سمرقندی تحقیقی را در دست داشت که در آن گفته شده در چهل سال گذشته حدود ۴۰ مدرسه‌ی تاجیک زبان در شهر سمرقند از فعالیت بازمانده است.

 

 چهل سال پیش، در شهر سمرقند دویست و هفتاد و دو مدرسه‌ی تاجیکی وجود داشت. حالا یکی هم نمانده است. گاهی کودکان همسایه می‌آیند نزد من که برای انجام درس‌های‌شان به آنها کمک کنم. آنها به تمامی از کلمه‌های ازبکی استفاده می‌کنند. «قوشیش»، «ایرش»، «کوپیتورو» و ... غضبم می‌آید، اما معادل تاجیکی کلمات را به آنها می‌گویم: نه، ضرب زدن بگویید، جمع کردن، یا که «قوشی» کردن. مولوی هم «قوش» می‌گوید: یک دو ساغر قوش- قوش. در همین تحقیقات هم می‌آورم که احتمالاً بعد از ده، پانزده سال این زبان در سمرقند نمی‌ماند. کسی که بعد از من این لغت‌نامه را بخواند، می گوید: حیات نعمت اینجا نوشته که این زبان در سمرقند زنده است و استفاده می‌شود. کو، کجا رفت این زبان؟! حتماً این سئوال پیدا می‌شود که تا ایام زندگی من این زبان در سمرقند زنده بود و بعد از مرگ من مرد.

 

حیات نعمت هنوز با همان ماشین تایپ محصول دوران شوروی کارهای خودرا در یک نسخه تدوین می‌کند و نگران است که کارهایش پیش از آن که روی چاپ را ببینند از بین بروند.

 

                                         تاجیکم

لینک      نظرات ()      

امیردوست محمد خان کابل را به روسیه تزاری بخشیده بود نویسنده: م.و.ر - ۱۳۸٩/۸/۱٠

راز نهانی نامه دوست محمد خان

مدت ها کسی از این نامه چیزی نمی دانست. چون رونوشت آن در افغانستان موجود نبود و تنها یک نسخه از آن در بایگانی های زیرزمینی روسیه «زندانی» بود و حتا انگلیسی ها هم از چونی و چرایی آن آگاهی نداشتند، کار تاریخ دانان و پژوهشگران در باره آن به گمانه زنی کشیده بود.

 

عزیز آریانفر

گوشه هایی از تاریخ دیپلماسی افغانستان

راز نهانی نامه دوست محمد خان
به نیکلای یکم- امپراتور روسیه

دوست محمد خان- حاکم کابل، یک صد و شصت و چهار  پیش از امروز نامه محرمانه یی برای نیکلای یکم– تزار روسیه فرستاده بود که همین تازگی ها از پرده محرمیت برآمده و به دسترس پژوهشگران قرار گرفته است. با توجه به این که این نامه داستان جالبی دارد، بایسته دانستیم در باره آن به تفصیل بنگاریم:

مدت ها کسی از این نامه چیزی نمی دانست. چون رونوشت آن در افغانستان موجود نبود و تنها یک نسخه از آن در بایگانی های زیرزمینی روسیه «زندانی» بود و حتا انگلیسی ها هم از چونی و چرایی آن آگاهی نداشتند، کار تاریخ دانان و پژوهشگران در باره آن به گمانه زنی کشیده بود. برای مثال، روانشاد غبار در ص. 522 جلد اول افغانستان در مسیر تاریخ در زمینه نوشت که «...حکومت انگلیس با چنین بهانه یی برای بار اول در افغانستان هجوم نمود و گفت که امیر دوست محمد خان قبلا در سال 1836 مکتوبی به زار روس نوشته و به غرض استرداد پشاور استمداد نموده است. در حالی که امیر دوست محمد خان قطعا به زار روس نامه یی نفرستاده بود و اگر می فرستاد هم حق مسلم او بود. 

وزارت خارجه روس نیز در اکتبر 1838 در جواب استفسار حکومت انگلیس ارسال چنین نامه سیاسی را از جانب امیر دوست محمد خان رد کرده بود. به همین جهت بود که فریر نوشت: در آسیا بسیار اسناد دروغی مورد استعمال قرار گرفته است و انگلیسی ها در هندوستان در مطیع ساختن راجه ها و نواب ها به چنین دستاویزها تمسک جسته اند.(قاضی عطا الله جلد دوم ص. 6)

به گونه یی که دیده می شود روانشاد غبار حتا فاکت فرستادن نامه از سوی دوست محمد خان را نمی پذیرفت. 

روانشاد فرهنگ هم در ص. 235 قسمت اول جلد اول افغانستان در پنج قرن اخیر اگر چه فرستادن نامه را تایید می کند، مگر در باره قصد امیر دوست محمد خان از گسیل این نامه به گمانه زنی می پردازد: «دوست محمد خان که حاضر نبود به این سهولت از پشاور صرف نظر کند، با نامه یی به نام پادشاه ایران از او علیه سیک ها کمک خواست و این نامه را توسط شخصی به نام غلام حسین خان به تهران فرستاد. همچنان نامه یی عنوانی امپراتور روس تحریر و آن را توسط حسین علی نامی به سنت پترزبورگ ارسال نمود. مقصد او از ارسال این نامه ها غالبا این بود که انگلیسیان را از نزدیکی خود با ایران و روسیه تهدید و به وارد نمودن فشار بر رنجیت سنگ در مورد پشاور وادار نماید یا به عباره دیگر از نقشه های ایران و روس علیه هند به نفع خود بهره بگیرد.»

به هر رو، تا همین چندی پیش هم کسی در باره واقعیت این نامه چیزی نمی دانست. هر چند هم در بسیاری از کتاب ها به آن اشاره شده بود. برای مثال در ص. ص. 126- 128 کتاب روسیه و خاور در زمینه می خوانیم: «در سال های 20-40 سده نزدهم از سوی روسیه گام های استوار نظامی و دیپلماتیک برای پیشروی در اعماق آسیای میانه برداشته شد. همو در آن زمان امپراتوری روسیه برای نخستین بار توانست با افغانستان– دقیق تر با یکی از چهار سردار نشین آن- کابل تماس هایی برپا دارد. مبتکر این اقدام سیاسی نه روسیه، بل دوست محمدخان- حاکم کابل و مربوطات آن بود که پسان ها نه تنها نفوذ خود را تحکیم بخشید، بل در اواخر زندگی کشور خود را (به استثنای منطقه پیشاور) از دیدگاه اقتصادی و نظامی- سیاسی متحد گردانید.

به سال 1834 دوست محمد خان (حاکم کابل) که در متصرفات خود از محبوبیت برخوردار بود، بر آن شد تا زمین های نیایی افغانی منطقه پیشاور را که به دست رنجیت سنیگ (رهبر دولت سیک در پنجاب) افتاده بود، واپس بگیرد. مگر این لشکرکشی که به شکل جنگ مقدس (جهاد) در برابر پیروان آیین سیکیسم (مذهب دارای ریشه هندویستی به میان آمده در سده شانزدهم) به راه انداخته شد؛ به ناکامی انجامید. 

دوست محمد خان با عقب نشینی به کابل، اندیشه بازپسگیری پیشاور را از سر دور نمی کرد. برای رسیدن به این هدف، او تصمیم گرفت با گسیل نمایندگان خود به متصرفات بریتانیایی به یاری کشورهای نیرومند تکیه کند. با درک این موضوع که امید چنانی به یاری انگلیس نیست(رنجیت سینگ خود متکی به انگلیس بود)، دوست محمد خان فرستادگان ویژه خود را همچنان به ایران و روسیه دور دست فرستاد.

حاجی حسین علی(نماینده امیر کابل) که در ماه سپتامبر 1834 به لنگران- در مرز روسیه و ایران رسید، اعلام داشت که بر اوست تا با امپراتور در سان پتر بورگ دیدار نماید(نگاه شود به:«اتحاد شوروی و کشورهای خاور، روسیه و افغانستان»، ص. 39) مگر به دلیل این که پیام و نامه یی از امیر در دست نداشت، اختیارات و صلاحیت او تردید بر انگیز می نمود. 

در باره رسیدن سفیر به امپراتور نیکلای یکم گزارش دادند. امپراتور به وزیر امور خارجه روسیه گراف (کُنت) ک. و. نِسلرودرهنمود داد همه اطلاعات ممکنه را در باره افغانستان گرد بیاورد و اصولی را تدوین نماید که بایست در شالوده سیاست روسیه در این کشور گذاشته شود. 

به هر رو، فیصله گردید تا:
1-    تا جای امکان، به گسترش تماس های بازرگانی – اقتصادی روسیه با «افغانستان» مساعدت گردد.
2-    با این «کشور» مناسبات سیاسی برپا و تلاش گردد تا پیوند های سیاسی با آن تحکیم یابد.
3-    با توجه به حساسیت سیاسی یی که انگلیسی ها در قبال همه کشورهای همسایه با هند تبارز می دهند، تماس ها با «افغانستان» پنهانی برپا شود. 

حاجی حسین علی آن گاه ناگزیر نه به سان پتربورگ، بل به دنبال نامه های بایسته به کابل بازگشت و در ماه اپریل 1836به اورنبورگ آمد. فرستاده افغان همچنان نامه یی به همراه آورد از سوی رجل برجسته دولتی افغانستان- عبدالصمد خان که در آن به گونه فشرده اوضاع سیاسی پدید آمده در افغانستان و پیرامون آن بازتاب یافته بود.

در پیام دوست محمد خان، برپایی مناسبات دیپلماتیک میان روسیه و امیر نشین کابل پیشنهاد می گردید. همچنان از امپراتور روسیه خواهش شده بود تا در مبارزه در برابر رنجیت سینگ و شجاع الملک (شاه پیشین افغان) که به پنجاب گریخته و با رهبر سیک ها متحد شده بود، کمک نماید. با توجه به آن که رنجیت سینگ در آن برهه در نقش متحد هند بریتانیایی برآمد داشت، بار انگلیسی ستیزانه این پیشنهاد آشکارا هویدا بود. 

جنرال و. آ. پیروفسکی– استاندار نظامی اورنبورگ با ارزیابی پیام دوست محمد خان و تجزیه و تحلیل اطلاعات دست داشته دیگر در باره افغانستان به این نتیجه رسید که با تصرف افغانستان از سوی سیک ها دیگر امکان برپایی تماس های سودمند بازرگانی- اقتصادی روسیه با این کشور از دست می رود و همچنان به قدرت رسیدن دوباره شاه پیشین افغانستان (شاه شجاع) می تواند منجر به اطاعت وی از انگلیسی ها با تقویت نفوذ انگلیس در آسیای میانه و لرزان شدن پایه های بازرگانی روسیه در کشورهای منطقه و پویاشدن تلاش های انگلیس استوار بر شورانیدن این کشورها در برابر امپراتوری روسیه گردد.

پیروفسکی با پذیرایی از سفیر افغانی در سان پتربورگ؛ ارائه کمک به دوست محمد خان را به مقصد مبدل ساختن او هرگاه نه به متحد، دست کم به حاکمی دارای تمایلات حسنه نسبت به روسیه و نیز برای جلوگیری از خطر اشغال افغانستان از سوی سیک ها با پادشاه شدن دو باره شجاع الملک سودمند ارزیابی کرد. او توصیه نمود همه گام ها در این راستا باید پنهانی برداشته شود تا کدامین سوءظن را از سوی انگلیسی ها برنیانگیزد. برای همراهی او پیشنهاد کرد کپیتان گردان پیاده دهم اورنبورگ- ای. و. ویتکیویچ گماشته شود. 

ویتکیویچ-لهستانی الاصل فرزند ناحیه ویلنیسک که به خاطر اشتراک در پویایی های زیر زمینی جامعه ناسیونالیستی لهستانی چونان سرباز عادی به دشت اورنبورگ گسیل شده بود، با آشنایی با چندین زبان اروپایی و فراگیری سریع زبان های پارسی و تاتاری، توجه گورنر را به خود جلب کرد که او را هر از چندگاهی برای انجام ماموریت های مسوولانه دارای بار دیپلماتیک و سیاسی می گماشت. ویتکیویچ گفتگوهایی را با خان های قزاق پیش برده بود و در درگیری های مسلحانه با دسته های کوچی که بر پاسگاه های مرزی روسی و مناطق نشیمنی یورش آوردند؛ اشتراک ورزیده بود که به پاس آن به او پسان ها لقب درباری اش برگردانده شده بود. 

او به درجه افسری ارتقا داده شد و رتبه کپیتانی یافت. پسانتر ویتکیویچ به بخارا سیاحت کرد- جایی که پیروزمندانه وظایف خود را انجام داد و در بازگشت از ان جا به سمت آجودان(یاور) پیروفسکی گماشته شد. 

ویتکیویچ و سفیر افغان برای این که نگرانی شبکه های اطلاعاتی انگلیس را که نه تنها در افغانستان، بل در خود روسیه با پویایی عمل می کردند، بر نیانگیزند؛ جداگانه به پتربورگ رفتند؛ آن هم این گونه که سفیر افغان را به نام سوداگر آسیایی (بدون یاداوری از نام کشور و خاستگاهش) جا زدند. «سوداگر آسیایی» (پس از یک ماه پس از رسیدن به پایتخت) از سوی ک. ک. رادوفینیکین- رییس دیپارتمنت آسیایی وزارت خارجه روسیه- پذیرفته شد که پیش از آن بارها در صلاحیت حاجی حسین علی با هراس از تحریکات انگلیس ابراز تردید نموده بود. هنگام گفتگوها ویتکیویچ نقش گزارنده و دبیر را بازی می کرد که مقارن با این زمان دیگر کار پر مسوولیتی را به دوش داشت. 

در روند گفتگوها حاجی حسین علی به تفصیل پیرامون اوضاع سیاسی در افغانستان و در مرزهای آن روشنی افگند وهمچنان خواهش حاکم سردار نشین کابل را استوار بر ارائه کمک به او در صورت بروز پیچیدگی های ممکنه از سوی انگلیسی ها و دولت سیک در پنجاب سپرد. 

در پایان همان سال، 1836 مساله افغانستان در نشست «کمیته آسیایی»- ارگان عالی دولت روسیه که به تدوین توصیه ها در زمینه مشی خاوری روسیه می پرداخت، بررسی گردید. در ساختار کمیته «وزیران وزارت های نظامی و انتظامی » همان عصر، رییس کل ارتش روسیه و نیز وزیران امور خارجه و دارایی و رییس دیپارتمنت آسیایی وزارت امور خارجه شامل بودند. کمیته آسیایی با بررسی همه جانبه اوضاع پدید آمده در افغانستان و پیرامون آن پیشنهاد ارائه شده در گذشته از سوی استاندار نظامی منطقه اورنبورگ را حمایت کرد. 

کمیته به دلیل دوری افغانستاناز روسیه توصیه کرد به اتحاد سردار نشین های دور افتاده افغانی (کابل، قندهار و هرات) زیر سرپرستی و حمایت ایران مساعدت گردد و کمک نماید میان ایران و این سردارنشین ها پیمانی بر ضد سیک( در واقع انگلیس) به امضاء برسد. این گونه، اقدامات روسیه به پندار آنان به افغانستان کمک می کرد تا در برابر گستره جویی ممکنه سیک ها با تلاش های استوار بر بازگردانیدن شاه پیشین افغانی- شجاع الملک (که سیک ها و انگلیسی ها از او پشتیبانی می کردند)، ایستادگی نماید.

با توجه به پیچیدگی مناسبات روسیه در آن بخش که ربط می گرفت به آسیای میانه، خاور نزدیک و میانه فیصله گردید تحقق این طرح را به دوش سفیر روسیه در ایران- کنت سیمونیچ بگذارند. در دسامبر1836 پروتکل نشست «کمیته آسیایی» که از سوی نیکلای یکم تایید گردیده بود، آغاز به پیاده شدن کرد. 

به عنوان معیتی حاجی حسین علی در زمان بازگشت او به کابل کماکان همان ویتکیویچ پیشنهاد گردید که می بایست به دوست محمد خان حاکم سردار نشین کابل نامه امپراتور را با ابراز بهترین تمنیات او نسبت به افغانستان و همچنان اطمینان دهی به ارائه همکاری و دفاع بازرگانان افغانی یی که به روسیه می آمدند.

به حاجی حسین علی از خزانه روسیه همه هزینه سفر او پرداخت شد و برای حاکم کابل سرویس استاندارد هدایا که به گونه سنتی به حکومات کشورهای خاور نزدیک و میانه داده می شد، و مشتمل بود بر پوست ها، آیینه ها، پارچه های زرکار و نقره کارو ساعت های جیبی؛ فرستاده شد. 

در دستور العمل سری یی که ویتکیویچ از وزیر امور خارجه روسیه کارل نسلرود به دست اورد، به ویتکیویچ  سفارش گردیده بود نه تنها نماینده افغانی را تا تهران همراهی کند و بکوشد با او به کابل برود، بل نیز این کشور دور افتاده از روسیه را تا جای امکان از نگاه اقتصادی، سیاسی و نظامی به گونه همه جانبه مطالعه (در واقع اکتشاف) کند و با نمایندگان بازرگانی افغانی در تماس شود و آن ها را به گسترش پیوندها با روسیه بر انگیزد. (برگرفته از اسناد کمیسیون آرشیوگرا     فی قفقاز، جلد 8، تفلیس، 1881، صص. 944-947).

از دیدگاه سیاسی وظیفه اصلی گذاشته شده در برابر او متقاعد ساختن دوست محمد خان به آشتی نمودن با حکام سردار نشین قندهار  و به میزان معینی پذیرفتن سرپرستی ایران به عنوان یک د 
ولت نیرومند تر بر کابل و قندهار بود. 

در ماه مه 1837 ویتکیویچ همراه با سفیر افغانی از سان پتربورگ به راه افتادند. مگر سفیر افغانی در راه بیمار شد و ویتکیویچ با گذاشتن او در مسکواز راه تفلیس به پایتخت ایران رفت. در آن جا با رایزنی با سفیر روس- کنت سیمونیچ پیرامون وضعیت امر در افغانستان از شاه ایران هزینه سفر به دست آورد و با پشت سر گذاشتن شهرهای خاوری ایران در میانه های 1837 به شهر قندهار رسید.»

... به هر رو، من از مدت ها در اندیشه آن بودم تا این نامه را با شماری دیگر از اسناد روسی تازه افشا شده در باره افغانستان، پس از فروپاشی شوروی به دست بیاورم. بخت یارم بود که در 2004 در سفری که به مسکو برای اشتراک در سی و هفتمین کنگره جهانی خاورشناسان داشتم، در راس هیات افغانی قرار گرفته بودم. در آن هنگام من در کرسی رییس مرکز مطالعات استراتیژیک وزارت خارجه کار می کردم. 

با بهره گیری از همین فرصت، به بهانه همکاری های دو جانبه با رییس مرکز اسناد و تاریخ وزارت خارجه روسیه دیدار و در ضمن از موزه اسناد تاریخ دیپلماسی روسیه که در ساختمان وزارت خارجه واقع است، بازدید نمودم. در این دیدار و بازدید جناب آقای داکتر زیوری هم با من بودند. هر چه بود، از رییس مرکز اسناد و تاریخ دیپلماسی خواهش کردیم تا رونوشت های یک رشته اسناد، مدارک، تصاویر و... افشاء شده را برای ما بدهد. او هم بی درنگ به یکی از کارمندانش رهنمود داد تا این خواهش ما را برآورده سازد. هر چه بود، هر یک، پرونده بزرگی از اسناد ارزشمند را گرفتیم.

همچنین هماهنگ شد تا مجموعه یی از این اسناد در یکی از تالارهای کاخ استور در وزارت خارجه در کابل به نمایش گذاشته شود که چنین هم شد. به هر رو، کنون یک رونوشت از نامه در دسترس من، یک رونوشت هم در اختیار داکتر زیوری و یک رونوشت هم در آرشیف وزارت خارجه در کابل هست.  

امسال در سفری که به تهران داشتم، یک رونوشت از این اسناد را برای موزه وزارت خارجه ایران و یک رونوشت را هم برای موزه کتابخانه مجلس ایران هدیه دام. 

...و اینک متن نامه یی که بیش از یک سده و نیم در بایگانی های روسیه زندانی بود:


بسم الله خیر الاسمآ
حضرت امپراطور اعظم حفظ الله الملک الاکرم

تا کوکب نیر اعظم با امر و اراده خالق اکرم مربع نشین چرخ چهارم و نوربخش عرصه نیلگون طارم است همواره اریکه عظمت و شوکت و جهانداری و سده سنیه ابهت و حشمت و شهریاری بوجود مهر نمودجان آسودشهنشاه جم جاه انجم سپاه جمشیدنظر کیخسروسریر زمان دارانشان سلطان البرین و خاقان البحرین جمشید تهمتن تن کیسخرو و سام آمین اسکندر کسری وش داری فریدون فر خورشید فلک هیبت گردون قضا فرمان نیسان سخاباران دریای جهان لنکر السطان ابن سلطان و الخاقان ابن الخاقان شهنشاه معظم ............منور و مزین بوده اعلی نشین سریر شاهنشاهی و صدر کزین اریکه صاحب کلاهی باشند بعد از بزم آرایی ایوان موالفت و وداد وپس از انجمن برایی شبستان مودت و اتحاد مشهود رای جهان ارای خورشید ابخلا آنکه چون فیمابین دودمان این محبت نشان و سلسله سدوزایی مخالفت و مخاصمت کلی و عناد جبلی واقع و سرکار عظمت مدار انگلیس بهادر در پرداخت حال شجاع الملک سدوزایی مایل و رنجیت سنکه که والی ملک پنجاب است و بسرکار انگلیس بهادر که مملکت هندوستان در قبضه تصرف آنها است قرب جوار داردطریقه آمیزش با یکدیکر مربوط و پرورش مخالفان این دولت را مضبوط دارند و این بنده درکاه الله با سامانه و جمعیتی که بفرمان قادر مستعان مترتب شده است باکروه سکان مقابل و معارض چون آن دولت کردون رفعت را با دولت بهیه قاجاریه اتحاد کامل حاصل است هرکاه در پرداخت امور مملکت افغان و انتظام سلسله این دودمان نیز توجه شاهانه مصروف فرمایند اباّ غبحداّ و نسلاّ بعد نسل این طبقه را که از توفیقات پادشاه بی همتا که قریب بیست لک خانه می باشند مرهون وممنون خواهند ساختاز مکارم اخلاق شریف و مراسم افکار لطیف متوقع چنان است که این سلسله جلیله را بقرار دودمان عظیم الشان دولت کردون رفعت قاجاریه متصل بدولت فلک مرتبت خود سازند انشاالله تعالی هرکاه ازانجانب تقویت رسانی باشد از سلسله افغان متعلقه نیازمند بسا امورات و مطالبات شاهانه خواهدشد فقط

مهر: امیر دوست محمد غازی  ? 1250 

در این نامه چند نکته شایان توجه است:
1-    متن نمونه تمام عیار نگارش و نوشتار آن برهه کشور است و از دیدگاه تاریخ ادبیات اهمیت بسیار دارد.
2-    از روی نامه می توان چنین نتیجه گرفت که نام افغانستان در آن هنگام یعنی در 1936 هنوز رسمیت نداشته است. از این رو دوست محمد خان متصرفات خود را مملکت افغان می خوانده است. چیزی که در فرنگستان به نام سلطنت کابل (د کینگ دم آف کابل) شهرت داشته است  و در روسیه به نام سردار نشین کابل (کابلسکایا کنیاژستوا) و این بیخی طبیعی هم است زیرا در آن هنگام دوست محمد خان تنها بر ولایت کابل و پیرامون آن تسلط داشته است. در حالی که در آن برهه در قندهار سرداران قندهاری و در هرات کامران سدوزایی و وزیر یار محمد خان الکوزایی و در هزارستان میرهای هزاره و بدخشان و ترکستان هم میرهای بدخشان و میرهای ازبیک فرمان می راندند و هنوز کشوری به نام افغانستان در چهارچوی مرزهای کنونی شکل نگرفته بود.
3-    چیزی که از دیدگاه سیاسی بسیار مهم است و موجب آن گردیده بود که روس ها آن را در لفافه محرمیت و راز بپیچند و از دی انگلیسی ها پنهان بدارند؛ این است که دوست محمد خان می نویسد که «متوقع چنان است که این سلسله جلیله را بقرار دودمان عظیم الشان دولت کردون رفعت قاجاریه متصل بدولت فلک مرتبت خود سازند انشاالله تعالی». یعنی در واقع از امپراتور روسیه تقاضا کرده بود تا کشورش را بگیرد و به دولت فلک مرتبت خود متصل بسازد.

                                               تاجیک میدیا

لینک      نظرات ()      

مشکلات جوانان بدخشانی نویسنده: م.و.ر - ۱۳۸٩/۸/٧

جوانان بدخشان با مشکلات فراوانی روبرواند

8 صبح، بدخشان: جوانان ولایت بدخشان، در مقایسه با جوانان سایر ولایات، در جغرافیای دورافتاده‌ای با راه‌های صعب العبور زندگی می‌کنند و در نبود امکانات با مشکلات زیادی مواجه هستند.

عدم توجه مقامات دولتی به مشکلات جوانان با گذشت هر روز از عمر حکومت، امیدها را به یاس تبدیل نموده و به گستردگی این مشکلات افزوده است.

در ولسوالی‌های دوردست این ولایت بنابر عدم موجودیت فرصت‌ها و زمینه‌های آموزشی، تعداد بی‌شماری از جوانان از نعمت سواد محروم‌اند، اما تعداد دیگری که با ختم دوره مکتب در آزمون کانکور شرکت می‌کنند، نسبت قلت پذیرش در تحصیلات عالی از ادامه تحصیل باز می‌مانند که سرانجام و به ناچار راه مهاجرت را در پیش می‌گیرند و به کشورهای ایران و پاکستان می‌روند و تعداد دیگری هم به مواد مخدر روی می‌آورند.

نبود زمینه اشتغال و کاریابی، فقر، بی‌سوادی و ده‌ها مسایل دیگر از این دست، باعث می‌شود تا جوانان از زندگی دلسرد شوند و به مواد مخدر و کارهای غیراخلاقی روی آورند.

جوادالدین میریان، یک تن از جوانان بدخشان می‌گوید: «بسیاری از جوانان زمانی‌که از دانشگاه‌ها فارغ می‌شوند با داشتن مدرک تحصیلی برای پیدا نمودن کار پشت این دروازه و آن دروازه می‌گردند اما هیچ برای‌شان چیزی میسر نمی‌شود.»

به باور او، بی‌کاری از عمده‌ترین مشکلات جوانان به شمار می‌رود که تا هنوز دولت در این زمینه توجه جدی نکرده است.

شیرزاد، جوانی که با گذشت سه سال از فراغتش از دانشگاه با داشتن مدرک لیسانس هنوز بی‌کار است، می‌گوید: «به هرجا که سر زدم گفتند جایی برای تو نیست، نه تنها خودم بلکه هزاران جوان دیگر چون من زیست دارند و زندگی را در پریشانی و بی‌کاری تجربه می‌کنند.»

به باور او، دولت باید خدمات اجتماعی را برای مردم فراهم کند و علیه فقر و بی‌کاری مبارزه نماید. او همچنین ایجاد شغل‌های کاذب و موقتی را برای جوانان یک سرگرمی بیش نمی‌داند و می‌افزاید که مشکلات جوانان با ایجاد شغل‌های موقتی و کار برای یک‌سال یا شش ماه در این یا آن موسسه حل نمی‌شود.

شیر علی قاسمی، آمر امور جوانان می‌گوید: «مشکلات جوانان در ولایت بدخشان بی‌نهایت زیاد است اما آمریت جوانان توانایی رسیدگی به مشکلات جوانان را نسبت نبود امکانات کافی ندارد.»

به باور او، آمار معتادین جوان در این ولایت نگران‌کننده است و آمریت جوانان نمی‌تواند به عنوان یک نهاد اجرایی به این مشکل پایان دهد.

به گفته او، آنها سالانه سی‌صد و بیست هزار افغانی بودجه از طریق معینیت امور جوانان به دست می‌آورند که توسط آن معاش کارمندان و کرایه دفتر امور جوانان را پرداخت می‌کنند.

رسیدگی به مشکلات جوانان در زمینه بی‌کاری، اعتیاد، فقر و عدم دسترسی به تحصیل از توان اداره امور جوانان نبوده و دولت در این راستا باید توجه جدی نماید تا این مشکلات را به حداقل برساند.

                                   ٨صبح

لینک      نظرات ()      

تاحیکستان وافغانستان به تلویزیون فارسی گوی حهانی نیاز دارند نویسنده: م.و.ر - ۱۳۸٩/۸/٦

میزگرد همکاری‌های رسانه‌های فارسی زبان در غرفه ایرنا تاکید بر راه اندازی تلویزیون مشترک فارسی بین‌المللی

مدیرکلان خبری سه خبرگزاری‌های سه کشور ایران ، تاجیکستان و افغانستان در میزگرد همکاری‌های رسانه‌های فارسی زبان که صبح روز  چهارشنبه  در غرفه خبرگزاری ایرنا برگزار شد، بر لزوم تاسیس یک رسانه بین‌المللی به زبان فارسی تاکید کرد.

به گزارش ایرنا،در این میزگرد که رمضانعلی یوسفی مدیر کل اخبار خارجی خبرگزاری ایرنا، سیدعیسی حسینی مزاری رییس خبرگزاری صدای افغان از کشور افغانستان، بختیار همدم سردبیر روزنامه منبر خلق از کشورتاجیکستان حضور داشتند ضمن تاکید بر مشترکات فرهنگی، زبانی و تاریخی ، وجود تعاملات رسانه‌ای و همکاری‌های بین این سه کشور فارسی زبان منطقه یک امر استراتژیک و راهبردی دانستند.

مدیر کل اخبار خارجی خبرگزاری ایرنا در این میزگرد اظهار داشت: اتحاد و ائتلاف بین این سه کشور به قطع با واکنش‌های جهانی روبرو خواهد شد، چرا که اتحاد برگرفته از زبان مشترک فارسی قدرت و همگرایی منطقه‌ای این سه کشور را تقویت خواهد کرد.

وی ،جمعیت فارسی زبان این سه کشور را ۱۱۰ میلیون نفر عنوان کرد و افزود:
این جمعیت عظیم بیش از هر زمان دیگری به رسانه‌ای مشترک به عنوان ابزاری برای بیان دیدگاه‌ها و مسائل ملت‌ها و دولت‌های مورد نظرشان نیاز دارند.

ضمن اینکه امکان تاثیرگذاری بر افکار جهانی و حفاظت از فرهنگ‌ها و سنت های مشترک این کشور نیز از طریق این رسانه مشترک فراهم می‌شود.

یوسفی این رسانه ملی را ابزاری برای دفاع ملی معرفی کرد و گفت: با ورود این رسانه مشترک به خانه‌های مردم ،رفته رفته امکان گسترش آموزش زبان فارسی، خط و نوشتار آن نیز فراهم خواهد شد. همچنین در کنار این امر باید ارتباطات دانشگاهی و کرسی‌های زبان فارسی نیز تقویت پیدا کند.

عیسی حسینی نیز در این میزگرد وضعیت رسانه‌های افغانستان را پس از سقوط طالبان رو به گسترش و امیدوارکننده توصیف کرد و از آمادگی و ظرفیت رسانه ها و مطبوعات افغانستان برای ایجاد این همگرایی و همسویی بین سه کشور ایران ، افغانستان و تاجیکستان خبر داد.

به گفته رییس خبرگزاری صدای افغان ، زبان فارسی در افغانستان به دلیل درآمیختگی با لغات انگلیسی، اردو و پشتو نیازمند پیرایش و ویرایش و بازگشت به زبان اصیل فارسی است که یک رسانه مشترک در تحقق این امر تاثیر بسیار خواهد داشت.

وی تحقق این امر را نیازمند یک سیاست‌گذاری و برنامه ریزی دقیق دانست و تصریح کرد: این همگرایی رسانه‌ای نباید تنها به راه اندازی یک خبرگزاری یا تلویزیون محدود شود. تشکیل اتحادیه خبرگزاری‌های کشورهای فارسی زبان یکی دیگر از اقدامات موثر در این زمینه خواهد بود.

مدیر مسوول روزنامه انصاف با بیان اینکه ستون فقرات و محور اصلی این اتحاد و همسویی کشور ایران است، افزود: ما انتظار داریم ایران به دلیل تجربیات موفق رسانه‌ای گام نخست در این زمینه را بردارد .ضمن اینکه از حمایت دو کشور افغانستان و تاجیکستان مطمئن باشد.

بختیار همدم سردبیر روزنامه منبر خلق نیز مهمترین مشکل فارسی زبانان کشور تاجیکستان را عدم تلسط بر خط فارسی عنوان کرد و گفت: وجود یک رسانه مشترک فارسی زبان به مردم تاجیکستان در آموختن خط فارسی کمک بسیار خواهد کرد.وجود کتب غنی ادبی نشان‌دهنده این است که تاجیک زبانان همچنان زبان و خط فارسی را زبان اول خود می‌دانند .

وی ضمن تاکید بر آرمان‌ها و مشترکات دو کشور تاسیس یک رسانه مشترک فارسی را گام مهمی در حفظ و نگهداری زبان و ادبیات فارسی در منطقه دانست.

این میزگرد صبح امروز در غرفه خبرگزاری ایرنا در هفدهمین نمایشگاه مطبوعات و خبرگزاری‌ها تشکیل شد.

این نمایشگاه از سوم تا دهم آبان ماه جاری در محل مصلی خمینی  برپاست.

                                         آریایی

لینک      نظرات ()      

پول را ایران مجانی داده ؟ نویسنده: م.و.ر - ۱۳۸٩/۸/٤

عبدالقدیر علم   

ایــران بــه هیـــچ عمــری کمــک نمیـــکند

کمک های ایران از طریق عمر داود زاده به قصر ریاست جمهوری رشوت ومصرف مرموز وغیر قانونی آن اختلاس و إعتراف شر مگین  در برابر رسانه ها مبنی بر أخذ پول از سفیر ایران بخاطر نداشتن حساب بانکی بنام قصر ریاست جمهوری توهین بمقام ریاست جمهوری وملت افغانستان پنداشته میشود.
در پی إفشاگری های دوروز قبل نیویورک تایمز در مورد پول گرفتن رئیس دفتر رئیس جمهور کرزی از ایران واظهارات فدا حسین مالکی، سفیر ایران در کابل مبنی بر رد شایعات إهانت آمیز نیویورک تایمز، امروز شخصی رئیس جمهور کرزی در محضر تمام رسانه ها رسما إعتراف کرد که این کمک هارا به امر رسمی خود گرفته، اما بدون واریز کردن بحسابات بانکی دولتی طور شخصی در قصر مصرف نموده است.

نمیدانم رئیس صاحب دولت ساده است ویا صادق او بی پرده إعتراف مکیند که سالانه پول های از کشورهای مختلف وبخصوص ایران بدست میاورد تا نیاز مندی های قصر ریاست جمهوری را مرفوع سازد.جناب رئیس جمهور در إعتراف جسورانه در برابر تمام رسانه ها إعتراف نمود که پول های کمکی را به هیچ حساب دولتی واریز نکرده طور آزاد مصرف نیاز مندی های قصر ریاست جمهوری نموده است.إعتراف این چنینی  در مورد گرفتن پول ومصرف کردن  غیر قانونی ایجاب پیگرد قانونی تا سر حد استتعفای رئیس جمهور رامینماید.مگر اینکه رئیس جمهور از تمام اصول مالی واداری وحیثیت سیاسی یک کشور بیگانه وبی خبرباشد.

توجه فرمائید به قسمت از در فشانیهای این عالی جناب در برابر تمام رسانه ها.

آژانس خبری وخت

ولایت کابل
4 عقرب 1389

 

حامد کرزی رییس جمهوری افغانستان در یک کنفرانس مطبوعاتی در پاسخ به سوال خبر نگار آژانس خبری وخت ،موضوع پول گرفتن های عمر داودزی رییس دفتر خود را رد ننمود. وی افزود:از آغاز اداره موقت تا به حال حکومت افغانستان بخصوص قصر ریاست جمهوری سالانه یک مرتبه یا دو مرتبه از 5 تا ۷۰۰ هزار یورو یا دالر را از کشور ایران بشکل رسمی و همچنان از بعضی از کشور های دیگر به منظور مصارف بدست میآورد.

رییس جمهور همچنان افزود: در افغانستان هر کس که خدمت و حس وطن دوستی داشته باشد،مورد هدف رسانه های خارجی قرار میگرد واین بار عمر داود زی رییس دفتر من مورد حمله رسانه ها قرار گرفت که اینکه وی سالانه پول زیاد از کشور ایران بدست میآورد. کرزی همچنان گفت ، پول های را که داودزی حاصل میکرد غیر قانونی نبوده بلکه به امر من و بطور رسمی پول ها را بدست میآورد واین کمک ها به قصر ریاست جمهور مفید بوده واز کمک آنها قدر دانی می نمایم. همچنان رییس جمهور گفت:دولت افغانستان بخصوص قصر ریاست جمهوری کدام حساب بانکی ندارد که از آن طریق مصارف خود را بکند وبه خاطر مصارف به پول نیاز است.

گفتنیست که دو روز قبل روزنامه نیویارک تایمز یک گزارشی را به نشر رساند که در آن عمر داودزی رییس دفتر رییس جمهور متهم شده بود که بشکل غیر قانونی از کشور ایران بخاطر تامین اهداف ایران در افغانستان بسته های پول را دریافت میکرد).

ایران به هیچ عمری ولو داود زاده هم باشد کمک نمیکند: رئیس جمهور فرمود این شخص وطندوست یعنی عمر خان که به قصر ومردم پول جمع میکند مورد حمله رسانه ها قرار گرفته باید تذکر داداین کمک اگررشوت بخاطر لجاجت با کشور های غربی نباشد مربوط ملت است چون درأزای إعتبار ملی به رئیس جمهور داده شده نه بخاطر گل روی جناب عمر داود زاده آنهم از طرف کشور جمهوری اسلامی که سایه عمر را به توپ می بندد.تازه یک روز قبل ازین افتضائی سیاسی مالی  سفیر ایران افشاگری های نیویورک تایمز را شایعه وحتی إهانت آمیز خواند چون میداند افشای این حقایق برای یک رئیس جمهورخیلی إهانت بار است اما تا هنوز تف در گلوی سفیر ایران خشک نشده که رئیس جمهور ما با افتخار إعتراف میکند که اینها کمک رسمی است وقابل قدر هم هست.آقا کمک های ملی بخاطر منافع ملی قابل قدر است نه تحایف شخصی تو به إعتبار شخصی خود شایسته دو ریال هم نیستی این إعتبار مات است که شریان های گول را بسوی تو به حرکت آورده .شخصی رئیس جمهور إعتراف میکنداگر این پول طور شخصی وبدون آگاهی ادارات مالی دولت مصرف شده بخاطریست که قصر ریاست جمهوری حساب بانکی ندارد.خیلی شگفت انگیز است همه سائلین روی سرک حساب بانکی دارند اما قصر ریاست جمهوری افغانستان بیچاره نه یک حنده عرقدار...از ماجرا جوئی ها اخیر رئیس جمهور در برابر جامعه جهانی پیداست که  کمک های مخفی ایران تا چه حد در منزوی ساختن افغانستان از جامعه جهانی اثر داشته.لذا این پول  رشوت ویا تحفه است که تنها شخصی رئیس جمهور را از جهان بی نیاز ساخته  .امروز تلاش دارد با خورجین پول به صف برادران نا راضی به پیوندد.اینکه ملت به چه مصیبتی گرفتار میشوذ مسئولیت بدوش شورای عالی صلح....

کمک مخفی وشخصی ایران رشوت ومصرف این پول اختلاس است: جناب رئیس جمهور فرمودند که جناب عمر داودزی به امر من سالانه مبلغ کم از کم هفتصد هزار یورو از ایران أخذ میکند واز کشور های دیگر هم میگیرد.حال اگر مانند رئیس جمهور ساده حساب کنیم کمک کشور های دیگر  هم هفتصد هزار یورو جمعا حدود یک ونیم ملیون که با تبادله حد متوسط میشود  سالانه معادل نود ملیون افغانی که رئیس جمهور آنهارا رسمی خوانده اما طور شخصی در مربوطات قصر مصرف نموده است.شخصی بخاطر مینویسم هر پولیکه از یک فصل وباب مشخص بودجوی خارج نگردد مصرف آن فرا قانونی و شخصی است به همین دلیل میتوان گفت بدون تکیه بر مقررات قانونی بر حسب میل وسلیقه طور شخصی به مصرف رسیده .این را بدانید هیچ کس به قصر وشخص کمک نمیکند مگر اینکه شخص خدمتگار همان ارباب نعمت باشد،از یک رویپه تا ملیونها دالر کمک به قصر شخصی نیست بلکه ملیست چون به إعتبار ملت ویا صلاحیت های ملی داده میشود واگر رأئی ملت از ایشان گرفته شود هیچ کسی خلیته پول را بجیب ایشان نمی ریزد..در یک حدیث شریف خواندم که روزی یکی از فرماندهان صدر اسلام  چیزی از مردم میگرفت پیغمبر اکرم صلی الله علیه وسلم پرسید این چه هست آن صحابه گفت این تحفه است که برایم داده شده.سپس پیامبر بزرگوار اسلام فرمود این وظیفه را ترک کن وبرو در خانه کنار مادرت بنشین ببینم که مردم برایت تحفه میآورند؟.) لذا تو از منصب وقدرت سؤء استفاده میکنی حال بجناب کرزی صاحب هم همین سوال راجع است لطف فرموده ریاست جمهو ری را ترک بگو ببینم که کدام دولت برایت تحفه ویا کمک شخصی میدهد؟ نه خیر امتیازی را که شما از همسایه وسائر کشور های مغرض میگیرید کمک شخصی نه بلکه پرداخت در برابر إعتبار ملت ویا فروش آبروی همین ملتی است که بشما رأئی داده اند وشمارا سزاور تحفه وهدایا ساخته اند.

کمک رسمی یا پشمی: کمک هائی نقدی ایکه  در بین دستمال های پشمی به جیب افراد واریز میشود رسمی نه که پشمی است هیچ کمک رسمی بجیب شخصی نمیرود وهیچ فرد صادق کمک های کشور های دور ونزدیک را بدون ثبت در دیوان دارائیها عامه بخرچ نمیرساند.اگر کمک رسمی است باید در یک چک بانکی صادر وبعد بحساب مصارفات رئیس جمهور  ویا قصر ریاست جمهوری واریز گردد، نه اینکه در بین دستمال ها بین سفره نشینان قصر ریاست جمهوری توزیع شود.رئیس جمهور داود را شخص وطندوست خواند وفرمود کسیکه به قصر ریاست جمهوری پول جمع میکند رسانه ها اورا هدف قرار میدهد.وباز میفرماید پول به امر من گرفته شده رسمی است.از یکطرف شخصیت داودزی را تحسین میکند که پول در میآورد واز طرف دیگر میگوید به امر من گرفته است حال معلوم نیست این مبلغ مزد دست کیست؟ امر جنابعالی ویا إعتبار عمر داود زاده راستی خیلی إهانت آمیز است که مصارف رئیس جمهور مورد حمایت هفتاد ودو ملت از طریق سفارت ایران پرداخته شود..ایران به هیچ عمر کمک نمکیند.

کمک های رسمی ومصارف شخصی: جناب رئیس جمهور! اگر در شرائط فعلی که ده ها کشور جهان مصروف حمایت از اداره شما اند وشعار های اصلاحات اداری گوش مردم را کر کرده باز هم پول های کمک بدون واریز شدن بحساب های بانکی وبرداشت قانونی از یک حساب به مصرف برسد خیلی افتضاح آمیز ومضحک است، از اظهارات رئیس صاحب دولت فهمیده میشود که ایشان تا هنوز کمک های رسمی ومصارف قانونی را از غیر رسمی وغیر قانونی فرق نکرده فکر میکنند آنچه خود شان امر میدهند هم رسمیست، هم مشروع وقانونی نه خیر پول های اپراتیفی هم یک فصل وباب دارند ومصارف شان باید به اساس یک امر قطعی صلاحیتدار مجرا داده شود اما مصارف قصر رئیس جمهور شبیه مصارف جبهات مجاهدین است که باد میاورد وبدست باد سپرده میشود . رئیس صاحب جمهور تمام اوامر شما رسمی نیست بعضی پشمی وخائنانه است.این إعتراف شما از لحاظ سیاسی توهین به ملت واز لحاظ مالی افتضاح وفساد واز لحاظ اخلاقی تعریف ندارد.

                                                                         

   ازحماسه زن

لینک      نظرات ()      

سرزمین ما از کدام وقت نام اوغانستان را بخود گیرفت نویسنده: م.و.ر - ۱۳۸٩/۸/٤

درنگی بر سر نام کشور ما- افغانستان 


                                      عزیز آریانفر

 

روشن است کشوری که اکنون به نام افغانستان یاد می شود، در درازای تاریخ، پاره یی از بخش خاوری فلات بزرگ پهناور ایران («ایرانستان») بوده است که با کشورهای آسیای میانه، هند، پاکستان و ایران کنونی، تاریخ مشترک دارد.
این کشور در میانه های سده نزدهم در سیمای یک دولت در چهارچوب مرزهای کنونی و با نام امروزی- «افغانستان» از میان پارچه های بر جا مانده از امپراتوری درانی سر برآورده است. امپراتوری درانی به نوبه خود، پس از فروپاشی امپراتوری بزرگ نادر افشار به دو بخش خاوری و باختری از سوی احمد شاه ابدالی درانی به میان آمده بود.
این گونه، افغانستان در سیمای امروزین و در چهار چوب مرزهای بین المللی کنونی، یک کشور نو است که در واقع در آخرین روزهای امارت دوست محمد خان و با آغاز امارت امیر شیر علی خان د- فاکتو با پیوندیابی سردارنشین های کابل، قندهار و هرات با کارگردانی انگلیسی ها و پشتیبانی آن ها از امیر دوست محمد خان در دوره دوم امارت او بنا به اقتضای وقت منافع امپراتوری بریتانیای کبیر و روسیه تزاری چونان یک منطقه حایل در میان متصرفات آسیایی این دو امپراتوری ظهور نمود و در دوره امارت امیر عبدالرحمان خان با امضای کنوانسیون کابل که به «معاهده دیورند» شهرت یافته است، و نیز تثبیت مرزهای آن با کشور پارس در باختر از سوی انگلیسی ها و مرزهای شمال آن با روسیه تزاری در نتیجه توافقات روسیه تزاری و انگلیس، د ژوری- تسجیل گردید.
 
پیداست، همین گونه، امپراتوری درانی را که پس از فرپاشی امپراتوری نادر افشار به دو بخش خاوری و باختری، پدید آمد؛ نیز نمی توان «افغانستان» خواند. در واقع، مرزهای امپراتوری درانی بیشتر با مرزهای خراسان تاریخی- هر چند هم نه به گونه کامل- همخوانی داشت. از سوی دیگر، پس از فروپاشی امپراتوری درانی با بر افتادن زمان شاه ابدالی، سرزمین های برجا مانده از این امپراتوری، به چند «خان نشین» و «سردار نشین» و «میر نشین» تقسیم گردید که در ادبیات سیاسی جهان بیشتر به نام «سردارنشین های افغانی» شناخته می شوند.
 
شایان یاد آوری می دانیم که هر چند در گذشته تاریخی، نام «افغانستان» پیشینه داشته و برای گستره پشتون نشینی که کنون نوار مرزی کشور ما و پاکستان را می سازد، بیشتر بر مضافات پیشاور که تقریبا سراسر گستره پشتون نشین پاکستان کنونی و نوار مرزی پشتون نشین افغانستان کنونی را در بر می گیرفته است (در یک سخن گستره کوه های سلیمان)، اطلاق می گردیده است؛ با آن هم در تاریخ معاصر برای نخستین بار به سال 1798 از سوی انگلیسی ها در اثری که گ. فورستر نوشته بود، به کار رفته بود.
 
برای به دست آوردن اطلاعات بیشتر در زمینه نگاه شود:
G. Forster, A journey from Bengal to England, through the northen part of India, Kashmire, Afghanistan, and Persia, and into Russia by the Caspia-Sea, vol. I-II, London, 1798
چاپ دوم در 18.8
ترجمه آلمانی، شماره دوشنبه 4 نوامبر1799 هفته نامه ادبیات عمومی (Allgemeine Literatur- Zeitung (ALZ) )
...، ص. 352 زوریخ؛ ترجمه فرانسوی، پاریس- 1802
 
پروفیسور یوری گانکوفسکی فقید در ص. 13 کتاب گرانسنگ «امپراتوری درانی» خود که به سال 1958 از سوی انتشارات «ادبیات خاور» مسکو به چاپ رسیده و در افغانستان از سوی اکادمی علوم به پشتو هم ترجمه شده است، از این اثر نام برده است.
 
پیش از این، کلمه «افغانستان» در ادبیات اروپایی به چشم نمی خورد.
 
در آثار پارسی دری، تنها پروفیسور لعل زاد- از پژوهشگران افغانستانی باشنده لندن در مقاله «چگونگی ایجاد کشوری به نام افغانستان» از این اثر یاد کرده و تبصره جالبی در باره آن به این شرح نوشته است: «جورج فورستر جهانگرد انگلیسی در سال های 1782- 1784 در سفری از بنگال از راه شمال هند، کشمیر، افغانستان، پارس و روسیه گذشته، خاطرات این سفر را با همین عنوان در 1798 در لندن به چاپ می رساند.
 
وی در 1783 از شهرهای پیشاور، جلال آباد، کابل(به هنگام پادشاهی تیمورشاه)، غزنه، قندهار و هرات عبور می کند. از «افغانستان» نام می برد، مگر حدود آن را ذکر نمی کند. ولی مسیر مناطق کشمیر، پیشاور، کابل، قندهار و هرات را مربوط حکومت افغان می خواند.کابل را «پایتخت امپراتوری افغان» و بلخ را «پایتخت ترکستان» می گوید که تا اندازه یی تابع تیمورشاه بوده است.
 
فورستر نقشه جالبی از مسیر سفر خود ترسیم می کند که در آن کشورهای بخارا، پارس و هند بدون مرزبندی با خطوط برجسته نشان داده شده اند. در نقشه مناطقی به نام «افغان»، غور، لاهور و خراسان دیده می شود که در بر گیرنده ساحات بزرگتر نسبت به کشمیر و «کابل» آن روزی است. با آن که در متن کتاب در چندین جای نام «افغانستان» یادآوری شده، اما چنین مکانی در نقشه نشان داده نشده است و به عوض منطقه «افغان» نشان داده شده است که در خاور قندهار و جنوب کابل قرار دارد.»  
 
پسانتر، به گونه یی که روانشاد محمود محمود در ص. ص. 33 و 34 کتاب وزین تاریخ روابط سیاسی ایران و انگلیس آورده است، در متن پارسی قرار داد سیاسی یی که سر جان ملکم در ماه جنوری1801 با دولت فتح علی شاه قاجار به امضاء رساند، در ماده های دوم، سوم و چهارم کلمه «پادشاه افغانستان» برای دولت زمانشاه درانی به کار رفته است. در ظاهر، این نخستین سندی به زبان پارسی است که نام «افغانستان» برای امپراتوری درانی در دوره زمانشاه به زبان پارسی به کار برده شده است.
 
پسان ها روانشاد غبار این متن قرار داد را به نقل از روانشاد محمود محمود در کتاب افغانستان در مسیر تاریخ آوردند و در کشور چنین پذیرفته شد که کلمه افغانستان برای نخستین بار در 1801 در قرار داد میان ایران و انگلیس برای امپراتوری درانی به کار رفته است. روانشاد فرهنگ نیز در افغانستان در پنج قرن اخیر چنین چیزی را تایید می نمایند.
 
سوگمندانه، روانشاد محمود محمود متن انگلیسی قرار داد را در کتاب خود نیاورده اند تا دیده می شد که آیا در متن انگلیسی نیز کلمه افغانستان به کار برده شده بود یا نه؟. همچنین روشن نیست که ایشان متن اصلی قرار داد را به زبان پارسی از بایگانی وزارت خارجه ایران برگرفته اند یا این که آن را از انگلیسی ترجمه کرده اند؟ از همین رو، مادامی که متن اصلی قرار داد به زبان پارسی دیده نشود، نمی توان با ضرس قاطع در مورد آن چیزی گفت. شاید متن اصلی پارسی این قرار داد در آثار ایرانی بازتاب یافته باشد. مگر، چنین بر می آید که تا کنون کسی از پژوهشگران افغانی چنین سندی را ندیده باشد. دست کم بنده تا کنون به آن بر نخورده ام.
 
 به سال 1996 در سفری که همراه با استاد ناظمی به لندن داشتم، چاشتی همراه با روانشاد استاد بیرنگ کوهدامنی مهمان روانشاد استاد جاوید در خانه شان بودیم. سخن از این در میان آمد که برای نخستین بار نام افغانستان برای کشور ما در کدام زمان و در کجا به کار رفته بود. استاد بیرنگ گفت در قرار داد معروف1801 میان ایران و انگلیس. استاد جاوید فرمودند که«من متن اصلی قرار داد را به زبان انگلیسی در کتابخانه....لندن دیده ام. در قرار داد به زبان انگلیسی کلمات «شاه افغان» و «سرزمین افغان ها» به کار رفته است. چنین بر می آید که در متن پارسی قرار داد در ظاهر مترجم ایرانی و یا هم روانشاد محمود محمود یا به اشتباه یا بر سبیل عادت معمول ایرانی ها که هر سرزمینی را با پسوند «استان» یاد می کنند، کلمه «افغانستان» را به کار برده است. به باور من، نخستین بار کلمه افغانستان به عنوان نام کشور ما در قرار داد 1838 به کار رفته است.»
 
به هر رو، کنون دیگر به یاری انترنت می توان متن انگلیسی قرار داد را در زیر خواند:
C. U. Aitchison, A Collection of Treates, Engagements and Sanads. Vol-XIII Relating to Persia and Afghanistan. Gov. of India, 1933
http/www. New. Dli. Ernet.in/
 
همین گونه، در ص. 105 کتاب تاریخ روابط سیاسی ایران و انگلیس در قرن نزدهم میلادی، می بینیم که در بند هفتم معاهده یی که میان سر هار فورد جونس از سوی دولت انگلستان و میرزا محمد شفیع- صدر اعظم و حاجی حسین خان از سوی دولت ایران به تاریخ 12 ماه مارچ 1809 در تهران منعقد شده بود، در متن پارسی کلمه «افغانستان» آمده است که در متن انگلیسی چنان چه گفتیم «افغان ها» آمده است که باز هم چنین بر می آید که روانشاد محمود محمود آن را از انگلیسی ترجمه نموده باشند.
 
همین گونه در ص. 121 و ص. 122 تاریخ روابط سیاسی ایران و انگلیس در قرن نزدهم میلادی آمده است: «...دولت انگلستان به نمایندگی الفنستن قرار دادی بر ضد مملکت ایران و فرانسه، با افغانستان منعقد کند و عهدنامه ای با پادشاه کابل در تاریخ 17 ماه جون 1809 منعقد نمود که خلاصه آن از این قرار است...»
 
در این سند که روانشاد محمود محمود از زبان انگلیسی ترجمه نموده اند، سه بار نام «افغانستان» آمده است. مگر در اصل قرار داد که در ص. 77 سراج التواریخ آمده است و روانشاد داکتر محمود افشار یزدی آن را در ص.ص. 64-67 جلد دوم افغان نامه آورده است، نامی از افغانستان دیده نمی شود و در عوض پادشاه در دران، پادشاه سپهر بارگاه کابل و پادشاه ممدوح آمده است. چنین بر می آید که روانشاد محمود محمود برای آسانی کار خوانندگان و جلوگیری از دادن توضیحات بیشتر ترجیح داده باشند به جای «پادشاه در دران» و «پادشاه سپهر بارگاه» و «پادشاه ممدوح» – پادشاه افغانستان آورده باشند و یا شاید هم در کتاب انگلیسی نوشته سر جان ویلیام کی که محمود محمود از آن بهر گرفته بود، چنین کاری شده باشد.
 
در ص. ص. 135-137 همین کتاب، در عهدنامه یی که به تاریخ 14 مارچ 1812 سر گور اوزلی با پارس به امضاء رساند، در ماده پنجم «طائفه افاغنه» آمده است. در حالی که در ماده ششم در ص. 138 تنها کلمه «افغان» ذکر شده است.
 
همین گونه در ص. ص. 198- 202 در سواد صورت عهد نامه یی که به نمایندگی مستر موریر و مستر هنری الیس در 25 نوامبر 1814 با دولت ایران بسته شده و برنگار شده است، در فصل هشتم با «طایفه افاغنه» و در فصل نهم آن با کلمه «افغان» بر می خوریم.
 
الفنستون در کتاب «گزارش سلطنت کابل» که به از سوی آقای فکرت به زبان پارسی برگردان و به سال 1376 در ایران چاپ شده است در ص. 104 می نگارد: «افغان ها نام عمومی برای کشورشان ندارند؛ اما «افغانستان» که محتملا نخست در ایران به کار برده شده، مکرر در کتاب ها آمده است و اگر به کار رود، برای مردم آن سرزمین نا آشنا نیست، بنا بر این، من این نام را برای کشوری به کار خواهم برد که هم اکنون حدود آن را شرح داده ام.»
 
جالب این است که آن چه الفنستون به عنوان حدود کشور پیچیده افغان ها شرح داده است (نگاه شود به ص. 104 همان اثر)، شامل شمال افغانستان کنونی و باختر آن نمی گردد. او در زمینه می نگارد: «حال می توانم حدود کشور پیچیده افغانان را تعیین کنم: از شمال به هندوکش و سلسله پاروپامیز؛ از شرق به سند- تا نزدیک کوه ها در عرض 32 درجه و 20 دقیقه- صحرای کرانه راست سند در جنوب آن مسکن بلوچان و سلسله کوه سلیمان با شاخه های آن و سرزمین های دامنه آن متعلق به افغان ها است؛ از جنوب به تپه های یاد شده که سیوستان را در شمال محدود می سازد.
 
سرزمین افغانان که پیوسته به شمال این کوه ها است، نخست به جانب غرب چندان امتداد نمی یابد که به سطح مرتفع کلات برسد؛ پس به شمال امتداد می یابد تا به بیابانی می رسد که مرز شمال- غربی ان است.
 
...هندوکش که سنگر دفاعی شمالی آن است، از اراضی هموار و پست بلخ بسیار بلند می نماید. از شرق هم در مقایسه به جلگه کم ارتفاع سند بسیار بلند است. در جنوب سیوستان در پایین آن قرار دارد و دره ژرف بولان در جنوب- غرب میان آن و بلوچستان امتداد دارد. در غرب سراشیبی تدریجی آن به جانب بیابان است و در شمال- غرب ارتفاعش را در برابر کوه های پاروپامیز می بازد.
 
سطح مرتفع کلات را باید ادامه سطحی شمرد که پیشتر یاد شد؛ اما سرزمین های پایین تر که تا بیابان امتداد دارد و دره بولان ان ها را از هم جدا کرده است، باید از آن مجزا شمرده شود.
 
...بخش بیشتر سرزمین های افغان تا غرب خط موازی مقر در طول البلد 68 درجه و30 دقیقه در استان مهم و بزرگ خراسان داخل است و بخش باقیمانده خراسان( که مرزهای آن را به احتمال می توان توسط آمو، بیابانی که آمو در آن روان است، دشت نمکزار و دریای خزر تعیین کرد) در ایران است...
 
....او در ص. 158 [متن دری کتابش-گ.] می نگارد: «آنان [افغان ها-گ.] نام عمومی برای کشور خویش ندارند؛ ولی گاهی نام افغانستان را به کار می برند. دکتر لیدن نام پشتونخواه را یاد کرده است، ولی من هرگز کاربرد آن را در جایی ندیده ام. گاهی هم کلمه «سرحد» یاد شده است، اما این نام بر جلگه های شرق کوه های سلیمان اطلاق نمی شود. این کلمه در واقع چیزی جز «سردسیر» فارسی نیست.
 
نامی که توسط ساکنان سرزمین بر تمام کشور اطلاق می شود، خراسان است اما واضح است که به کار بردن این نام درست نیست؛ زیرا از یک سو تمام افغانان در محدوده خراسان داخل نیست و از سوی دیگر، در بخش مهمی از آن ایالت افغانان ساکن نیستند.».
 
به هر رو به گونه یی که دیده می شود، الفنستون نام «افغانستان» را برای کشور پادشاهی کابل(The Kingdom of Cabul) که ظاهرا از سوی ایرانی ها به همه سرزمین های افغان نشین اطلاق می شده است، به عنوان نام عمومی کشوری که نام ندارد، پیشنهاد می کند.
 
از دیدگاه رسمیات، این نام چونان نام رسمی کشور در سیمای کنونی تا نیمه های سده نزدهم در اسناد داخلی بازتاب نیافته بود و مردم نیز با آن آشنا نبودند، از همین رو هم کاربرد نداشت. با بررسی قرار دادها و معاهدات موجود کشوری می توان گفت که برای نخستین بار در معاهده لاهور که میان انگلیسی ها و رنجیت سینگ به تاریخ 26 جون 1838 به امضاء رسید، نام «افغانستان» قید گردیده است.
 
با این هم، سر از1832 نام «افغانستان» برای مجموع سردار نشین های افغانی و یا دست کم بخش بزرگ آن در آثار و اسناد دیپلماتیک به چشم می خورد که در 1838 شیوع بیشتر پیدا می کند.
 
تا جایی که بنده در میان انبوهی از کتاب های تاریخی یی که در کتابخانه خانگی خود دارم، کاوش نموده ام، ظاهرا نخستین باری که در آثار انگلیسی زبان، کلمه افغانستان چونان نام بخش هایی از سرزمین ما به کار برده شده است، تاریخ 25 اگست 1832 بوده است.
 
در ص. 324 جلد یکم تاریخ روابط سیاسی ایران و انگلیس چنین می خوانیم: «در 25 اوت 1832 روزنامه موسوم به گازت بمبئی چنین می نگارد: «کاغذی که از ایران رسیده در جز اخبار آن می نویسد، عباس میرزا حکم کرده سی هزار قشون ایران به طرف هرات وافغانستان حرکت نمایند و این مقدمه حمله به هندوستان می باشد که به کمک دولت روس به عمل خواهد آمد. اتفاقات آینده همیشه سایه خود شان را قبلا ظاهر می سازند.»
 
در مراسلات دیپلماتیک ایران با انگلیسی ها، کار برد این نام در اواخر نیمه نخست سده نزدهم، هر چند هم در معانی گوناگون معمول بوده است. برای نمونه، در نامه یی که میرزا ابوالحسن خان شیرازی- وزیر امور خارجه ایران به تاریخ 19 ذیقعده 1248 عنوانی وزیر مختار انگلیس نوشته است (در ص. ص. 9- 10 کتاب گزیده اسناد سیاسی ایران و افغانستان، جلد اول، چاپ وزارت خارجه ایران، 1374) چنین می خوانیم: «در ثانی زحمت می دهد که از برای استخلاص آن ها شق دیگر هم به نظر دوستدار آمده است که به عالیجاه میرزا حسین قلی اظهار نداشت و آن این است که به غیر از سمت قندهار و کابل و هرات و طرف افغانستان به هر طرف که بخواهید بروند، مختار باشند و مطلق العنان خواهند بود خواه به ولایت ایران بیایند یا سایر جاهای دیگر که دخل به خاک هرات وافغانستان و کابل و قندهار نداشته باشد.»
 
چنانی که از این نامه بر می آید، منظور از «افغانستان» گستره پشتون نشین مرزی (کنون میان کشور ما و پاکستان) است که کابل و قندهار بیرون از آن دانسته شده است.
 
در همین کتاب در ص. ص. 1-2 در نامه یی که الکساندر برنس به سال 1243 در باب کابل نوشته است، می خوانیم: «... از جمله چهار مملکتی که افغانستان از آن ها ترکیب یافته است، یک حصه تابع پنجاب است[منظور از پیشاور است-] و سه حصه دیگر آن تابع ایران [منظور از کابل، قندهار و هرات است] و نیز فهمیده ایم که رییس کابل مردی است دانشمند و دور اندیش و در وفات رنجید [(رنجیت سینگ] قادر خواهد بود که در همه این مملکت تسلط کلی پیدا کند و...»
 
از این نامه چنین دانسته می شود که در تاریخ نگارش آن، پیشاور و سرزمین های مربوط آن تابع پنجاب و کشور کابل (که بخش بزگی از مناطق مرکزی و شمالی افغانستان کنونی را در بر می گرفته است) و قندهار و هرات با توابع آن، تابع ایران قاجاری بوده است.
 
در ص. ص. 72- 73 همین کتاب در نامه یی که الیت دارسی تاد- وزیر مختار انگلیس به تاریخ 24 اپریل 1838 به وزیر خارجه ایران نوشته است چنین می خوانیم«...بنا بر این مدام که محب به صدق و راستی اظهار سازد که در سنوات سابق امنای دولت بهیه انگلیس با پادشاهان سلف افغانستان عهدی دوستانه نبسته و شرطی محبانه کرده اند...»
 
به گونه یی که دیده می شود، در این هنگام دیگر کار برد نام افغانستان برای مجموعه سردار نشین های افغانی در یادداشت های دیپلماتیک انگلیسی ها جا افتاده بود. مگر، جالب این است که در اسناد این کتاب سرداران افغانی اعم از مهر دل خان، کهندل خان و... هیچ کدام در نامه های شان از افغانستان نامی نمی برند و این گواه بر آن است که این نام کاربرد چندانی نداشته است. تنها یک بار کهندل خان در نامه 1269 خود عنوانی ناصر الدین شاه قاجار از «شش جهت افغانستان» یاد کرده است.
 
تنها در نامه هایی که امیر دوست محمد خان به دربار ایران نوشته است، دو، سه بار از افغانستان نام برده است.آن هم با تعابیر گوناگون.
 
برای مثال، او در یک جا کابل را پایتخت افغانستان خوانده است. با این که منظور او از «افغانستان» روشن است گستره زیر فرمانروایی خودش بوده است که در آن برهه شامل قندهار و هرات و بخش های دیگری مانند ترکستان، بدخشان و... نمی گردیده است. در ص. ص. 212- 213 کتاب «افغانستان و ایران» نوشته داکتر یوسف حقیقی، 1383، ایرن، گوشه یی از نامه یی از امیر دوست محمد خان آورده شده است که متن کامل آن در کتاب امیر کبیر و ایران(تهران، خوارزمی، 1348، ص. 632) آمده است. آقای پیروز مجتهد زاده در باره این نامه در کتاب «امیران مرز دار و مرزهای خاوری ایران» می نویسد که این نامه در آرشیو وزارت خارجه انگلستان وجود دارد.
 
«...محمد حسین خان،[1] دومین سفیر دوست محمد خان به دربار ایران در 1838 به تهران رسید و نامه دوست محمد خان را از نظر شاه ایران گذرانید. او در نامه خود نوشته بود:
«از آن جا که از اوقات قدیم بزرگان خانواده این بنده به صداقت و درستی مربوط و متوسل دودمان فلک بنیان اعلیحضرت شاهنشاهی بوده اند، این بنده نیز خود را یکی از متمسکین و متوسلین دودمان آن سلطنت عظمی انگاشته، چنان داشته ایم که این ولایت [کابل و مضافات آن] هم تعلق به مملکت ایران دارد...سبب عریضه نگاری در این وقت، که اعلیحضرت قوی شوکت پادشاه اسلام است، در جمیع این ولایت فتنه و فساد و اغتشاش عظیم از طایفه شقاوت نژاد سیک است، اگر چه چهارصد هزار خانوار از افغان و از طوائف حول و حوش و همسایه ها، آثار و علامات اطاعت به این خیرخواه صمیمی اند، و لیک به جهت عدم قدرت و توانایی من از برای مشغول ساختن و منظم نمودن این چنین گروه عظیم، قشون من منحصر شده است به بیست هزار سوار جرار و رشید و خوب و ده هزار پیاده و پنجاه عراده توپ...، تا حال مغلوب آن طائفه بی دین نشده ام.
 
...شهر قندهار که اشرف بلاد است و شهر کابل که پایتخت افغانستان است و بلاد و نواحی که با خراسان هم سرحد هستند، و همچنین مملکت خراسان و مضافات ولایات مفصله فوق کلا جزو ممالک محروسه ایران است و در جمیع ممالک محروسه شاهنشاهی، نیک و بد این ولایات نیز از نیک و بد سایر اجزای مملکت ایران نباید جدا و سوا باشد و نباید از منافع دولت علیه ایران محروم و بی نصیب بمانند...»
 
همین امیر دوست محمد خان در نامه یی که شاید به سال 1253 عنوانی حاجی میرزا آقاسی- صدر اعظم ایران نوشته است و در ص. ص. 227-228 کتاب ایران و افغانستان، نوشته بهمنی قاجار، چاپ وزارت خارجه ایران، 1386 آمده است «... کپیتان اسکند برنس ایلچی از دولت انگریز وارد دار السطنه کابل و در مدت هفت هشت ماه نوید استخلاص دارالمسلمین پیشاور و افغانستان این روی آب اتک دوستدار را امیدوار ساخته، بالاخره از سخنان او بوی صدق به مشامه نرسیده، او نیز دانست که طبقه افغان تا علامات دوستی را آشکار و نمایان مشاهده نکنند، دلبستگی به هم نرسانند و نیز آمدن عالیجاه عزت همراه کاپیتان ویتکویچ سفیر دولت بهیه روسیه...»
 
از این نامه بر می آید که هنگام نگارش نامه، افغانستان بیرون از پیشاور بوده است و این درست هم است؛ زیرا در آن هنگام پیشاور زیر سیطره سیک ها بوده است.
 
 امیر دوست محمد خان در نامه یی که در 1836 عنوانی تزار روسیه نوشته است، کشور خود را «مملکت افغان» خوانده است.
 
بسم الله خیر الاسمآ
حضرت امپراطور اعظم حفظ الله الملک الاکرم
 
تا کوکب نیر اعظم با امر و اراده خالق اکرم مربع نشین چرخ چهارم و نوربخش عرصه نیلگون طارم است همواره اریکه عظمت و شوکت و جهانداری و سده سنیه ابهت و حشمت و شهریاری بوجود مهر نمود جان آسود شهنشاه جم جاه انجم سپاه جمشید نظر کیخسرو سریر زمان دارانشان سلطان البرین و خاقان البحرین جمشید تهمتن تن کیسخرو و سام آمین اسکندر کسری وش داری فریدون فر خورشید فلک هیبت گردون قضا فرمان نیسان سخا باران دریای جهان لنگر السطان ابن سلطان و الخاقان ابن الخاقان شهنشاه معظم............منور و مزین بوده اعلی نشین سریر شاهنشاهی و صدر کزین اریکه صاحب کلاهی باشند بعد از بزم آرایی ایوان موالفت و وداد و پس از انجمن آرایی شبستان مودت و اتحاد مشهود رای جهان ارای خورشید ابخلا آنکه چون فیمابین دودمان این محبت نشان و سلسله سدوزایی مخالفت و مخاصمت کلی و عناد جبلی واقع و سرکار عظمت مدار انگلیس بهادر در پرداخت حال شجاع الملک سدوزایی مایل و رنجیت سنگه که والی ملک پنجاب است و بسرکار انگلیس بهادر که مملکت هندوستان در قبضه تصرف آنها است قرب جوار دارد طریقه آمیزش با یکدیگر مربوط و پرورش مخالفان این دولت را مضبوط دارند و این بنده درگاه الله با سامانه و جمعیتی که بفرمان قادر مستعان مترتب شده است با گروه سکان مقابل و معارض چون آن دولت گردون رفعت را با دولت بهیه قاجاریه اتحاد کامل حاصل است هرگاه در پرداخت امور مملکت افغان و انتظام سلسله این دودمان نیز توجه شاهانه مصروف فرمایند اباّ غبحداّ و نسلاّ بعد نسل این طبقه را که از توفیقات پادشاه بی همتا که قریب بیست لک خانه می باشند مرهون وممنون خواهند ساخت
 
 از مکارم اخلاق شریف و مراسم افکار لطیف متوقع چنان است که این سلسله جلیله را بقرار دودمان عظیم الشان دولت گردون رفعت قاجاریه متصل بدولت فلک مرتبت خود سازند انشاالله تعالی هرگاه از آن جانب تقویت رسانی باشد از سلسله افغان متعلقه نیازمند بسا امورات و مطالبات شاهانه خواهدشد فقط    
مهر: امیر دوست محمد غازی ? 1250 »[2]
 
در کتاب گزیده اسناد سیاسی ایران و افغانستان در ص. 120 در نامه یی که وزیر خارجه ایران به تاریخ 27 جمادی الاولی 1254 عنوانی میرزا جعفر خان– فرستاده ایران به عثمانی نگاشته است، آمده است: «خواستند حدود افغانستان که از قدیم ملک دولت علیه بوده است [را-گ.]، از ما منحرف و سردارهای این ملک را با هم متفق کنند تا مابین ما و هند سدی سدید باشد.
 
اگر کتاب سیاحت اسکندر برنس را پیدا کنید، در آن جا خواهید دید که دوستی ایران از برای ما بی فایده است و این همه خرجی که کرده و می کنیم بیهوده. اگر دولت ما دوست محمد سردار کابل را تقویت نماید، خرجش کمتر خواهد شد و نفعش بیشتر. ما خواستیم ملک قدیم خود را تصرف نماییم. شما هنوز در اردو تشریف داشتید و دیدید که از کابل و قندهار فرستاده ها رسید و عریضه ها آوردند که ما نوکر قدیم شما هستیم...»
 
در این سند از حدود افغانستان نام برده شده است که منظور از همه سردار نشین های افغانی بوده است. در این حال، الکساندر برنس دوست محمد خان را سردار کابل خوانده است.
 
در همین کتاب در ص. ص. 175- 176 نامه وزیر خارجه ایران عنوانی کارل نسلرود- وزیر خارجه روس تاریخی شاید اواخر شعبان 1254 آمده است که چنین می خوانیم: «...و کابل و قندهار و کل افغانستان را جز چهار دیوار هرات به اطاعت در آوردند...»
 
در ص. 184 این کتاب در نامه یی که شیل- نائب وزیر مختار انگلیس در تهران به وزیر خارجه ایران به تاریخ سوم رمضان 1254 نوشته است، می خوانیم: «...هرگاه قطعه زمینی از خاک افغانستان را از حکم سرکار اعلیحضرت شهریاری به تصرف نگهدارند،...»
 
در نامه یی که در ذیقعده 1266 ناصر الدین شاه قاجار عنوانی دوست محمد خان نوشته و در ص. 236 همین کتاب آمده است، او راامیر کابل خطاب نموده است.
 
...و اما امیر شیرعلی خان نخستین فرمانروایی بوده است که در نامه تاریخی پنج شنبه، 12 شهر شوال 1290 (یا 1295) هجری ماهتابی خود عنوانی تزار روسیه، کشور خود را چند بار «افغانستان» خوانده است. پیش از او کسی از امیران کشور ما را در چهارچوب مرزهای کنونی «افغانستان» نخوانده بود. از این نامه چنین بر می آید که دیگر در دوره امیر شیر علی خان افغانستان نام رسمی کشور ما گردیده بود. (نگاه شود به کارگون: سیر تاریخی ریختیابی سیمای روسیه در افغانستان).
 
«بر خاطر خطیر خورشید نظیر جناب عظمت مآب اعلیحضرت کیوان رفعت ایمپراطور اعظم بعد اظهار دوستی صادقانه و محبت خالصانه مکشوف می دارد از آنجا که به اقتضای مراسم دوستی و وداد وقوع بعضی واقعات وظهور برخی مواد بر ضمیر مهر تاثیر اعلیحضرت ایمپراطوری لازم است که روشن و هویدا باشد لهذا می نگارد از روزیکه ابواب مکاتبه و مراوده مابین آندولت قوی صولت و ایندولت خداد داد مفتوح گشته و نوشتجات محبت آیات از طرفین طرح و آغاز شده ظهور این امر در خاطر اهالی دولت انگریز ثقی عظیم نهاد
 
 مدت درازی با اهالی ایندولت خداداد طریقه کاوش و مکاوحت را پیموده و اطوارهای ناملایم که منافی رسوم همسایگی است بروی کار آورده هنوز نایره کین و کید شان انطفا نپذیرفته بود که واقعه سفرای دولت سنیه بدارالسلطنه کابل اتفاق افتاد و گوهر نکات مشفقانه اعلیحضرت ایمپراطوری را انچه القا شده بودند برشته بیان درکشیدند اینمعنی بر مراتب خلاف و نزاع شان افزود پس از ورود سفرای دولت سنیه ظاهرا و علانیه از در بی باکی و مخاصمت برآمده قسم قسم اوضاع ناملایم و نوع نوع اطوار خصمانه را با اهالی ایندولت خداداد طرح و بنیاد کرده بسرحد دولت خداداد مقبوضه حال ما مسمی بجمرود ظاهراّ بذکر سفارت و باطناّ بفکر خسارت این مملکت خدا داد معدودی زیاد که اطلاق اردو خود بر آن کرده اند آمده عبور بلا اجازه و دستوری را خواهش کردند که بدارالسطنه درآیند و مقاصد خود را در باب هتک حرمت سفرای دولت سنیه بپای برسانند
 
چون از طریق ملازمان و سرحد نشینان دولت خدا داد دست رد به سینه تمنای شان گذاشته شد که دوستی بزور سفارت به ازدحام و شور در هیچ دولتی قاعده و دستور نیست واپس بپشاور معاودت نموده و بفکر بستن لام ها برای مهم افغانستان افتاد کزیت ها و اشتهار های لشکرکشی بهر گوشه و کنار مملکت خود فرستاده اندو بدست سعی و بازوی اهتمام هر خلل و فتور و رخنه و قصوری که در بنیان مملکت افغانستان میتوانند رسانید مضایقه و دریغ ندارند
 
با این همه اطوار و کردار شان که بشرح و حال رفت هنوز تا حال از طرف ایندولت خدا داد حرکات خصمانه و اوضاع معاندانه با دولت برطانیه بروی کار نیامده و تقدم بر دشمنی و سبقت بر مخالفت را دو راز طریقه حزم و عاقبت بینی شمرده اند و لکن بداهت عقل بدینمعنی حازم است که هر چند ازینطرف ابواب مدارا باز شود، از آنطرف اسباب مخاصمت ساز میگردد و نقشه دولت برطانیه با دولت افغانستان امروز همان نقشه است چهل سال یا زیاده قبلبرین رخداده بود باینمعنی که در آن اوقات هم سفیری از دولت سنیه ایمپراطوری داخل افغانستان و وکیلی از دولت برطانیه پا نهال اینصفحه و سامان گردیده جناب امیر کبیر مرحوم بمقتضای فکر سلیم و رای مستقیم دوستی دولت جناب ایمپراطور را اختیار و از دوستی دولت انگریز ابا و انکار فرمودند
 
بدینواطه رسید بمردم افغانستان آنچه رسید خلاصه مدعا دولت برطانیه را با دولت افغانستان خیال ستیز و آویز محکم و اهالی ایندولت خداد داد را نیز حتی الوسع و الامکان حراست ثغور و حفاظت انفس و اموال از معظم امور و امور معظم است تا درین گیر و دار حکمت بالغه سبحانی چه تقاضا فرماید و از مشیت کامله الهی چه برآید صورت حالات و حقیقت واقعات همین است که از فاتحه با خاتمه و از هدایت تا نهایت برای اطلاع خاطر خطیر اعلیحضرت ایمپراطوری بی کم و کاست بقید تحریر درآمد
 
هر آینه از کمال تفقد و مهربانی همت بزرگانه را بر امداد دوستانه متضمن رفاهیت افغانستان آنچه لازم شایان شان جناب ایمپراطور است مصروف و مبذول خواهند فرمود فقط
 
تحریر یوم پنجشنبه 12 شهر شوال المکرم سنه 1290؟ (یا 1295) هجری نبوی
امیر شیر علی
 
در آثار روسی نیز چنین نامی تا میانه های سده نزدهم دیده نمی شود. در برخی از مراسلات دیپلماتیک میان پارس و انگلیس در اواخر نیمه نخست سده نزدهم نیز کلمه افغانستان به چشم می خورد.
 
تا جایی که من در آثار روسی مطالعه کرده ام، شاید نخستین سندی که در آن کلمه افغانستان در معنای همه سردار نشین ها و میر نشین های افغانی یاد شده باشد، در بایگانی مرکزی دولتی تاریخ در پتربورگ، بنیاد دفتری ویژه وزارت دارایی، بخش محرمانه او. ار. -1، پرونده 3/3 فهرست21 باشد که پروفیسور میخاییل ولودارسکی در باره آن در ص. 35 کتاب شوروی ها و همسایه های جنوبی شان ایران و افغانستان، ترجمه آریانفر، چنین می نویسد:
«... کشور دور افتاده کوهستانی تقریبا در روسیه ناشناخته بود. در پایان سده هژدهم بازرگانان بخارا که ساخته های استادان افغانی را برای فروش به روسیه می آوردند، سخن هایی در باره «کابل» بر زبان می آوردند. در اوایل سده نزدهم حکومت روسیه تصمیم گرفت اطلاعاتی در باره «افغانستان» گردآوری نماید. برای این کار در هیاتی که به رهبری گراف گولوفکین که باید از چین به کابل می رفتند، یک گروه از دیپلمات ها شامل گردید. مگر، گولوفکین به چین نرسید و دیپلمات های روسی نتوانستند به کابل بروند.
 
 هنوز در سال 1823 یکی از کارمندان وزارت دارایی که دست اندر کار مسایل بازرگانی با آسیای میانه بود، در گزارش سالیانه خود نوشت: افغانستان «ارزش آن را ندارد که حکومت به خاطر آن خود را به زحمت بیندازد». با این هم، پس از ده سال، کلمه «افغانستان» در مکاتبات دولتی و دیپلماتیک روسیه بیشتر تکرار می گردید».
 
به گونه یی که از گفته های ولودارسکی بر می آید، باید ده سال بعد از این، در سال1832 کلمه افغانستان در آثار روسی آغاز به کار گرفتن شده باشد. مگر تا کنون کسی دیگری از چنین اسنادی سخن نگفته است. با توجه به این که پروفیسور ولودارسکی سال ها در پتربورگ (لنینگراد پیشین) به کار پژوهش دست داشته بود، تردیدی در نوشته هایش نباید داشت. مگر با آن هم، بایسته است تا کار بیشتری در زمینه انجام شود و اسناد از بایگانی ها بیرون کشیده شوند تا دیده شود که در کدام سند روسی برای نخستین بار کلمه افغانستان و به کدام معنا به کار رفته است.
 
به همین پیمانه، جالب است که در مکاتبات رسمی میان روسیه و انگلیس، در کدام سند و کدام مناسبت برای نخستین بار کلمه افغانستان به کار رفته است.
 
در ص. 341 جلد یکم تاریخ روابط سیاسی ایران و انگلیس، در مراسله رسمی از طرف ویسکونت پالمراستون به مستر بلای- سفیر دولت انگلیس مقیم سن پترزبورگ تاریخی پنجم سپتامبر 1834 آمده است:
«با اعتراف به وصول مراسله مورخه ششم اگوست شما راجع به امور ایران و افغانستان لازم می باشد به شما دستور بدهم که یک موقع مناسب به دست آورده به دولت امپراتوری روسیه رضایت دولت اعلیحضرت پادشاهی انگلستان را به تصمیمی که شاهنشاه ایران برای تعیین محمد میرزا به مقام ولیعهدی مملکت ایران گرفته است خاطر نشان کنید.»
 
با توجه به آن چه که در بالا آمد، می توان چنین نتیجه گیری کرد:
1-              «افغانستان» به عنوان یک کلمه و اسم مکان، پیشینه تاریخی داشته و در گذشته برای گستره پشتون نشین وابسته به مضافات استان پیشاور– بیشتر مناطقی که اکنون در ایالت پشتونخواه پاکستان اند و نیز شماری از مناطق پشتون نشین کشور در حدود کوه های سلیمان اطلاق می گردیده است.
2-                                  امپراتوری درانی که از سوی احمدشاه درانی بنیادگذاری شد، به این نام خوانده نمی شده است.
3-              کلمه افغانستان برای نخستین بار در آثار انگلیسی در اثر فورستر در 1797 برای بخشی از گستره پشتون نشین امپراتوری درانی به کار رفته است.
4-              این نام از سوی ایرانیان بنا به روال معمول از اوایل سده نزدهم برای سرزمین امپراتوری درانی به گونه غیر رسمی به کار رفته است.
5-              از روی کتاب تاریخ روابط سیاسی ایران و انگلیس روانشاد محمود محمود چنین بر می آید که برای نخستین بار «افغانستان» در متن پارسی قرار داد 1801 میان پارس و انگلیس به کار رفته باشد و سپس هم در متن پارسی قرار داد سال 1808 پارس و انگلیس تکرار گردیده باشد. این در حالی است که در متن انگلیسی این قرار دادها چنین کلمه یی به کار نرفته است و با توجه به این که به گمان غالب روانشاد محمود محمود اصل قرار داد ها را در دسترس نداشته و از متن انگلیسی ترجمه نموده است، مادامی که اصل اسناد که به گمان غالب باید در بایگانی های دولتی ایرانی موجود باشند، دیده نشود، نمی توان گفت که آیا کلمه افغانستان در این قرار دادها به کار رفته است یا نه؟  
 
گمان بنده این است که در متن اصلی پارسی این قرار داد دو قرار داد کلمه افغانستان به کار نرفته باشد و آقای محمود محمود برای سهولت و درک بهتر خوانندگان کلمه افغانستان را به کار برده اند.
6-              الفنستون «افغانستان» را نامی مناسبت برای «سلطنت کابل» دانسته است و آن را در کتاب گزارش سلطنت کابل خود به کار بسته است. (1814). در این حال او می نویسد که این نام را ایرانی ها بر سرزمین افغان ها گذاشته اند.
7-              در نیمه نخست سده نزدهم تا سال 1838 اطلاق «افغانستان» بر مجموع سردار نشین های افغانی بازمانده از امپراتوری درانی (هرات، قندهار، کابل و پیشاور ) در داخل سرزمین ما رواج نداشته و در اسناد رسمی افغانی به کار نرفته است.
8-                                  در اواخر دهه سوم این سده و دقیق تر دو، سه بار از سوی امیر دوست محمد خان، آن هم نه برای همه سردار نشین ها، بل تنها بخشی از آن به کار رفته است.
9-              در اسناد دیپلماتیک ایرانی، این کلمه در اواخر دهه سوم سده نزدهم به کرات دیده شده است که در مفاهیم گوناگون به کار رفته است. گاهی برای توصیف همه سردار نشین ها و گاهی هم مانند مفهوم گذشته برای بخشی از منطقه پشتون نشین که شامل هرات و قندهار و کابل نمی شده است. مگر به هر حال عمومیت چندانی نداشته است.
10-              در آثار روسی گمان نمی رود که پیش از سال 1838 به کار رفته باشد. روس ها قطعا تنها پس از انگلیسی ها این کلمه را به کار برده اند. با این هم، باید در این راستا کار بیشتری انجام شود تا دیده شود که در کدام سند برای نخستین بار این نام و در کدام مفهوم به کار رفته است.
11-            این نام برای کشور ما در سیمای کنونی و در چهارچوب تقریبی مرزهای کنونی پس از به امارت رسیدن شیرعلی خان در داخل کشور عام شد و پس از آن در همه اسناد دیپلماتیک کاربرد پیدا کرد. در این حال هنوز در میان عوام شهرت پیدا نکرده بود.
12-            این نام برای نخستین بار در نیمه دوم سده نزدهم به روی نقشه های سیاسی جهان برای کشور ما در سیمای کنونی به کار برده شد. (نگاه شود به پروفیسور داکتر لعل زاد، مقاله چگونگی ایجاد کشوری به نام افغانستان، در سایت انترنتی «خاوران»)
13-            مهندسی سیاسی ظهور چنین کشوری از سوی انگلیسی ها صورت گرفته بود که برای حفظ متصرفات هندی خود، نیاز داشتند میان متصرفات آسیای میانه یی روسیه تزاری و پارس منطقه یی حایل ایجاد کنند. از این رو، این نام را هم در واقع انگلیسی ها بر این کشور گذاشتند که بار نخست آن را الفنستن آن را پیشنهاد نموده بود.
14-            شماری از پژوهشگران چنین می پندارند که با توجه به پیشینه تاریخی و فرهنگی، این نام نمی تواند معرف و بازتابگر کلیت هویت ملی و فرهنگی ما باشد و با گذشته پربار ما پیوند ارگانیک ندارد و صرف نام بخشی از کشور است، نه کل آن که از سوی انگلیسی ها بنا به دلایل سیاسی بر آن گذاشته شده است و رشته های ما را با گذشته تاریخی و فرهنگی ما و افتخارات ما و ارثیه بزرگ فرهنگی– تمدنی ما می ُبرد و سر درگمی های بسیاری را می آفریند. از این رو، طبیعی ترین نام برای کشور ما «ایران شرقی» می باشد و بایسته است تا در آینده به این نام تغییر یابد.

                                       ام اس ام
لینک      نظرات ()      

وضعیت زبان فارسی ونظریات استادان دانشگاه نویسنده: م.و.ر - ۱۳۸٩/۸/۳


در گفتگویی با استادان دانشکده ادبیات دانشگاه کابل: تهاجم واژگانی و وضع زبان فارسی در افغانستان


جایگاه زبان فارسی در دنیای امروز در کجاست و آیا زبان فارسی قدرت جذب دانش جدید بشری را دارد؟

استاد یمین: زبان فارسی، پیشینه بسیار قوی و نیرومند دارد و در جامعه امروزی هم بنابر همان پایه قوی گذشته خود نیرومند است. و این البته علت دارد. یکی از علت‌هایش این است که زبان فارسی از گذشته تا امروز محدود به همان محدوده خاستگاهش نبوده، حتا در ساحه کلان‌تری انتشار یافته و فراگیر شده. ما اگر از آغاز پیدایشش در نظر بگیریم نخستین بار در آریانای گذشته و در خراسان پس از اسلام شروع شد و بعدها به شرق و به غرب نیز راه یافت. 
به طور مثال از همان دوره صفاری‌ها زبان اداری شد و تا حدود هند رفت. یعقوب لیث تا حدود گندهارا فتوحاتش  گسترده بود و در وقت سامانی‌ها در شمال، غیر از فرارود در اطراف و جوانبش زبان‌های دیگر را نیز تحت تسلط درآورد و در غرب تا عراق عجم و عراق فراگیر شد، همچنین در زمان غزنویان هندوستان را فتح کرد و زبان رسمی شد. در آن زمان لاهور را غزنی کوچک می‌گفتند و در نیم‌قاره هند و هسته اصلیش که در زمان صفاری‌ها بنا نهاده شده بود، تمام هندوستان را فرا گرفت. در چندین دولت مثل دکن، بنارس، دهلی و شمال و جنوب و شرق هند چندین دربار بود که زبان رسمی‌شان فارسی بود، به همین سبب قدرت فراگیرش از گذشته است. از هند به طرف جنوب شرق آسیا امروز کلمات زیادی را در اندونیزی می‌بینیم. زبان فارسی توسط سلجوقی‌ها به ترکیه رفت و 300 سال زبان رسمی بود و به شرق اروپا رفت. در رومانیا و کشور‌های بالکان هنوز هم در زبان‌شان کلمات فارسی را می‌توانید دریابید.

امروز هم به اساس همان گذشته نیرومندش در حال نیرو گرفتن است و می‌رود که جایگاه بین‌المللی پیدا کند. امروز اگر تمام کشور‌ها می‌شناسندش به واسطه دانشمندان این زبان بوده است در عرصه‌های عرفان، فلسفه، ریاضی و منطق که آثار‌شان مورد استفاده دنیای دیگر بوده‌اند. امروز از طریق فردوسی و مولانا در اروپا این زبان را می‌شناسند، از آثار سنایی غزنوی و سایر آثاری‌که در زمینه‌های مختلف در این زبان پدید آمده است، همچنین از طریق ابن سینا که کتاب‌هایش برای چندین دهه در اروپا و سایر جاها کتاب درسی بود. به این اساس می‌گوییم که زبان فراگیر است.

شما که استاد دستور هستید، گفته می‌شود که دستور زبان فارسی انعطاف‌پذیر است. بر این اساس در تعاملات زبانی توانسته است واژه‌های زبان‌های بیگانه را به راحتی جذب کند. آیا این سیل واژگانی را که به زبان فارسی اکنون سرازیر می‌شوند در خود حل کرده می‌تواند؟ یا لحن را، مثلا در سریال‌ها به نحوی زبان‌های دیگر وارد شده است. نظر شما درباره تهاجم زبانی چیست؟ آیا زبان فارسی زیر خطر است؟  

استاد یمین: باید بدانیم که زبان‌ها از لحاظ نوعی، تصریفی و پیوندی است و برخی هم تک‌هجایی‌اند اما زبان‌های صرفی و پیوندی یعنی کلمات می‌توانند با ترکیب‌های مختلف برای هرنوع مفاهیم کلمه بسازند، ما کلمه‌های تیره و شفاف داریم. کلمات تیره کلماتی مثل سنگ و دیوار است که از قدیم بوده‌اند و دلیل هم ندارند اما این‌که زبان فارسی انکشاف کرده دلیلش این بوده که برای هر مفهومی می‌تواند کلمه بسازد یعنی کلمات ساخته شده همه شفاف‌اند. 

کلمات خارجی را می‌توانیم با ترکیب، بومی بسازیم و مفاهیم را هم انتقال بدهیم، به این اساس زبان فارسی قدرت این را دارد که برای هر کلمه ترکیب بسازد. اما امروز کلمات وامی یا قرضی را که وارد می‌شوند اگر بررسی بکنیم برای این کلمات هم زبان فارسی قدرت کلمه‌سازی دارد. اگر کسی کلمه را می‌گیرد دلالت بر ضعف استفاده‌کننده می‌کند و باید برایش ترکیبی از خود زبان ساخته شود. ببینید ما کلمات زیادی ساختیم. مثلا آله‌ای است که آن را «موی خشک‌کن» می‌گوییم که در انگلیسی دیگر چیز است  یا «دوربین» یا «ذره‌بین» که  تخنیکی‌اند و برای تمامش معادل داریم. مثل این‌ها ده‌ها کلمه است که می‌توان برای‌شان کلمات شفاف ساخت. ذره‌بین خودش کلمه شفاف است. این زبان در کلمه‌سازی بسیار قدرت‌مند است. در سریال‌ها و ان‌جی‌او‌ها کسانی که مترجم استند و با زبان این‌گونه برخورد می‌کنند، بیانگر این است که ذخیره لغوی‌شان ضعیف است و قدرت استفاده از زبان را ندارند وگرنه می‌شود در برابر هر کلمه، کلمه نو ساخت. 

اما برخی کلمات بین‌المللی در هرزبان قابل فهم‌اند، مثل کلمه ترافیک که هرچند می‌شود برایش معادل ساخت ولی در تمام دنیا معمول است.  اما امروز که به جای لغات فارسی در ان‌جی‌او‌ها یا منابع رسانه‌ای کلمات بیگانه به کار می‌برند، دلالت بر عدم توانایی‌شان در استفاده از زبان می‌کند. اگر بر زبان مسلط باشند این کار را نمی‌کنند و این نوعی خیانت به زبان است چرا که کلمه اصلی در اثر این عمل از استعمال می‌برآید.

پیشنهاد مشخص شما چیست؟ و در این زمینه دانشکده زبان و ادبیات چه فعالیت‌ها و پیشنهاداتی داشته است؟

استاد یمین: باید بر تمام برنامه‌ها و فعالیت‌های رسانه‌ای و فرهنگی کنترول وجود داشته باشد. در دیپارتمنت روی این مساله کار می‌شود. مضمونی به نام «واژه‌شناسی» واژه، تغییر لفظ و معنا و انواع کلمه‌ها و ساختن کلمه‌ها  را بررسی می‌کند. همچنین آثاری هست که توسط استادان در مورد ساختار واژه تالیف شده‌اند؛ مثلا کتاب «واژه گزینی در زبان فارسی دری،... 
راهکارها...» برای کسانی که واژه می‌سازند  قالب واژه ساختن را می‌شناساند. باید یک بار به شعر معاصر کشور مراجعه شود چون جوانان و سخنوران معاصر ما در ترکیب‌سازی و ورود ترکیب‌های نو به زبان خیلی مهارت دارند و همین ترکیب‌های نو است که شعر نو را قابل قبول کرده است. کسانی که در زبان قدرت دارند مثل شاعران کلمات نو را وارد زبان کرده‌اند، از همین کلمات و این کار‌ها فرهنگ ساخته می‌شود. آنهایی که کلمات بیگانه  را به کار می‌برند از ضعف معلومات و ضعف زبانی رنج می‌برند.

مشخصا فاکولته ادبیات چه پیشنهادی در زمینه کرده است؟

استاد یمین: یک سال پیش یا دو سال پیش پیشنهادی شد که یک فرهنگستان از طرف دولت به همکاری دانشگاه کابل و آکادمی علوم افغانستان تشکیل شود. در این‌باره چند جلسه شد ولی نمی‌دانیم به کدام علت این نهاد تشکیل نشد. حضور این نهاد برای کار برای زبان‌ها و لهجه‌های افغانستان بسیار مهم است. امروز در افغانستان روی لهجه‌ها کار نشده است. کلمات اصیل در لهجه‌ها حفظ شده و باید از آن  به جای یک کلمه خارجی استفاده شود.

در زمینه حفظ و بالندگی زبان‌ها آیا حکومت برنامه‌هایی انجام داده است؟

استاد اشراقی: اول، نیازی برای تشخیص این مساله در نزد هیچ نهادی وجود ندارد، ثانیا، مرجعی هم وجود ندارد که صلاحیت این نظارت را داشته باشد.
اگر من به جای وزیر اطلاعات و فرهنگ بودم، کمیسیون باصلاحیتی برای نظارت بر نطاق‌ها و بررسی سواد و ظرفیت‌شان ایجاد می‌کردم. وزارت فرهنگ باید برای تغییر لوحه‌ها به زبان‌های خارجی جدا کار کند. منتظر این تغییر با حضور  سید مخدوم رهین بودیم که خود استاد زبان فارسی است ولی این امید ما هم برآورده نشد.

چگونه می‌شود از گسترش این بحران جلوگیری کرد؟

استاد اشراقی: وزارت فرهنگ نسبت به وضعیت زبان فارسی در رسانه‌ها بی‌تفاوت است. کمیسیونی یا مرکزی وجود ندارد که رسانه‌ها را نظارت بکند. در ترجمه سریال‌ها و فلم‌ها و هم‌چنین به لحاظ کاربرد، وضع زبان وخیم است. به خصوص در ترجمه سریال‌ها این وضع زیاد وخیم است. این مشکل در دانشکده ادبیات نیز وجود دارد. استادی که نگارش درس می‌دهد، نگارش نمی‌داند. در ادبیات فارسی کار جدی برای بهبود زبان فارسی صورت نگرفته و حتا اشخاصی هستند که سد راه تحول دیپارتمنت‌اند. شماری از استادان حتا صلاحیت رفتن به صنف را ندارند. 

این مشکل، یک مشکل زیربنایی است و از نهاد‌های آموزشی و تحصیلی شروع می‌شود، در مکاتب، کتاب‌های درسی، نهاد‌های تعلیمی و تحصیلی به زبان، توجه نمی‌شود. مشکل اصلی در استادان زبان در مکاتب است. نطاق‌ها سواد عادی خواندن مطالب عادی را ندارند.

جایگاه زبان فارسی چگونه است؟ چرا ما باید از زبان فارسی مواظبت کنیم؟

استاد نیستانی: در عرف سیاسی ما چیزی به نام نوامیس ملی است، به نگاه ما زبان فارسی جزو اساسی ناموس ملی ماست، حالا شرایطی پیش آمده که تحت تاثیر گرایش‌هایی که رو به «جهانی شدن» دارند گمان می‌کنند دیگر شاید برای مساله ارزش‌های ملی جای نباشد، نه تنها به زبان فارسی که به اجزای دیگر فرهنگ ماهم توجه نمی‌شود.

عوامل آسیب‌پذیری زبان فارسی و آسیب‌هایی که از این ناحیه بر مجموعه فرهنگ ما و هستی ملی ما وارد می‌آید، بسیار ویرانگر خواهد بود. گمان می‌کنم  حکومت فعلی و حامیان خارجی‌اش هرگز به مسایل فرهنگی و زبانی ما حرمت نمی‌گزارند- امریکا، انگلیس و دست نشانده‌های‌شان چه علاقه‌ای به زبان فارسی دارند؟ از این‌رو من به همه نخبگان فرهنگی این سرزمین، به آنانی که روی وجدان ملی‌شان گرد ننشسته است، به همه دست اندرکاران آموزش زبان و ادبیات فارسی پیشنهاد می‌نمایم که به هر شکل ممکن دست به کار شوند ویک نهاد فرهنگی «بنیاد پشتیبانی از زبان فارسی» را ایجاد کنند که زبان فارسی در کشور ما بار انتقال کل دانش و فن‌آوری و فرهنگ مدرن بشری را به دوش دارد. 

بدون زبان فارسی  هیچ ممکن نیست که به این زمینه‌ها و ابزار جدید دسترسی پیدا کنیم و بدون هرگونه ملاحظه‌ای پا پیش بگذارند. چراکه اگر گندگی‌ها زیاد شود، پسان‌ها باز هیچ کسی به آسانی این فاجعه فرهنگی را مهار کرده نمی‌تواند. تاکید می‌کنم که پشتیبانی از زبان فارسی و تقویت آن در مرحله فعلی فقط از خویش‌کاری مردم فارسی‌زبان است. پشتیبانی از زبان فارسی پشتیبانی از علم و دانش، فرهنگ و معنویت تاریخی- اسلامی ما می‌باشد. پشتیبانی از زبان فارسی، پاسداری از ناموس ماست.
 
                                     از ٨ صبح
لینک      نظرات ()      

زندانی در تبعید نویسنده: م.و.ر - ۱۳۸٩/۸/۳

پرنده‌گانِ جادویی

در حاشیه دوازده سال تبعید، دوازده سال زندانِ م. فرهود

 

«تبعید برای من زندانِ ثانی است، اما با این تفاوت که اولی را خود انتخاب کرده ام و دومی را برایم انتخاب کرده‌اند.»

این نگاهِ یک زندانیِ در تبعید است.

در سوی دیگر، کسانی که از خیراتِ سرِ اشغالِ ارتشِ سرخ وتجاوز پاکستان در تاکستان، سرمستِ باده پناه‌گزینی غرب اند و در استنطاقِ سریال‌های شبانه بالیودی می‌گریند، معنای دو استنطاقِ در زندان و در تبعیدِ فرهود را  هرگز نمی‌دانند. آن‌ها نمی‌دانند که در کشورشان- به تناسب نفوس در قرن بیستم-  ضبط احوالات، استخبارات، اکسا، کام، خاد، بالاحصار، دهمزنگ، سرای موتی، ارگ، پل‌چرخی و... بیش از همه کشورهای آسیایی روشنفکر بلعیده است. آن‌ها از دعواهای کودکانه و چرند وپرندِ شبکه‌های تلویزیونی همزبان و کمزبانِ برون مرزی به قیمتِ وقتِ خود فکر می‌خرند وداد وستد می‌کنند.

ارهمین روست که زندانی ما گرامشی نمی‌شود، لورکا نمی‌شود، نهرو و ماندیلا نمی‌شود، هرچند توانی کم‌تر از آن‌ها ندارد.

لورکا را سربازانِ فرانکو تیرباران می‌کنند، ولی اسپانیا او را در زبان و زمان باز می‌آفریند.

نهرو به دخترش نامه می‌نویسد و ماندیلا به مردمش و هردو روی دست‌های مردم بالا می‌روند.

زندانی ما درست از درِ زندان به راهِ تبعید می‌افتد.

زندانیانِ ما نامه‌های‌شان را در دل می‌نویسند، زیرا حقِ قلم وکاغذ داشتن ندارند. شماری از آن‌ها با دلنوشته‌های شان برای همیشه می‌روند. شماری هرگز قلم به دست نمی‌گیرند. شماری هم خونبها می‌گیرند و در فرورفتنِ عمقِ ظرافت تغزل و قصیده ملک‌الشعرایی به اوجِ لذت می‌رسند و همه چیز را فراموش می‌کنند.   

برای کسی که  زندان« لبخند ستاره بود و آزمونِ پرواز» و آموختنِ چه گونه و دربرابر چه کسی ایستادن، به تسلیم تا پای جان می‌خندد. می‌ایستد. می‌ایستد و بازهم می‌ایستد. قلم به دست می‌گیرد ومی‌نویسد:

«زندانی کردن بیانِ استبداد و تکصدایی و سلطه‌گری و جاهلیت است

زندانی شدن بیانِ گسستن از سلطه‌پذیری وسللطه‌گری و جنایت است

زندان

حوضی‌ست که با خونِ دلِ زندانی پرمی‌شود

با سکوت زندانی

 بر مدار بسته خویش موج می‌زند

زندان لذت سرفرازانه زیستن است و ماندن

زندان- پرواز با بال‌های بسته است»

این زندانی پرتاب شده در تبعید است که حصارها و ساختاهای بسته را، حتا اگر مملو از بوی بهشت هم باشد، می‌شکند- برای هوای آزادی.

این زندانی پرتاب شده در تبعید است که نمی‌خواهد فرخی دیگر، عنصری دیگر و حتا حافظ، مولوی ونیمای دیگر باشد.

همین زندانی پرتاب شده در تبعید بر« فرهنگی که نافهمی در آن عیب نیست» می‌گرید و « جدایی جغرافیایی خود را در بازسازی و تداعی تأریخی بیدار می‌سازد.»

و همین زندانی پرتاب شده در تبعید است که«شوکرانِ تبعید را نه در جامِ مقدس که در جمجمه شک و نبرد» می‌نوشد.

وقتی شبِ یک زندانی با شبِ یک تبعیدی می‌آمیزد و از شبِ ملک‌الشعراء فاصله می‌گیرد و در شبِ شبگردِ چشم‌به‌راهی ادامه می‌یابد، دیگر شبی از شب‌های هزارو یک شب شهریارِ نه که شبِ شهرزاد، دنیازاد وشبِ آن قربانیِ هراسِ همخوابه‌گی مرگ خواهد بود.

شبِ زندانی در تبعید، شبِ متکثر از شمارِ ستاره است.

وقتی زندانی در تبعید قلم به دست می‌گیرد، آن آرزویش در برابر شکنجه‌گرِ زندان که نمی‌خواهد پس از بی‌هوشی باز چشمش در چشم جلاد بیفتد و می‌خواهد« کاش پرنده جادویی» شود،  تحقق می‌یابد.

قلمِ زندانی در تبعید، پرنده‌گانِ جادویی‌ می‌آفریند برای پروازهای رهایی و روشنایی.